20تقاریربعنوان صحبتِ صالحین

اعلانات تربیت و اصلاح تعارف کتب تقاریر جلسہ سالانہ

تحریر اوّل

کوئی تحریر لکھنا خواہ وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو آسان امر نہیں ہے۔ اس کے لیے اللہ کی مدد درکار ہوتی ہے ۔ اُس کے بغیر انسان کچھ نہیں لکھ سکتا ۔اگر خدا پر توکّل نہ ہو اور انسان اپنی تحریر کو اپنی طاقت کا سرچشمہ قراردے تو پھر تکبر کے ذرات محرَّر کے  اندر آنے لگتے ہیں۔ خاکسار کا گزشتہ 50 سالہ تجربہ ہے کہ تقریرکرنے، خطبہ دینے یا کوئی تحریر یا کتاب لکھنے سے قبل اللہ کا نام لیا جائے، درود شریف پڑھا جائے اور قَالَ رَبِّ اشۡرَحۡ لِیۡ صَدۡرِیۡ۔ وَ یَسِّرۡ لِیۡۤ اَمۡرِیۡ۔ وَ احۡلُلۡ عُقۡدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ۔ یَفۡقَہُوۡا قَوۡلِیۡ۔ وَ اجۡعَلۡ لِّیۡ وَزِیۡرًا مِّنۡ اَہۡلِیۡ۔ ہٰرُوۡنَ اَخِی۔ اشۡدُدۡ بِہٖۤ اَزۡرِیۡ۔ وَ اَشۡرِکۡہُ فِیۡۤ اَمۡرِیۡ۔ کَیۡ نُسَبِّحَکَ کَثِیۡرًا۔ وَّ نَذۡکُرَکَ کَثِیۡرًا (طہ:26-35) پڑھ کر لکھنا یا تقریر کرنی شروع کی جائے تو اللہ تعالیٰ انشراحِ صدر پیدا کرتا ہے اور دماغ.وذہن میں نئے سے نئے مضمون، نکات  اور مطالب کھلنے لگتے ہیں۔

 اِس دعا کو علمی ترقی، شرح صدر، حصولِ مواد کے ذرائع  ،زبان میں تاثیر اور سامعین یا قارئین کے دل.ودماغ پر اچھا اثر  چھوڑنے کی دعا کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اس دعا کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصے میں انسان اپنے لیے دعا کرتا ہے کہ اے میرے رب! میرے سینہ کو کھول دے اور جو فرض مجھ پر ڈالا گیا ہے اُس کو پورا کرنا آسان کر دے۔ میری زبان کی گرہ کھول دے ۔

دعا کا دوسرا حصہ زیادہ تر اُن لوگوں کے لیے ہے جو سامع یا قاری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو یَفۡقَہُوۡا قَوۡلِیۡ  سے لے کر نَذۡکُرَکَ کَثِیۡرًا تک ہے۔  دوسرے حصہ کے اِن الفاظ میں گو بعض جگہوں میں اپنے لیے بھی دعا شامل ہے لیکن زیادہ تر سامعین اور قارئین مخاطب ہیں۔ ہم لوگ بالعموم یَفۡقَہُوۡا قَوۡلِیۡ تک دعا کرنی کافی سمجھ لیتے ہیں لیکن یہ دوسرا  حصہ اپنے اندر بہت دلچسپ مطالب لیے ہوئے ہے۔  ان آیات کے ترجمہ کو ہم صرف اِس سارے مضمون کو آسان مفہوم میں سمجھنے کے لیے پیش کرتے ہیں۔

”اس نے کہا۔ اے میرے رب! میرا سینہ میرے لئے کشادہ کردے اور میرا معاملہ مجھ پر آسان کردے اور میری زبان کی گِرہ کھول دے۔ تاکہ وہ میری بات سمجھ سکیں۔اور میرے لئے میرے اہل میں سے میرا نائب بنادے۔ ہارون میرے بھائی کو۔ اس کے ذریعے میری پُشت مضبوط کر اور اُسے میرے کام میں شریک کردے۔ تاکہ ہم کثرت سے تیری تسبیح کریں اور تجھے بہت یاد کریں۔“

 اب دوسرے حصہ کو ہی لیں۔  یَفۡقَہُوۡا قَوۡلِیۡ کے بعد فرمایا ۔ میرے اہل سے ایک ساتھی بطور وزیر بنا جس سے میری طاقت مضبوط ہو اور اُس کو میرے کام میں شریک بنا۔   یَفۡقَہُوۡا کے مضمون کو اتنا وسیع کر دیا گیا ہے کہ سامعین اور قارئین میں سے اتنے وزیر مل جائیں جس  میں میرا دینی خاندان اتنا بڑا ہو جائے کہ ہم سب مل کر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے کہیں کہ میرے کلام ، میری تقریر یا میری تحریر کی تیاری میں اللہ.تعالیٰ کی مدد شاملِ حال رہی ہے  اور مجمع میں پیش کرنے میں بھی خدا کی مدد شاملِ حال رہی اور تُو نے لوگوں کے سینے بھی کھولے تو ہم سب مل کر نُسَبِّحَکَ کَثِیۡرًا وَّ نَذۡکُرَکَ کَثِیۡرًا   کے تحت کثرت سے تیری تسبیح کرتے ہیں ہوگی اور ذکر بھی۔

