جُعِلَتْ اُمَّتِیْ خَيْرَ الْأُمَمِ (حضرت محمدؐ ) میری امت کو بہترین امت بنایا گیا ہے (تقریر نمبر10)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” وہ لوگ جو دین کے لئے وعظ کرتے ہیں ان کی بھی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں ایک وہ جو محض اِس لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں اور امر بالمعروف کا جو فرض ان کو ملا ہے اس کو ادا کریں۔ بنی نوع انسان کی بھلائی کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کریں اور اپنے آپ کو خیرِ اُمّت میں داخل ہونے کی فِکر ہوتی ہے جس کا ذکر یُوں کیا گیا ہے کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ (الآیہ )تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہو امر بالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر … مَیں دُنیا پرست واعظوں کا دشمن ہوں کیونکہ ان کی اغراض محدود ، ان کے حَوصلے چھوٹے ، خیالات پَست ہوتے ہیں جس واعظ کی اغراض دینی ہوں وہ ایک ایسی زبردست اور مضبوط چٹان پر کھڑا ہوتا ہے کہ دُنیوی وعظ سب اس کےاندر آجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک اَمر بالمعروف کرتا ہے ۔ ہر بھلی بات کا حکم دینے والا ہوتا اور ہر بُری بات سے روکنے والاہوتا ۔“
(الحکم 17 مارچ 1903۔ صفحہ:14-15)
