تصویر اَور فوٹو میں فرق اور اِن کا مشرکانہ استعمال (تقریر نمبر5)
ایک شخص نے حضرت مصلح موعودؓ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فوٹو کا ذکر کیا اور عرض کیا لوگ کہتے ہیں یہ بُت پرستی ہے؟ اس کے جواب میں آپؓ نے فرمایا کہ
’’کیا بُت پرستی؟ کیا کسی کی شکل دیکھنا بُت پرستی ہے ۔ رہا یہ امر کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت ایسا نہیں ہوا اس وقت تو کیمرہ ایجاد بھی نہیں ہوا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس چیز سے منع کیا ہے وہ فوٹو نہیں بلکہ تصویر ہے۔ مصوّر انسانی جذبات کا اظہار تصویر میں دکھاتا ہے مگر فوٹو گرافر صرف شکل دکھاتا ہے۔ اس میں باطنی جذبات کا اظہار نہیں ہوتا۔ انبیاء کی تصویر اسی لیے ناجائز ہے کہ انبیاء کا کیریکٹر اپنے اندر گوناگوں خصوصیات رکھتا ہے اور ممکن ہی نہیں کوئی مصوّر ان کا نقشہ تصویر میں دکھا سکے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر نہیں بلکہ فوٹو ہے اور یہ محض شکل ہے۔ مصوّر کی غرض یہ ہوتی ہے کہ تصویر کے چہرے پر ایسے اثرات ڈالے جس سے اس انسان کے اخلاق پر روشنی پڑے اور انبیاء کے باطنی کمالات کا اظہار کوئی مصوّر نہیں کر سکتا۔ بالکل ممکن ہے ایک مصوّر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر کھینچے مگر آپ کے چہرے پر وحشت کا اثر ڈالے وہ تصویر تو ہو گی مگر لوگوں کے دلوں میں اس سے نفرت پیدا ہوگی۔ حدیث میں جو تصویر کا ذکر آ تا ہے اس سے مصوّر کی بنائی ہوئی تصویر ہی مراد ہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فوٹو آپ کی صورت کا عکس ہے اورعکس کو تو وہابیوں نے بھی جائز تسلیم کیا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے شیشہ میں انسان اپنی شکل دیکھے اور اگر عکس نا جائز ہے تو پھر شیشہ دیکھنا بھی جائز نہیں ہونا چا ہئے۔ اسی طرح پانی میں بھی عکس آ جا تا ہے مگر اسے کوئی نا جائز نہیں کہتا۔ ان میں اور فوٹو میں فرق صرف یہ ہے کہ فوٹو تو انسان کی شکل محفوظ رکھتا ہے مگر شیشہ یا پانی کا عکس محفوظ نہیں رہتا۔‘‘
(الفضل 14 اپریل 1931 صفحہ6،5 ۔ ماخوذاز فرمودات مصلح موعودؓ دربارہ فقہی مسائل)
