حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اب بڑی تبدیلی کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ سے سچی صلح کے دن ہیں۔ بعض لوگ اپنی غلط فہمی اور شرارت سے اس سلسلہ کو بدنام کرنے کے لئے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض آدمی طاعون سے ہلاک ہوئے ہیں۔ مَیں نے بارہا اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ یہ سلسلہ منہاج نبوت پر واقع ہوا ہے۔ آنحضرت صلی.اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کفار پر جو عذاب آیا تھا وہ تلوار کا عذاب تھا۔ حالانکہ وہ اُن کے لئے مخصوص تھا۔ لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ صحابہؓ میں سے بعض شہید نہیں ہو گئے ؟ اسی طرح پر یہ سچ ہے کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض لوگ طاعون سے شہید ہوئے ہیں مگر یہ بھی تو دیکھو کہ طاعون کے ذریعہ سے ہمارا نقصان ہوا ہے یا دوسروں کا ؟ ہماری جماعت کی تو ترقی ہوتی گئی ہے اور ہو رہی ہے اور مَیں پھر کہتا ہوں کہ جو لوگ نافع الناس ہیں اور ایمان ، صدق و وفا میں کامل ہیں وہ یقیناً بچا لئے جائیں گے۔ پس تم اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کرو۔ اپنے رشتہ داروں اور بیوی بچوں کو بھی سمجھاؤ اور یہی تلقین کرو اور دوستوں کے ساتھ یہی شرط دوستی رکھو کہ وہ بدی سےبچیں۔
پھر مَیں یہ بھی کہتا ہوں کہ سختی نہ کرو اور نرمی سے پیش آؤ۔ جنگ کرنا اس سلسلہ کے خلاف ہے۔ نرمی سے کام لو اور اس سلسلہ کی سچائی کو اپنی پاک باطنی اور نیک چلنی سے ثابت کرو۔ یہ میری نصیحت ہے اس کو یاد رکھو ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔ آمین۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 239- 240)
