ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’لیلۃ القدر آتی تو ہر سال ہےمگر ہر شخص کو وہ رات میسر تو نہیں آ جاتی۔جو لوگ سچے تقویٰ اور سچی نیکی سے خدا تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں انہیں خاص توجہ اور خاص خشوع و خضوع کی حالت میں وہ میسر آتی ہے۔ یعنی گو اس کی عام برکات تو عام مسلمانوں کو ہر سال ہی مل جاتی ہیں لیکن اس کا کامل ظہور جبکہ انسان کو یہ معلوم بھی ہو جاتا ہے کہ آج لیلۃ القدر ہے، خاص خاص آدمیوں کو اور کبھی کبھی ہی نصیب ہوتا ہے ۔ یہ تجربہ درمیانہ درجہ کے مومنوں کو اپنی عمر میں کبھی ایک دفعہ یا دو دفعہ نصیب ہوتا ہے۔ پس اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں لیلۃ القدر مل جائے اسے سمجھنا چاہیے کہ اس کی ساری عمر کامیاب ہوگئی اور عمر کا اندازہ تراسی سال لگا کر بتایا ہے کہ ایسے شخص کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہ رات اس کی باقی عمر سے افضل ہے اور اسی رات کی خاطر اس کی زندگی گزری ہے اور یہ رات اس کی زندگی کا نچوڑ ہے۔‘‘
(تفسیر کبیر جلد 13صفحہ 491)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’اسی طرح افطاری میں تنوع اور سحری میں تکلفات بھی نہیں ہونے چاہئیں اور یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ سارا دن بھوکے رہے ہیں اب پُرخوری کرلیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام ؓ افطاری کے لئے کوئی تکلفات نہ کرتے تھے ۔ کوئی کھجور سے، کوئی نمک سے ، بعض پانی سے اور بعض روٹی سے افطار کر لیتے تھے۔ ہمارے لئے بھی ضروری ہے کہ ہم اس طریق کو پھر جاری کریں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہؓ کے نمونہ کو زندہ کریں۔ ‘‘
(تفسیر کبیر ۔ سورۃ البقرہ زیر آیت 186 )

مزید پڑھیں