وصالُ النبی صلی اللہ علیہ وسلم

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ سے فرمایا تھا کہ
’’جبریل ہمیشہ رمضان میں ایک مرتبہ مجھ سے قرآن شریف کا دَور کیا کرتے تھے لیکن اِس سال دو مرتبہ کیا اور مَیں جانتا ہوں کہ یہ اِس لیے ہوا ہے کہ میری وفات قریب ہی ہونے والی ہے ۔ “
( بخاری فضائل القرآن )

مزید پڑھیں

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک دلنشین منظر(ازافاضات حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ )

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”خدا تعالیٰ نے جس طرح باطنی کمالات اُس بزرگ کو دیے تھے ظاہری خوبیاں بھی موجود تھیں۔ جس کی بناوٹ میں کوئی ایسا نقص نہ تھا کہ دیکھنے والے کو گھن آئے بلکہ مردانہ حسن و خوبصورتی سے اسے وافر حصہ ملا تھا جس کی وجہ سے انسان چہرے کو دیکھتے ہی ادب و محبت محسوس کرنے لگتا تھا۔ سچ ہے کہ خیالات انسان کے چہرہ پر بھی اثر ڈالنے لگتے ہیں۔ اُس بزرگ کا چہرہ ان تمام اندرونی نوروں کا شاہد تھا جو اس کے دل میں ایک وسیع سمندر کی طرح موجزن تھے۔ “

مزید پڑھیں

صحابیاتِ رسولؐ کی قربانیوں کے چند ایمان افروز واقعات ( بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ) (تقریر نمبر 2)

حضرت ام شریکؓ نے جب اسلام قبول کیا تو مشرک رشتہ داروں نے ان کو ان کے گھر سے پکڑ لیا اور ان کو ایک بدترین مست اور شریر اونٹ پر سوار کر دیا اور ان کو شہد کے ساتھ روٹی دیتے رہے اور پینے کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیتے تھے اور انہیں سخت دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے جس سے ان کے ہوش و ہواس جاتے رہے۔ انہوں نے تین دن تک یہی سلوک روا رکھا اور پھر کہنے لگے جس دین پر تم قائم ہواس کو چھوڑ دو۔ حضرت ام شریکؓ کہتی ہیں کہ مَیں ان کی بات نہ سمجھ سکی۔ ہاں چند کلمے سن لیے۔ پھر مجھے انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کر کے بتایا گیا کہ توحید کو چھوڑ دو۔ فرماتی ہیں ۔مَیں نے کہا اللہ کی قسم! میں توحید پر قائم ہوں چاہے مر جاؤں۔
(طبقات الکبریٰ جلد 8 صفحہ 123 )

مزید پڑھیں

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم قدوسیت کے مظہرِ اتم( حضرت مسیح موعودؑ کے افاضات کی روشنی میں)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا ہی قوتِ قدسیہ ہے کہ آپ پر ایمان لا کر صحابہ کرامؓ نے یک دفعہ ہی دنیا کا فیصلہ کر دیا ۔ جان سے بڑھ کر کیا شۓ ہوتی ہے ۔ اپنے خون سے دین پر مہریں لگا دیں ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد6صفحہ 76ایڈیشن1984ء )

مزید پڑھیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت ایک عظیم قائد

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”خبردار سن لو! تم میں سے ہر شخص اپنی رعایا کا نگہبان ہے اور قیامت کے دن اس سے اپنی رعایا سے متعلق بازپرس ہو گی۔ ‘‘
( سنن ابی داؤد حدیث 2928)

مزید پڑھیں

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت منتظم

ڈبلیو منٹگمری واٹ اپنی کتاب’’محمد ایٹ مدینہ‘‘ میں رقمطراز ہے:
’’جتنا ایک انسان محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی ابتدائی اسلام کی تاریخ پر غورکرتا ہے اتنا ہی وہ آپؐ کی وسیع کامیابیوں کو دیکھ کر محوحیرت ہوجاتا ہے۔ حالات نے آپؐ کو وہ موقع دیا جو بہت کم ہی کسی کو میسر آیا ہوگا تاہم آپؐ کی ذات زمانے کے جملہ تقاضوں پرپوری اُترتی تھی، غیب پر اطلاع پانے ،مدّبراور منتظم ہونے کے علاوہ اگر آپؐ کا اس بات پرمحکم ایمان نہ ہوتا کہ خدانے آپؐ کو بھیجا ہے تو انسانی تاریخ کا ایک قابل ذکر باب ضبط تحریر میں آنے سے رہ جاتا‘‘
(اسوۂ انسانِ کامل از حافظ مظفر احمد صفحہ 673)

مزید پڑھیں

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خصائل و فضائل اور عظمتیں(قرآن کریم کی روشنی میں)

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ (الاحزاب: 22)
کہ یقیناً تمہارے لئے اللہ کے رسول میں نیک نمونہ ہے ۔

مزید پڑھیں

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نورِ مجسم

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی وہ میرا نور ہے‘‘۔
(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الایمان ،حدیث نمبر 94)

مزید پڑھیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رؤیا، کشوف اور پیشگوئیاں

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ۔ اس دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہل بدر کے متعلق ایک حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا کہ جنگِ بدر سے ایک دن پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آگاہ فرمایا کہ ہٰذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللّٰہُ فلاں شخص کل یہاں قتل کیا جائے گا ان شاء اللہ ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ! جو جگہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے قتل کی مقرر کی تھی وہ اس سے ذرہ برابر بھی اِدھر اُدھر نہ ہوا ، یعنی بعینہٖ اسی جگہ پر قتل ہوا۔
( صحیح مسلم :2873)

مزید پڑھیں