 یہ ہے وہ نتیجہ ہے کسی  تحریر لکھنے یا تقریر کرنے کا کہ اے اللہ !  اگر تُو برکت ڈالے گا اور لوگوں کو قوّتِ.سماعت و اثر عطا کرے گا تو ہم مل کر تیری تسبیح و تحمید و تذکیر کریں گے۔ اِسی لیے کہا  جاتا ہے کہ اگر شاعر کے دل میں کلام نزول کرتا ہے تو نثرنگار  پر بھی مضمون نازل ہو رہا ہوتا ہے ۔

اگر ہم سب  کی نظر اپنے اللہ کی طرف ہو۔ اُسی سے مضمون سلجھانے کی درخواست کی جائے تو پھر اللہ تعالیٰ کئی رنگ میں مدد فرماتا ہے اور کسی انسان کو یا کسی تحریر کو بطور تائید کے لا کھڑا کرتا ہے۔ جب مجھے آج یہ تحریر لکھنا تھی تو امریکہ سے میری ایک بزرگ بہن مکرمہ امۃ  الباری ناصر صاحبہ نے میری تحریر بعنوان ”سادھ سنگت“ پڑھ کر اسی مضمون اور کتاب کے” پیش لفظ “کی مناسبت سے اپنا یہ شعر لکھ بھجوایا۔

جو کوہلوں کی دکاں میں ہوگا کہیں تو کالک اُسے لگے گی
 کہ جیسے آتی ہے اُن سے خوشبو قریب رہتے ہیں جو گُلوں کے

 یہی شعر خلاصہ ہے آج کی اس تحریر کا جو صحبتِ صالحین سے متعلقہ 20 تقاریر کو” تحریر اوّل “کے نام سے  lead کر رہی ہے۔ صحبتِ صالحین کے حوالہ سے یہ 20 تقاریر کا مجموعہ اس مضمون کی کئی سَمت اور رُخ کھولنے کا موجب ہوگا۔ ان شاءاللہ۔ قارئین اِس کتاب میں صحبتِ صالحین کے تحت اللہ سے دوستی کو دیکھیں گے۔ حضرت محمدؐ سے محبت اور آپؐ پر نازل ہونے والے قرآن کریم کی صحبت بھی صحبتِ صالحین نظر آئے گی۔ قرونِ ثانیہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی فرزند حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق ،آپؑ کی کتب روحانی خزائن  و آپؑ کی دیگر کتب سے دوستی بھی صحبتِ  صالحین کہلائے گی ۔ پھر آپؑ کے خلفاء اور صحابہ کرامؓ سے تعلق کو بھی سادھ سنگت میں پائیں گے۔ ایم ٹی اے بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ ”مشاہدات“ کے تحت روزانہ کی کسی نہ کسی عنوان پر تقریر بھی صحبتِ  صالحین میں شامل ہے اور  سب سے بڑھ کر آج کے  Khalifa of the world  کی باتوں کو سننا، آپ کے  ہر جمعہ کو خطبہ سننا صحبتِ.صالحین کا بہترین ذریعہ ہے۔ آپ اس حوالہ سے ان 20 تقاریر  کے مجموعہ میں وہ  حظ پائیں جو شاید اس مضمون کی مناسبت سے آپ کو ایک جگہ  میسر نہ آئے۔  کہتے ہیں کتاب بہترین  دوست ہے ایک ایسا دوست جس کی صحبت انسان کو اچھائی کی طرف لے جاتی ہے۔ 20  تقاریر پر مشتمل یہ کتاب بھی اِسی امر کی عکاسی کرے گی۔ اِن شاء اللہ  

