ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’اسی طرح افطاری میں تنوع اور سحری میں تکلفات بھی نہیں ہونے چاہئیں اور یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ سارا دن بھوکے رہے ہیں اب پُرخوری کرلیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام ؓ افطاری کے لئے کوئی تکلفات نہ کرتے تھے ۔ کوئی کھجور سے، کوئی نمک سے ، بعض پانی سے اور بعض روٹی سے افطار کر لیتے تھے۔ ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اس طریق کو پھر جاری کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے نمونہ کو زندہ کریں۔ ‘‘
(تفسیر کبیر ۔ سورۃ البقرہ زیر آیت 186 )

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’رمضان کا مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خاص برکات اور خاص رحمتیں لے کر آتا ہے۔ یوں تو اللہ تعالیٰ کے انعام اور احسان کے دروازے ہر وقت ہی کھلے رہتے ہیں اور انسان جب چاہے ان سے حصہ لے سکتا ہے صرف مانگنے کی دیر ہوتی ہے ورنہ اس کی طرف سے دینے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ خداتعالیٰ اپنے بندہ کو کبھی نہیں چھوڑتا۔ ہاں بندہ خداتعالیٰ کو چھوڑ کر بعض دفعہ دوسروں کے دروازہ پر چلا جاتا ہے… سو اس رحیم و کریم ہستی سے تعلق پیدا کرنا کوئی مشکل امر نہیں۔ ہر گھڑی رمضان کی گھڑی ہوسکتی ہے اور ہر لمحہ قبولیت دعا کا لمحہ بن سکتا ہے۔ اگر دیر ہوتی ہے تو بندہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ لیکن یہ بھی اس کے احسانات میں سے ہی ہے کہ اُس نے رمضان کا ایک مہینہ مقرر کر دیا تاکہ وہ لوگ جو خود نہیں اٹھ سکتے ان کو ایک نظام کے ماتحت اٹھنے کی عادت ہو جائے اور ان کی غفلتیں اُن کی ہلاکت کا موجب نہ ہوں۔‘‘
)تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 382-383)

مزید پڑھیں

ماہ ِ رمضان اور سورج و چاند گرہن (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’سورج گرہن کو دیکھ کر یہ فائدہ اٹھانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو سورج بھی کہا ہے اور قمر بھی کہا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہر سے باطن کی طرف جائے۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دیکھا کہ سورج کی روشنی جو دنیا کو پہنچتی ہے وہ رک گئی تو آپ گھبرا اٹھے کہ کہیں ہماری روشنی اور ہمارا فیضان اِس طرح کم نہ ہوجائے اور رک نہ جائے۔ گھبراہٹ کے وقت دعا اور تضرّع اور خیرات و صدقہ سے کام لینا چاہیے۔ لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا، تضرّع، خیرات اور صدقہ سب سے کام لیا اور دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور آپ کی روشنی بلا انقطاع قیامت تک دنیا میں رہنے والی ہے۔ اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے اس کی تجدید ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔
فرمایا۔ کسوف خسوف خدا تعالیٰ کے نشانات میں سے ہے جو بندوں کو دکھایا جاتا ہے اور سمجھایا جاتا ہے کہ بڑی بڑی روشن چیزیں جو ہیں ان کو بھی خدا تعالیٰ تاریک کرسکتاہے۔‘‘
( ارشاداتِ نور جلد دوم صفحہ 499)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’مریض اور مسافر کے لئے قضاء رمضان علٰی الاتصال ضروری نہیں جب چاہے بتدریج عدّت کو پوری کرے۔ جولائی کے روزے دسمبر میں رکھ سکتا ہے یہی شرع اسلام کا حکم ہے۔ یہی معمول امام کا تھا۔‘‘
(ارشاداتِ نور جلد دوم صفحہ47)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”غرض روزہ جو رکھا جاتا ہے تو اس لئے کہ انسان متقی بننا سیکھے۔ ہمارے امام فرمایا کرتے ہیں کہ بڑا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جس نے رمضان تو پایا مگر اپنے اندر کوئی تغیر نہ پایا۔ پانچ سات روزے باقی رہ گئے ہیں۔ ان میں بہت کوشش کرو اور بڑی دعائیں مانگو۔ بہت توجہ الی اللہ کرو اور استغفار اور لاحول کثرت سے پڑھو۔ قرآن مجید سن لو، سمجھ لو، سمجھا لو۔ جتنا ہو سکے صدقہ اور خیرات دے لو اور اپنے بچوں کو بھی تحریک کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور تمہیں توفیق دے۔ آمین“
(خطبات نور صفحہ265)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’حضرت جبرائیل قرآن شریف کا دور رمضان میں کیا کرتے تھے ۔ مَیں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ ہر رمضان شریف میں قرآن مجید کا دور خصوصیت سے کیاکریں ۔‘‘
( ارشادات نور جلد سوم صفحہ442)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”کوئی شبہ نہیں کہ ظلماتِ جسمانیہ کے دُور کرنے کے لئے روزہ سے بہتر اور افضل کوئی عبادت نہیں اور انوار و مکالماتِ الٰہیہ کی تحصیل کے لئے روزہ سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں“
(خطباتِ نور صفحہ 230)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 4)

حضرت اقدس مسیح موعودؑنے لیلۃالقدر کے تین معنی بیان فرمائے ہیں۔ آپؑ فرماتےہیں:قرآن شریف میں جو لیلۃُ القدر کا ذکر آیا ہے کہ وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ یہاں لیلۃُ القدر کے تین معنی ہیں۔اوّل تو یہ کہ رمضان میں ایک رات لیلۃالقدر کی ہوتی ہے۔دوم یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ بھی ایک لیلۃالقدر تھا یعنی سخت جہالت اور بے ایمانی کی تاریکی کے وہ زمانہ میں آیا جبکہ ملائکہ کا نزول ہوا۔کیونکہ نبی دنیا میں اکیلا نہیں آتا۔ بلکہ وہ بادشاہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ لاکھوں کروڑوں ملائکہ کا لشکر ہوتا ہے۔ جو ملائک اپنے اپنے کام میں لگ جاتے ہیں اور لوگوں کے دلوں کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں ۔سوم۔ لیلۃُ القدر انسان کے لئے اس کا وقت اصفیٰ ہے۔ تمام وقت یکساں نہیں ہوتے۔ بعض وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عائشہؓ .کو کہتے ہیں کہ اَرِحْنَا یَا عائشہ یعنی اے عائشہؓ! مجھ کو راحت و خوشی پہنچا اور بعض وقت آپ بالکل دعا میں مصروف ہوتے۔
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 336)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 3)

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں :
’’فدیہ دے دینے سے روزہ اپنی ذات میں ساقط نہیں ہو جا تا بلکہ یہ محض اِس بات کا فدیہ ہے کہ ان مبارک ایام میں وہ کسی جائز شرعی عذر کی بناء پر باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر یہ عبادت ادا نہیں کر سکے ۔ آگے یہ عذر دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک عارضی اور ایک مستقل ۔ نديد بشرط استطاعت ان دونوں حالتوں میں دینا چاہئے ۔ غرضیکہ خواہ کوئی فدیہ بھی دے دے بہر حال سال دو سال یا تین سال کے بعد جب بھی اُس کی صحت اجازت دے اُسے پھر روزے رکھتے ہوں گے ۔ سوائے اس صورت کے کہ پہلے مرض عارضی تھا اور صحت ہونے کے بعد ارادہ ہی کرتا رہا کہ آج رکھتا ہوں کل رکھتا ہوں کہ اس دوران میں اس کی صحت پھر مستقل طور پر خراب ہو جائے ۔ باقی جو بھی کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا ہوا گر وہ مریض یا مسافر ہے تو اُس کے لئے ضروری ہے کہ رمضان میں ایک مسکین کا کھانا بطور فدیہ دے اور دوسرے ایام میں روزے رکھے ۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مذہب تھا اورآپ ہمیشہ فدیہ بھی دیتے تھے اور بعد میں روزے بھی رکھتے تھے اور اسی کی دوسروں کو تاکید فرمایا کرتے تھے۔“
( تفسیرکبیر جلد 2 صفحہ 389)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریرنمبر 2)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب تحریر کرتے ہیں کہ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ لدھیانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رمضان کا روزہ رکھا ہوا تھا کہ دل گھٹنے کا دورہ ہوا اور ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو گئے ۔ اس وقت غروب آفتاب کا وقت بہت قریب تھا مگر آپ نے فوراً روزہ توڑ دیا۔ آپ ہمیشہ شریعت میں سہل راستہ کو اختیار فرمایا کرتے تھے۔
(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 637)

مزید پڑھیں