خلافت اور ہمارا عہدِ بیعت

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’بیعت سے مراد خدا تعالیٰ کو جان سپرد کرنا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم نے اپنی جان آج خدا تعالیٰ کے ہاتھ بیچ دی۔ یہ بالکل غلط ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں چل کر انجام کار کوئی شخص نقصان اٹھاوے۔ صادق کبھی نقصان نہیں اٹھا سکتا۔ نقصان اسی کا ہے جو کاذب ہے۔ جو دنیا کے لئے بیعت کو اور عہد کو جو اللہ تعالیٰ سے اُس نے کیا ہے توڑ رہا ہے۔ وہ شخص جو محض دنیا کے خوف سے ایسے امور کا مرتکب ہو رہا ہے، وہ یاد رکھے بوقت موت کوئی حاکم یا بادشاہ اُسے نہ چھڑا سکے گا۔ اُس نے احکم الحاکمین کے پاس جانا ہے جو اُس سے دریافت کرے گا کہ تُو نے میرا پاس کیوں نہیں کیا؟ اِس لئے ہر مومن کے لئے ضروری ہے کہ خدا جو ملک السموٰات والارض ہے اس پر ایمان لاوے اور سچی توبہ کرے۔‘‘
(ملفوظات جلدہفتم صفحہ29-30 )

مزید پڑھیں

خلافت کی بیعت کیوں ضروری ہے؟ ( تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھا دینا اور یا پھر بیعت لے لینا ہے۔ یہ کام تو ایک مُلّاں بھی کر سکتا ہے اس کے لئے کسی خلیفے کی ضرورت نہیں اور مَیں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں۔ بیعت وہ ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔‘‘
(الفرقان خلافت نمبرمئی جون 1986ء صفحہ28)

مزید پڑھیں

خلافت کی بیعت کیوں ضروری ہے؟ ( تقریر نمبر 1)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَن فَارَقَ الجَمَاعَۃَ شِبرًا فَمَاتَ اِلَّامَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃَ ۔
کہ جس نے جماعت سے ایک بالشت بھر بھی علیحدگی اختیار کی اور اس حال میں مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔
(بخاری کتاب الفتن باب قول النبیؐ سترون بعدی اموراتنکرونھا)

مزید پڑھیں

طاعت در معروف

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’پس جب نبی اللہ تعالیٰ کے احکامات سے پرے نہیں ہٹتا توخلیفہ بھی جو نبی کے بعد اس کے مشن کو چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کی ایک جماعت کےذریعہ مقرر ہوتاہے، وہ بھی اسی تعلیم کو، انہیں احکامات کو آگے چلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم تک پہنچائےاور اس زمانے میں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضاحت کر کے ہمیں بتائے۔تو اب اسی نظام خلافت کے مطابق جو آنحضور صلی.اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت میں قائم ہوا ہےاور ان شا ءاللہ قیامت تک قائم رہے گا۔ ان میں شریعت اور عقل کے مطابق ہی فیصلے ہوتے رہے ہیں اور ان شا ءاللہ ہوتے رہیں گے اور یہی معروف فیصلے ہیں۔‘‘
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ 172 ایڈیشن2007ء)