مَیں اظہار تشکّر کے طور پر سب سے پہلے تو اپنے پروردگار کا  ذکر  کرنا چاہتا ہوں کہ جس کی مدد، تعاون اور اُسی کی دی ہوئی طاقت و قوّت سے یہ کام ممکن ہوا۔ حدیث شریف مَنْ لَّا یَشْکُرُ النَّاسَ لَا یَشْکُرُ اللّٰہَ کے تحت اُن افراد کا شکریہ ادا کرنا میری ذمہ داری میں شامل ہے جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اوپر درج دعا کے طفیل میری مدد کے لئے بھجوایا   ۔ اس کتاب   میں شامل تقاریر کی تیاری میں  مسز عائشہ چوہدری  آف جرمنی، مسز عطیۃ العلیم آف ہالینڈ اور مکرم منہاس محمود صاحب آف جرمنی کا تعاون حاصل رہا۔ تقاریر کو کتابی.شکل عزیزم زاہد محمود  نے دی۔  آپ قارئین  تک اس کتاب کو پہنچانے  میں عزیزم سعید الدین احمد آف برطانیہ اور عزیزم عامر محمود ملک آف شیفیلڈ برطانیہ کی مدد حاصل رہی جبکہ عزیزم فضل عمر شاہد آف لٹویا نے اس کا خوبصورت ٹائیٹل  بنا کر مہیا کیا  ۔ یہاں دو احباب کے نام بغرض درخواستِ دعا دینا ضروری سمجھتا ہوں جن سے مَیں کسی وقت مدد لے لیتا ہوں اُن میں سے ایک مکرم مولانا فضل الرحمن صاحب اُستاد جامعہ احمدیہ برطانیہ ہیں جو حوالہ جات نکالنے میں ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں جبکہ دوسری مکرمہ امۃ الباری ناصر صاحبہ ہیں جن سے مَیں اشعار میں مدد کی درخواست کرتا ہوں اور وہ ہروقت تعاون کے لئے موجود رہتی ہیں نیز جن اصحاب  کے  مضامین سے ان تقاریر کی  تیاری میں کسی بھی قسم کی مدد لی گئی اور وہ تمام اصحاب و خواتین جو تقاریر  کو  اور کتب  کو  دیگر احباب تک پہنچانے  میں ممِدّ  و معاون ہوتے ہیں  وہ سب ہی شکریہ   کے مستحق ہیں ۔  فجزا ہم اللّٰہ  تعالیٰ احسن الجزاء و کان اللّٰہ معہم

مکرم نیاز احمد نائیک صاحب  قادیان سے تحریر کرتے ہیں:

” مشاہدات  کی علمی خدمات سے یہاں ( قادیان)  بھی بھرپور رنگ میں فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔عمومً مشاہدات کی تقاریر جلسوں میں پڑھی جاتی ہیں اور بعض شعبوں کی طرف سے شیئر بھی ہوتی ہیں۔“

آپ قارئین کے تبصرے  ہمیشہ حوصلہ افزائی کا موجب ہوتے ہیں ۔ کان اللّٰہ معکم  و ایدکم  بنصرہ

”مشاہدات“ کی 24 ویں کاوش  آپ کی نظر ہے۔ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ

۔خاکسار

۔۔۔ابوسعیدحنیف احمد محمود

۔۔۔۔مربّی سلسلہ حال برطانیہ

۔۔۔۔۔ ( شاہد۔ عربی فاضل)

(سابق ایڈیٹر روز نامہ الفضل  ربوہ و الفضل آن لائن لندن و نائب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ)

۔۔۔۔یکم؍ محرّم 1447ہجری بمطابق 27؍ جون 2025ء

ویب سائیٹ:             www.mushahedat.com

فون نمبر:                  +44 73 7615 9966

ای میل:                    hanifahmadmahmood@hotmail.com


انڈیکس

نمبر شمارمشاہداتعنوانصفحہ
1715اللہ ہمارا بہترین دوست ہے 1
2662زندہ خدا سے دل کو لگاتے تو خوب تھا6
3488اسلام، محمد رسول اللہؐ . کا مدرسہ ہے (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی)18
4548آئیں! ہم اپنے آپ کو قرآن میں تلاش کریں26
5436آئیں! حج اور عید الاضحیٰ کی مناسبت سےحضرتِ”ابراہیم حنیف“ کی باتیں کریں!34
6299عِبادِ صالحین کی صفات49
7302عباد صالحین کیسے بنا جائے57
8851صحبتِ صالحین کے ذرائع63
9792پیوستہ رہ شجر سے اُمیدِ  بہار رکھ72
10165خطبات امام ،ہمارے لیے ایک چراغ ہیں79
11311خلافت ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے92
12300میں اپنی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتا رہوں گا100
13248صحبتِ صالحین(ارشادات حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی روشنی میں)107
14852صحبتِ صالحین کی اہمیت ( خلفاء کے اِرشادات کی روشنی میں)118
15850سادھ سنگت( چند مثالوں کی روشنی میں)131
16147صحبت صالحین ایک کیمیا ہے142
17160صحبت صالح ترا صالح کند151
18296اچھے دوست بنانے کی اہمیت166
19559باادب با نصیب،بے ادب بے نصیب172
20846وَالصَّالِحُوْنَ اِخْوَانِیْ (مسیح موعودؑ) صالحین میرے بھائی ہیں178

مکمل کتاب پڑھنے کے لئے سرورق پر کلک کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے