آج کا نوجوان  بطور ایک اُمید  کے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالی کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں، نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتبِ تربیت کو مدنظر رکھتے ہیں۔ میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔ بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بُری عادتیں سکھا دیتے ہیں ابتداء میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں۔ تو ان کو تنبیہہ نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دِ ن بدن دلیر اور بے باک ہوتے جاتے ہیں۔“
(ملفو ظات جلد اوّل صفحہ 562 )

مزید پڑھیں

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ پس (اے جنّ و اِنس!) تم دونوں اپنے ربّ کی کس کس نعمت کا انکار کروگے

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَا بِشَیْئٍ مِنْ نِعْمَکَ رَبَّنَا نُکَذَّبُ فَلَکَ الْحَمْد
اے ہمارے ربّ! ہم تیری کسی بھی نعمت کا انکار نہیں کرتے۔ پس سب تعریف تیرے لیے ہے۔

مزید پڑھیں

جماعت احمدیہ کی صحافت اور روایتی صحافت میں فرق

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” اِس زمانہ میں خداتعالیٰ نے چاہا کہ سیف یعنی تلوار کا کام قلم سے لیا جائے اور تحریر سے مقابلہ کر کے مخالفوں کو پست کیاجائے۔ اس وقت جو ضرورت ہے و ہ یقیناً سمجھ لو سیف کی نہیں قلم کی ہے۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ59)

مزید پڑھیں

صحافت اور ذرائع اِبلاغ کی ضرورت اور اہمیت

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’اخبار قوم کی زندگی کی علامت ہوتا ہے۔ جو قوم زندہ رہنا چاہتی ہے۔ اسے اخبار کو زندہ رکھنا چاہئے اور اپنے اخبار کے مطالعہ کی عادت ڈالنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ آپ کو ان امور پر عمل کرنے کی توفیق بخشے۔‘‘
(الفضل 31دسمبر 1954ء)

مزید پڑھیں

جدید ایجادات کا درست اور برمحل استعمال

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں:
”آجکل انٹر نیٹ اور ای میل …کے بارے میں …غور کریں کہ کس طرح استعمال کرنا ہے، کس طرح زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس کے غلط استعمال جو ہورہے ہیں تو اس کا صحیح استعمال کیوں نہ کیا جائے۔“
(خطبہ جمعہ 22؍دسمبر 2006ء)

مزید پڑھیں

بہتان طرازی اور الزام تراشی۔ایک گنا ہِ کبیرہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ رہائی یافتہ مومن وہ لوگ ہیں جو لغو کاموں اور لغو باتوں اور لغو حرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو صحبتوں سے اور لغو تعلقات سے اور لغو جوشوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں۔‘‘
(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد سوم صفحہ359)

مزید پڑھیں

محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں ( پس منظر اور ضرورت )

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں:
’’ مَیں نے اپنی عمر میں سینکڑوں مرتبہ قرآن کریم کا نہایت تدبُّر سے مطالعہ کیا ہے اس میں ایک آیت بھی ایسی نہیں جو کہ دنیاوی معاملات میں ایک مسلم اور غیر مسلم میں تفریق کی تعلیم دیتی ہو۔ شریعت بنی نوع انسان کے لیے خالصتاً باعث رحمت ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے دلوں کو محبت ،پیار اور ہمدردی سے جیتا تھا۔ اگر ہم بھی لوگوں کے دلوں کو فتح کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔ قرآن کریم کی تعلیم کا خلاصہ یہ ہے سب سے محبت اور نفرت کسی سے نہیں ۔یہی طریق ہے دلوں کو جیتنے کا ۔اس کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں۔‘‘
( دورہ مغرب صفحہ 523)

مزید پڑھیں

انسان کی انسانيت کا تقاضا اپنے بھائی سے مُروَّت، احسان کا سلوک کرے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:
’’ تم جو ميرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم ہر شخص خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ہمدردی کرو اور بلا تميز ہر ايک سے نيکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 219)

مزید پڑھیں

ہم ایک ہیں!

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’ کسی جماعت کی ترقی کے لئے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے سب افراد آپس میں ایک ہو جائیں ۔ جب تک کوئی جماعت فرد واحد کی طرح نہیں ہوجاتی ترقی نہیں کر سکتی۔ خواہ وہ جماعت دینی ہو یا دنیوی کیونکہ تمام کامیابیوں اور ترقیوں کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ قاعدہ جاری کیا ہوا ہے کہ جب تک سا ری جماعت ایک نہ ہو جائے ، لڑنا جھگڑنا ، دشمنی، نفاق و حسد و کینہ ، بغض و عداوت کو چھوڑ نہ دے اس وقت تک ترقی نہیں کرے گی۔ ‘‘
(الفضل 10 ؍مئی 1992ء)

مزید پڑھیں