حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اطاعت کوئی چھوٹی سی بات نہيں اور سہل امر نہیں۔ يہ بھی ايک موت ہوتی ہے۔ جيسے ايک زندہ آدمی کی کھال اُتاری جائے ويسی ہی اطاعت ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 4 صفحہ 74 حاشيہ)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو کہ بیعت کے بعد تبدیلی کرنی ضروری ہوتی ہے۔ اگر بیعت کے بعد اپنی حالت میں تبدیلی نہ کی جاوے۔ تو پھر یہ استخفاف ہے۔ بیعت بازیچہ اطفال نہیں ہے۔ درحقیقت وہی بیعت کرتا ہے جس کی پہلی زندگی پر موت وارد ہو جاتی ہے اور ایک نئی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔ ہر ایک امر میں تبدیلی کرنی پڑتی ہے۔ پہلے تعلقات معدوم ہو کر نئے تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔ “
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 339)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یہ مجھے گالیاں دیتے ہیں لیکن مَیں ان کی گالیوں کی پرواہ نہیں کرتا اور نہ ان پر افسوس کرتا ہوں کیونکہ وہ اس مقابلہ سے عاجز آگئے ہیں اور اپنی عاجزی اور فرو مائیگی کو بجز اس کے نہیں چھپا سکتے کہ گالیاں دیں ،کفر کے فتوے لگائیں، جھوٹے مقدمات بنائیں اور قسم قسم کے افترا اور بہتان لگائیں۔ وہ اپنی ساری قوتوں کو کام میں لا کر میرا مقابلہ کر لیں اور دیکھ لیں کہ آخری فیصلہ کس کے حق میں ہوتا ہے ۔ مَیں اُن کی گالیوں کی اگر پرواہ کروں تو وہ اصل کام جو خدا تعالیٰ نے مجھے سپرد کیا ہے رہ جاتا ہے۔ اس لیے جہاں مَیں اُن کی گالیوں کی پرواہ نہیں کرتا مَیں اپنی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ اُن کو مناسب ہے کہ اُن کی گالیاں سن کر برداشت کریں اور ہرگز ہرگز گالی کا جواب گالی سے نہ دیں کیونکہ اس طرح پر برکت جاتی رہتی ہے ۔ وہ صبر اور برداشت کا نمونہ ظاہر کریں اور اپنے اخلاق دکھائیں ۔ یقیناً یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔ جب جوش اور غصہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردبادی کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے ۔ غصّہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لیے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 180)

مزید پڑھیں

احمدیہ اسٹیج کا تقدّس

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’انسان کو چاہئے شوخ نہ ہو۔ بے حیائی نہ کرے۔ مخلوق سے بد سلوکی نہ کرے۔ محبت اور نیکی سے پیش آوے۔ اپنی نفسانی اغراض کی وجہ سے کسی سے بغض نہ رکھے۔ سختی اور نرمی مناسب موقع اور مناسب حال کرے۔‘‘ ْ
(ملفوظات جلد5 صفحہ609 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

’’کہنا ‘‘ ۔ اور ۔ ’’کرنا ‘‘

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ67 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں