گھریلوجھگڑوں و عائلی تنازعات کی وجہ ۔ جھوٹ اور قولِ زور

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’بہت سے جھگڑے خاوند بیوی کے اس لئے ہو رہے ہوتے ہیں کہ بے اعتمادی کا شکار ہوئے ہوتے ہیں۔ عورت کو شکوہ ہوتا ہے کہ مرد سچ نہیں بولتا۔ مرد کو شکوہ ہوتا ہے کہ عورت سچ نہیں بولتی اور اس کوسچ بولنے کی عادت ہی نہیں اور اکثر معاملات میں یہ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہوتے ہیں کہ میرے سے غلط بیانی سے کام لیا یا مستقل ہر بات میں غلط بیانی کرتے ہیں یا کرتی ہے۔ پھر سچ پر قائم نہ رہنے کی وجہ سے بچوں پر بھی اثر پڑتا ہے اور بچے بھی جھوٹ بولنے کی عادت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ‘‘
(جلسہ سالانہ جرمنی خطاب از مستورات فرمودہ21؍ اگست2004ء)

مزید پڑھیں

وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بُت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجتَنِبُوا الرِّجسَ مِنَ الاَوثَانِ وَاجتَنِبُوا قَولَ الزُّورِیعنی بُتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پرہیز کرو ۔“
( نور القرآن نمبر2روحانی خزائن جلد9صفحہ403، تفسیر حضرت مسیح موعودؑ سورۃ الحج صفحہ373)

مزید پڑھیں

عہد شکنی نہ کرو

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں :
”کیا ہی خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو اپنے دلوں کو صاف کرتے اور اپنے دلوں کو ہر ایک آلودگی سے پاک کرلیتے ہیں اور اپنے خدا سے وفاداری کا عہد باندھتے ہیں کیونکہ وہ ہرگز ضائع نہیں کئے جائیں گے ۔ ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کیونکہ وہ خدا کے ہیں اور خدااُ ن کا۔ وہ ہر ایک بَلا کے وقت بچائے جائیں گے ۔“
( کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 19-20)

مزید پڑھیں

زُباں  کی کھیتی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’گالیاں دیتے ہیں اس کی تو مجھے پرواہ نہیں ہے۔ بہت سے خطوط گالیوں کے آتے ہیں جن کا مجھے محصول بھی دینا پڑتا ہے اور کھولتا ہوں تو گالیاں ہوتی ہیں۔ اشتہاروں میں گالیاں دی جاتی ہیں اور اب تو کھلے لفافوں پر گالیاں لکھ کر بھیج دیتے ہیں مگر ان باتوں سے کیا ہوتا ہے اور کیا خدا کا نور کہیں بجھ سکتا ہے؟ ہمیشہ نبیوں، راستبازوں کے ساتھ نا شکروں نے یہی سلوک کیا۔ مَیں بنی نوع انسان کا حقیقی خیرخواہ ہوں۔ جو مجھے دشمن سمجھتا ہے وہ خود اپنی جان کا دشمن ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 3 صفحہ126)

مزید پڑھیں

تربیتِ اولاد

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
’’قرآن مجید نے جو لَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ،کے الفاظ فرمائے ہیں اِن میں بھی اِسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اگر تم اپنے بچوں کی عمدہ تربیت اور اچھی تعلیم کا خیال نہیں رکھو گے تو گویا اِنہیں قتل کرنے والے ٹھہرو گے۔‘‘
(چالیس جواہرپارے صفحہ نمبر 65)

مزید پڑھیں

اسلامی مطمح نظر

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”ہر شخص کی کوئی نہ کوئی جہت ہوتی ہے۔ یا ہر شخص کا کوئی نہ کوئی نصب العین ہوتا ہے جس پر وہ اپنی تمام توجہات کو مرکوز کردیتا ہے اور جسے زندگی بھر اپنے سامنے رکھتا ہے اور پورے انہماک اور توجہ سے اُسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر لوگ تو اپنے مقاصد اپنے لئے خود تجویز کرتے ہیں ۔ لیکن ہم اُمّت محمدیہ پر رحم کرتے ہوئے خود ہی ایک بلند ترین مطمح نظر اُس کے سامنے رکھتے ہیں اور ہدایت دیتے ہیں کہ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ۔ تمہارا مطمح نظر یہ ہونا چاہئے کہ تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اس جگہ نیکیوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کی تحریک فرما کر اللہ تعالیٰ نے قومی ترقی کاایک عجیب گُر بتایا ہے۔ “
(تفسیر کبیر جلد 2صفحہ 253)

مزید پڑھیں

”استغفار کلیدِ ترقیاتِ روحانی ہے“ ( مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔ یہ لفظ غَفْر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں سو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغْفِرکی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔ لیکن بعداس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد لیا گیا کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈھانک لے۔ لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے۔“
(عصمتِ انبیاء علیھم السلام، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 671)

مزید پڑھیں

بد تر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں (تقریر نمبر3)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ
( مشکوٰۃ کتاب الادب)
یعنی جس شخص کے دل میں ذرہ بھر تکبّر ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں

بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں (تقریر نمبر 2)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لوگوں کے لیے آسانی مہیا کرو- ان کے لیے مشکل پیدا نہ کرو اور اچھی خبر ہی دیا کرو اور لوگوں کومایوس نہ کرو‘‘
(مسلم کتاب الجھاد(

مزید پڑھیں

”انسان ہونا، ہمارا انتخاب نہیں، قدرت کی عطا ہے“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”قرآن شریف کا یہ مقصد تھا کہ حیوانوں سے انسان بناوے اور انسان سے بااخلاق انسان بناوے اور با اخلاق انسان سے باخدا انسان بناوے “
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 329 )

مزید پڑھیں