نَونِہالانِ جماعت
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
بہادر وہ نہیں جو کُشتی میں کسی کو بچھاڑے مگر بہادر وہ ہے جو غصّہ پر قابو کرے۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
بہادر وہ نہیں جو کُشتی میں کسی کو بچھاڑے مگر بہادر وہ ہے جو غصّہ پر قابو کرے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”یہ مومن کا کام ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو جب پڑھے، آپ کے اُسوۂ حسنہ کو جب دیکھے تو جہاں اس پر عمل کرنے اور اسے اپنانے کی کوشش کرے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجے کہ اس محسنِ اعظم نے ہم پر کتنا عظیم احسان کیا ہے کہ زندگی کے ہر پہلو کو خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق عمل کرکے دکھا کر اور ہمیں اس کے مطابق عمل کرنے کا کہہ کر خدا تعالیٰ سے ملنے کے راستوں کی طرف ہماری رہنمائی کر دی۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے معیار حاصل کرنے کے راستے دکھا دئیے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرنے کی ذمہ داری کا احساس مومنین میں پیدا کیا جس سے ایک مومن خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سب باتیں تقاضا کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہوئے ہم دنیا کو بھی اس تعلیم اور آپ کے اُسوہ سے آگاہ کریں۔ آپ کے حسن و احسان سے دنیا کو آگاہ کریں۔ جب بھی غیروں کے سامنے آپ کی سیرت کے پہلو آئے تو وہ لوگ جو ذرا بھی دل میں انصاف کی رمق رکھتے تھے، وہ باوجود اختلافات کے آپ کی سیرت کے حسین پہلوؤں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔“
(خطبہ جمعہ 5؍ اکتوبر 2012ء)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”مسلمانوں کے سب سے بہتر ہونے کی یہ وجہ ہے کہ انہیں اپنے فائدہ کی بجائے سب دنیا کے فائدہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ کاش! مسلمان اس حکمت کو سمجھیں اور اس طرح ذلیل نہ ہوں۔ “
( تفسیر صغیر سورۃ آل عمران ۔ حاشیہ آیت 111)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’انسان کو دقائق تقویٰ کی رعایت رکھنی چاہئے۔ سلامتی اسی میں ہے کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا نہ کرے تو پھر ایک دن وہی چھوٹی چھوٹی باتیں کبائر کا مرتکب بنادیں.گی اور طبیعت میں کسل اور لاپروائی پیدا ہوکرہلاک ہو جائے گا ۔ تم اپنے زیرِ نظر تقویٰ کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کرنا رکھو اور اس کے لئے دقائقِ تقویٰ کی رعایت ضروری ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 442 ایڈیشن 2003ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام قولِ سدید کی تشریح میں فرماتے ہیںکہ
’’وہ بات منہ پر لاؤ جو بالکل راست اور نہایت معقولیت میں ہو اور لغو اور فضول اور جھوٹ کا اس میں سرِمُو دخل نہ ہو۔‘‘
(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1صفحہ209-210حاشیہ نمبر11)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ۔
”توحید ایک نور ہے جو آفاقی وانفسی معبودوں کی نفی کے بعد دل میں پیدا ہوتا ہے اور وجود کے ذرّہ ذرّہ میں سرایت کر جاتا ہے پس وہ بجز خدا اور اُس کے رسول کے ذریعہ کے محض اپنی طاقت سے کیونکر حاصل ہو سکتا ہے انسان کا فقط یہ کام ہے کہ اپنی خودی پر موت وارد کرے اس شیطانی نخوت کو چھوڑ دے کہ مَیں علوم میں پرورش یافتہ ہوں اور ایک جاہل کی طرح اپنے تئیں تصوّر کرے اور دعامیں لگا رہے تب توحید کا نور خدا کی طرف سے اُس پر نازل ہوگا اور ایک نئی زندگی اُس کو بخشے گا۔“
