خلیفہ بنانا خداتعالیٰ کا کام ہے

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”خوب یاد رکھو کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور جھوٹا ہے وہ انسان جو یہ کہتا ہے کہ خلیفہ انسانوں کا مقرر کردہ ہوتا ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح مولوی نورالدین صاحب اپنی خلافت کے زمانہ میں چھ سال متواتر اس مسٔلہ پر زور دیتے رہے کہ خلیفہ خدا مقرر کرتا ہے نہ انسان اور درحقیقت قرآن شریف کے غور سے مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ایک جگہ بھی خلافت کی نسبت انسانوں کی طرف نہیں کی گئی بلکہ ہر قسم کے خلفا کی نسبت اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ انہیں ہم بناتے ہیں۔ “
(کون ہے جو خدا کے کام کو ر وک سکے از انوار العلوم جلد 2صفحہ11)

مزید پڑھیں

منصبِ خلافت

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”جماعت احمدیہ کے خلیفہ کی حیثیت دنیا کے تمام بادشاہوں اور شہنشاہوں سے زیادہ ہے، وہ دنیا میں خدا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نمائندہ ہے۔“
(الفضل 27 اگست 1937ء صفحہ 8)

مزید پڑھیں

خلیفہ راشد چہارم۔سیرت و سوانح حضرت علی المرتضیٰ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’حضرت علی رضی اللہ متقی، پاک اور خدائے رحمان کے محبوب ترین بندوں میں سے تھے۔آپ ہم عصروں میں سے چنیدہ اور زمانے کے سرداروں میں سے تھے۔ آپ اللہ کے غالب شیر اور مردِ خدائے حنان تھے آپ کشادہ دست پاک دل اور بے مثال بہادر تھے۔“
(ترجمہ از عربی سر الخلافۃ۔ روحانی خزائن۔ جلد8صفحہ 358)

مزید پڑھیں

خلیفہ راشد سوم ۔سیرت و سوانح حضرتِ عثمان غنیؓ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’میں تو یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سا رنگ پیدا نہ ہو۔ وہ دنیا سے محبت نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں۔‘‘
(لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20صفحہ294)

مزید پڑھیں

خلیفہ راشد دوم۔سیرت و سوانح حضرت عمر فاروقؓ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ صدیق رضی اللہ عنہ اور فاروق رضی اللہ عنہ خدا کے عالی مرتبہ امیر قافلہ ہیں ، وہ بلند پہاڑ ہیں ، انہوں نے شہروں اور بیان بان نشینوں کو حق کی طرف بلایا یہاں تک کہ ان کی دعوت اَقصائے بلاد تک پہنچی ، ان کی خلافت اثمارِ اسلام سے گرانبار اور خوشبوئے کامرانی و کامیابی سے معطر و ممسوح تھی ۔ ‘‘
( سرّ الخلافہ ، روحانی خزائن جلد8)

مزید پڑھیں

خلیفہ راشد اوّل۔سیرت و سوانح حضرت ابو بکر صدیقؓ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ میں سچ کہتاہوں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اس اسلام کے لئے آدمِ ثانی ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آنحضرت صلعم کے بعد ابوبکرؓکا وجود نہ ہوتا تو اسلام بھی نہ ہوتا۔ ابوبکر صدیق ؓکا بہت بڑااحسان ہے کہ اس نے اسلام کو دوبارہ قائم کیا۔ اپنی قوتِ ایمانی سے کل باغیوں کو سزادی اور امن کو قائم کردیا۔ اسی طرح پر جیسے خدا تعالیٰ نے فرمایا اور وعدہ کیا تھا کہ میں سچے خلیفہ پر امن کو قائم کروں گا۔ یہ پیشگوئی حضرت صدیق ؓکی خلافت پر پوری ہوئی اور آسمان نے اور زمین نے عملی طور پر شہادت دے دی۔ پس یہ صدیق کی تعریف ہے کہ اس میں صدق اس مرتبہ اور کمال کا ہونا چاہئے ۔‘‘
( ملفوظات جلد1صفحہ380-381 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

خلافت خامسہ اور استحکامِ خلافت

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”ہر احمدی کو چاہئے کہ جب بھی کوئی نصیحت سنے یا خلیفہ وقت کی طرف سے کسی معاملے میں توجہ دلائی جائے تو سب سے پہلا مخاطب اپنے آپ کو سمجھے۔“
(خطبات مسرور جلد4صفحہ 257)

مزید پڑھیں

ایٹمی جنگ بارے خلفاء کا دنیا کو واضح انتباہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ کی دعا کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:
”آج کل تو دنیا کے جو حالات ہیں، جنگوں میں بھی ایسے ہتھیار استعمال ہوتے ہیں جو آگ پھینکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آگ سے بھی بچائے اور دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی حسنات عطا فرمائے۔“
(خطبہ جمعہ 5 اپریل 2024ء)

مزید پڑھیں

خلافت کی ضرورت و اہمیت(اغیار کی نظر میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’سارا عالم اسلام مل کر زور لگالے اور خلیفہ بناکر دکھادے وہ نہیں بنا سکتا کیونکہ خلافت کا تعلق خدا کی پسند سے ہے اورخدا کی پسند اس شخص پر خود انگلی رکھتی ہے جسے وہ صاحب تقویٰ سمجھتا ہے اس کے بعد پھر وہ متقیوں کا ایک گروہ اپنے گرد پیدا کردیتا ہے۔ ‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 2؍اپریل 1993ء)

مزید پڑھیں

خلفائے احمدیت کی اپنے اپنے پیشرو کی مثالی اطاعت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اطاعت ایک ایسی چیز ہے اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں ایک نور اور روح میں لذت اور روشنی آتی ہے ۔ مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے۔مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی ایک مشکل امر ہے ۔ اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کردیناضروری ہوتا ہے بدُوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی۔ ‘‘
(تفسیر بیان فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 2 صفحہ 246)

مزید پڑھیں