مزید پڑھیں

بیعت کی حقیقت کو جاننے کی ضرورت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”اب وقت تنگ ہے مَیں بار بار یہی نصیحت کرتا ہوں کہ کوئی جوان یہ بھروسہ نہ کرے کہ اٹھارہ یا انیس سال کی عمر ہے اور ابھی بہت وقت باقی ہے۔ تندرست اپنی تندرستی اور صحت پر ناز نہ کرے اسی طرح اور کوئی شخص جو عمدہ حالت رکھتا ہے وہ اپنی وجاہت پر بھروسہ نہ کرے۔ زمانہ انقلاب میں ہے، یہ آخری زمانہ ہے۔ اللہ تعالیٰ صادق اور کاذب کو آزمانا چاہتا ہے۔ اِس وقت صدق و وفا کے دکھانے کا وقت ہے اور آخری موقع دیا گیا ہے۔ یہ وقت پھر ہاتھ نہ آئے گا۔ یہ وہ وقت ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں یہاں آ کر ختم ہو جاتی ہیں اس لئے صدق اور خدمت کا یہ آخری موقع ہے جو نوع انسان کو دیا گیا ہے۔ اب اس کے بعد کوئی موقع نہ ہو گا۔ بڑا ہی بد قسمت وہ ہے جو اس موقع کو کھو دے۔
نِرا زبان سے بیعت کا اقرار کرنا کچھ چیز نہیں ہے بلکہ کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگو کہ وہ تمہیں صادق بنا دے۔ اس میں کاہلی اور سُستی سے کام نہ لو بلکہ مستعد ہو جاؤ اور اس تعلیم پر جو مَیں پیش کر چکا ہوں۔ عمل کرنے کے لئے کوشش کرو اور اس راہ پر چلو جو مَیں نے پیش کی ہے۔ عبد اللطیف کے نمونہ کو ہمیشہ مدِّ نظر رکھو کہ اس سے کس طرح پر صادقوں اور وفاداروں کی علامتیں ظاہر ہوئی ہیں۔ یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے پیش کیا ہے۔“
(ملفوظات جلد6 صفحہ263-264 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

ایک خوبصورت، انوکھا اخلاص اور قربانی کا جذبہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کا یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور بار برداری اور سچّی غم خواری میں اپنی زندگی وقف کردی جائے دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دُکھ اُٹھا ویں اور دوسروں کی راحت کے لئے اپنے پر رنج گوارا کرلیں۔“
( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5صفحہ 60)

مزید پڑھیں

مذہب میں ۔ آزادی ،بااختیاری اور خودمختاری کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
”وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اوّل خود اپنی اصلاح کرو۔ اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔ قرآن شریف میں خضر اور موسیٰ علیہما السلام کا قصہ درج ہے کہ ان دونوں نے مل کر ایک دیوار کو بنا دیا جو یتیم بچوں کی تھی۔ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَکَانَ اَبُوْھُمَا صَالِحًا (الکہف :83 ) اِن کا والد صالح تھا۔ یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ آپ کیسے تھے۔ پس اس مقصد کو حاصل کرو۔ اولاد کے لئے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو۔“
(ملفوظات جلد8 صفحہ110 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

مذہب میں ۔ بااختیاری اور خودمختاری کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’پس احمدی خوش قسمت ہیں ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ان کو احمدی گھروں میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور کچھ کو احمدی ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور ان باتوں سے بچا کے رکھا جو باغیانہ روش پیدا کرتی ہیں ۔ بعض احمدی بچیوں میں بھی ردّعمل ہوتا ہے، ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ غیر آکر ہمارے سے متأثر ہوتے ہیں اس لئے کسی بھی قسم کے کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اسلام کی جو خوبصورت تعلیم ہے یہ ہر ایک کے لئے ایسی تعلیم ہے جس کا فطرت تقاضا کرتی ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 5؍ستمبر 2014ء)

مزید پڑھیں

مذہب میں ۔ آزادی اور روشن خیالی کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر1)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ نے میرے کندھے کو پکڑ کر فرمایا:
کُنۡ فِیۡ الدُّنۡیَا کَأنَّکَ غَرِیۡبٌ اَوۡ عَابِرُ سَبِیۡلٍ
(بخاری کتاب الرقاق)
کہ اے عبداللہ ! دنیا میں ایسے زندگی بسر کر کہ گویا تو مسافر ہے یا راہ چلتا مسافر۔

مزید پڑھیں

وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ

حضرت خلیفۃُ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”وَابْتَغُوا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ قرب اور وسیلہ کے حصول کے لیے جو راستہ اور سبیل ہے وہ تین قسم کی ہے۔ ایک تو صحیح روحانی علم کا حاصل ہونا ،معرفت کا حاصل ہونا دوسرے خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر اس کی عبادت کرنا اور تیسرے شریعتِ حقّہ اسلامیہ کے مکارم کو اختیار کرتے ہوئے اپنی روح اور اپنے ذہن اور اپنے عمل اور اپنے عقیدہ میں حسن پیدا کرنے کی کوشش کرنا ۔ ان تینوں چیزوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی ڈھال بن جاتا ہے اور اُسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے ۔“
( خطبات ناصر جلد ششم صفحہ 445)

مزید پڑھیں