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 148)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’ہمارے خدا میں بے شمار عجائبات ہیں مگر وہی دیکھتے ہیں جو صدق اور وفا سے اس کے ہو گئے ہیں۔ وہ غیروں پر جو اس کی قدرتوں پر یقین نہیں رکھتے اور اس کے صادق وفادارنہیں ہیں وہ عجائبات ظاہر نہیں کرتا۔ کیا بدبخت وہ انسان ہے جس کو اب تک یہ پتہ نہیں کہ اُس کا ایک خدا ہے جو ہر ایک چیز پر قادر ہے۔ ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ ہماری اعلیٰ لذّات ہمارے خدا میں ہیں۔ کیونکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اُس میں پائی۔ یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔ اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ مَیں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں۔ کس دَفْ سے مَیں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سُن لیں اور کس دوا سے مَیں علاج کروں تا سُننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں۔‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 21۔ 22)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں :
’’آج انسان سائنس میں بڑی ترقی حاصل کرچکا ہے ۔ یہ ترقی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے بیان کر دی تھی کہ انسان دنیا میں ہر علم میں ترقی کرے گا لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیرنہیں ہوسکتا۔ہر چیز جو دنیا میں موجود ہے چاہے اس کا علم ہمیں ہے یا نہیں وہ خداتعالیٰ کی پیدا کردہ ہے اور پھر انسان پر اس رب العالمین کا یہ احسان ہے کہ جو چیزیں بھی خداتعالیٰ نے پیدا کی ہیں اس کو اشرف المخلوقات کے لئے فائدہ مند بنایا تاکہ وہ ان سے فائدہ اٹھا سکے۔ اور جوں جوں دنیا تحقیق کے ذریعہ خداتعالیٰ کی مختلف قسم کی پیدائش کے بارہ میں علم حاصل کر رہی ہے اس میں انسانی فوائد واضح طور پر نظر آتے چلے جا رہے ہیں۔ “
(خطبہ جمعہ 18؍ جون 2004ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’جب مَیں ان بڑے بڑے اجرام کو دیکھتا ہوں اور ان کی عظمت اورعجائبات پر غور کرتا ہوں اور دیکھتا ہوں کہ صرف ارادۂ الٰہی سے اور اس کے اشارہ سے ہی سب کچھ ہوگیا تو میری رُوح بے اختیار بول اُٹھتی ہے کہ اے ہمارے قادر خدا! تو کیا ہی بزرگ قدرتوں والا ہے تیرے کام کیسے عجیب اور وراء العقل ہیں۔ نادان ہے وہ جو تیری قدرتوں سے انکار کرے اور احمق ہے وہ جو تیری نسبت یہ اعتراض پیش کرے کہ اس نے ان چیزوں کو کس مادّہ سے بنایا؟‘‘
(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ425 حاشیہ)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’وہ عالِمُ الشہادۃ ہے یعنی کوئی چیز اس کی نظر سے پردہ میں نہیں ہے۔ یہ جائز نہیں کہ وہ خدا کہلا کر پھر علم اشیاء سے غافل ہو۔ وہ اس عالم کے ذرہ ذرہ پر اپنی نظر رکھتا ہے لیکن انسان نہیں رکھ سکتا۔ وہ جانتا ہے کہ کب اس نظام کو توڑ دے گا اور قیامت برپا کر دے گا اور اس کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہوگا؟ سو وہی خدا ہے جو ان تمام وقتوں کو جانتا ہے۔ پھر فرمایا ھُوَ الرَّحْمٰن یعنی وہ جانداروں کی ہستی اور ان کے اعمال سے پہلے محض اپنے لطف سے نہ کسی غرض سے اور نہ کسی عمل کے پاداش میں ان کے لئے سامان راحت میسر کرتا ہے۔ جیسا کہ آفتاب اور زمین اور دوسری تمام چیزوں کو ہمارے وجود اور ہمارے اعمال کے وجود سے پہلے ہمارے لئے بنا دیا۔ اس عطیہ کا نام خدا کی کتاب میں رحمانیت ہے۔ اور اس کام کے لحاظ سے خدائے تعالیٰ رحمن کہلاتا ہے۔“
( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد10صفحہ372)