حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” تم لوگوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اسی پر بھروسہ نہ کر لینا۔ صرف اتنی ہی بات کافی نہیں۔ زبانی اقرار سے کچھ نہیں بنتا جب تک عملی طور سے اس اقرار کی تصدیق نہ کر کے دکھائی جاوے۔ یوں زبانی تو بہت سے خوش آمدی لوگ بھی اقرار کر لیا کرتے ہیں مگر صادق وہی ہے جو عملی رنگ سے اس اقرار کا ثبوت دیتا ہے ۔ خدا تعا لیٰ کی نظر انسان کے دل پر پڑتی ہے۔ پس اب سے اقرار سچا کر لو اور دل کو اس اقرار میں زبان کے ساتھ شریک کر لو کہ جب تک قبر میں جاویں ہر قسم کے گناہ سے شرک وغیرہ سے بچیں گے۔
غرض حق اور حق العباد میں کوئی کمی یا سستی نہیں کریں گے ۔اس طرح سے خدا تعا لیٰ تم کو ہر طرح کے عذابوں سے بچاوے گا اور تمہاری نصرت ہر میدان میں کرے گا۔ ظلم کو ترک کرو۔ خیانت، حق تلفی اپنا شیوہ نہ بناؤ اور سب سے بڑا گناہ جو غفلت ہے اس سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ240-239)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ دیکھو! قرآن شریف سورۂ مزمّل میں صاف تاکید ہے کہ انسان کو کچھ حصہ رات آرام بھی کرنا چاہیے ۔ اس سے دن بھر کی کوفت اور تکان دور ہو کر قویٰ کو اپنا حرج شدہ مادہ بہم پہنچانے کا وقفہ مِل جاتا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل یعنی سنّت بھی اسی کے مطابق ثابت ہے ۔ چنانچہ فرماتے ہیں اُصَلِّیْ وَ اَنُوْمُ
اصل میں انسان کی مثال ایک گھوڑے کی سی ہے ۔ اگر ہم ایک گھوڑے سے ایک دن اس کی طاقت سے زیادہ کام لیں اور اُسے آرام کرنے کا وقفہ ہی نہ دیں تو بہت قریب ایساوقت ہو گا کہ ہم اس کے وجود کو ہی ضائع کر کے تھوڑے فائدہ سے بھی محروم ہو جائیں گے ۔ نفس کو گھوڑے سے مناسبت بھی ہے ۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ129)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ کہتے ہیں ابراہیم علیہ السلام کو جب آگ میں جلا دینے کی کوشش کی گئی اس وقت اُن کے پاس فرشتے آئے اور کہا کہ تمہیں کوئی حاجت ہے تو ابراہیم علیہ السلام نے ان کو یہی جواب دیا ۔ بلٰی وَلٰکِنْ اِلَیْکُمْ فَلَا۔ یعنی ہاں حاجت تو ہے لیکن تمہاری طرف نہیں۔ ایسے مقام پر دعا بھی منع ہوتی ہے اور انبیاء علیہم السلام اس مقام کو خوب سمجھتےہیں۔
گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی
غرض اصل غرض انسان کی محبت ذاتی ہونی چاہیے۔ اس سے جو کچھ اطاعت اور عبادت ہوگی وہ اعلیٰ درجہ کے نتائج اپنے ساتھ رکھے گی۔ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے مبارک بندے ہوتے ہیں وہ جس گھر میں ہوں وہ گھر مبارک اور جس شہر میں ہوں وہ شہر مبارک۔ اس کی برکت سے بہت سی بلائیں دور ہو جاتی ہیں اس کی ہر حرکت و سکون، اُس کے در و دیوار پر خدا کی برکت اور رحمت نازل ہوتی ہے ۔ مَیں اسی راہ کو سکھانا چاہتا ہوں اسی غرض کے لیے خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا ہے ۔‘‘
( ملفوظات جلد5 صفحہ 108)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہماری جماعت تو ایمان لاتی ہے۔ مگر اصل میں مدارِ ایمان نشانوں پر ہوتا ہے۔ اگرچہ انسان محسوس نہ کرے مگر اس کے اندر بعض کمزوریاں ضرور ہوتی ہیں اور جب تک وہ کمزوریاں دور نہ ہوں اعلیٰ مراتب ایمانی نہیں مل سکتے اور یہ کمزوریاں نشانات ہی کے ذریعہ دور ہوتی ہیں اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اپنے نشانوں سے ان کمزوریوں کو دور کرے اور جماعت اپنے ایمان میں ترقی کرے اب وہ وقت آگیا ہے کہ إِنَّ اللّٰهَ عَلَى نَصْرِهِم لَقَدِيرٌ (الحج:40) کا نمونہ دکھائے ۔ اللہ تعالیٰ کی نظر سے صادق اور کاذب، خائن اور مظلوم پوشیدہ نہیں ہیں۔ اب ضروری ہے کہ سب گروہ متفق ہو کر میرے استیصال کے درپے ہوں جیسے جنگ احزاب میں ہوئے تھے۔ جو کچھ ہو رہا ہے یہ سب خدا تعالیٰ نے چاہا ہے۔ مَیں نے جو خواب میں دیکھا کہ دریائے نیل کے کنارہ پر ہوں اور بعض چلّائے کہ ہم پکڑے گئے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی ایسا وقت بھی آوے جب جماعت کو کوئی ياس ہو مگر مَیں یقین رکھتا ہوں کہ خدا زور آور حملوں سے سچائی ظاہر کر دے گا۔ اس وقت یہ پورے زور لگائیں گے تاکہ قتل کے مقدمہ کی حسرتیں نہ رہ جائیں کہ کیوں چُھوٹ گیا۔ یہ لوگ ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے مَیں پیش کرتا ہوں مگر وہ دیکھ لیں گے کہ اِ کرَاماً عَجَبًا کیسے ہوتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 5 صفحہ 40)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد5  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تم کو خدا تعالیٰ نے خبردار کیا ہے کہ اپنی حالت بدل دو اور سمجھو کہ ایک دن موت آنی ہے۔ خدا کا دستور ہے کہ وہ گناہ گار کو بلا سزا دیے نہیں چھوڑتا۔ توبہ کرنے سے گناہ بخشے جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ بہت ہی رحم کرنے والا ہے مگر سزا بھی بہت دینے والا ہے۔ تمہاری فطرت میں کوئی نیکی ہوگی ورنہ عام طور پر اللہ تعالیٰ کی یہ عادت نہیں ہے کہ اس طرح سے خبر دیوے اس لیے اپنی زندگی کو بدلو اور عادتوں کو ٹھیک کرو۔ ‘‘
( ملفوظات جلد 5 صفحہ 40)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” بس یہی بڑی بات ہے کہ خاتمہ بالخیر ہو۔ کسی نے نُوح علیہ السلام سے دریافت کیا تھا کہ آپ تو قریب ایک ہزار سال کے دُنیا میں رہ کے آئے ہیں۔ بتلایئے کیا کچھ دیکھا۔ نوح ؑ نے جواب دیا کہ یہ حال معلوم ہوا ہے جیسے ایک دروازے سے آئے اور دوسرے سے چلے گئے۔ تو عُمر کا کیا ہے لمبی ہوئی تو کیا، تھوڑی ہوئی تو کیا۔ خاتمہ بالخیر چاہئے۔“
(ملفوظات جلد 4 صفحہ170)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” اصل بات یہ ہے کہ جب تک انسان کسی بات کو خالی الذہن ہو کر نہیں سوچتا اور تمام پہلوؤں پر توجہ نہیں کرتا اور غور سے نہیں سُنتا ۔ اس وقت تک پُرانے خیالات نہیں چھوڑ سکتا ۔ اس لئے جب آدمی کسی نئی بات کو سُنے تو اُسے یہ نہیں چاہئے کہ سُنتے ہی اُ س کی مخالفت کے لئے تیار ہوجاوے بلکہ اس کا فرض ہے کہ اُس کے سارے پہلوؤں پر پورا فکر کرے اور انصاف اور دیانت اور سب سے بڑھ کرخداتعالیٰ کے خوف کو مد نظر رکھ کر تنہائی میں اس پر سوچے۔“
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 1-2)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’آوائل میں جو سچا مسلمان ہوتا ہے اُسے صبر کرنا پڑتا ہے ۔ صحابہ پر بھی ایسے زمانے آئے ہیں کہ پتّے کھا کھا کر گزارہ کيا ۔ بعض وقت روٹی کا ٹکڑا بھی میسر نہیں آتا تھا کوئی انسان کسی کے ساتھ بھلائی نہیں کر سکتا جب تک خدا بھلائی نہ کرے جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو خدا اس کے واسطے دروازہ کھول دیتا ہے مَنْ يَتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا (الطلاق: 3)۔ خدا تعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ اس سے سب کچھ حاصل ہوگا ۔ استقامت چاہیے ۔ انبیاء کو جس قدر درجات ملے ہیں استقامت سے ملے ہیں ۔ اور یوں خشک نمازوں اور روزوں سے کیا ہو سکتا ہے؟ ‘‘
(ملفوظات جلد4 صفحہ 204)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’خَلق اور خُلق دو لفظ ہیں۔ خَلق تو ظاہری حسن پر بولا جاتا ہے اور خُلق باطنی حُسن پر بولا جاتا ہے۔ باطنی قویٰ میں جس قدر مِثل عقل، فہم ،سخاوت، شجاعت، غضب وغیرہ انسان کو دیے گئے ہیں ان سب کا نام خُلق ہے اور عوام الناس میں آج کل جسے خُلق کہا جاتا ہے جیسے ایک شخص کے ساتھ تکلّف کے ساتھ پیش آنا اور تصنّع سے اس کے ساتھ ظاہری طور پر بڑی شیریں الفاظی سے پیش آنا تو اس کا نام خُلق نہیں بلکہ نفاق ہے۔
خُلق سے مراد یہ ہے کہ اندرونی قویٰ کو اپنے اپنے مناسب مقام پر استعمال کیا جائے ۔ جہاں شجاعت دکھانے کا موقع ہو وہاں شجاعت دکھاوے ۔جہاں صبر دکھانا ہے وہاں صبر دکھائے ۔جہاں انتقام چاہیے وہاں انتقام لے۔ جہاں سخاوت چاہیے وہاں سے سخاوت کرے یعنی ہر ایک محل پر ہر ایک قویٰ کو استعمال کرے نہ گھٹایا جائے نہ بڑھایا جائے۔ یہاں تک کہ عقل اور غضب بھی جہاں تک کہ اس سے نیکی پر استقامت کی جاوے۔ خُلق ہی میں داخل ہے … غرض یہ کہ انسان کے نفس میں یہ سب صفات مِثل صبر ،سخاوت، انتقام، ہمت، بخل، عدم بخل، حسد ،عدم حسد ہوتی ہیں اور ان کو اپنے محل اور موقع پر صرف کرنے کا نام خُلق ہے ۔ حسد بہت بُری بلا ہےلیکن جب موقع کے ساتھ اپنے مقام پر رکھا جاوے تو پھر بہت عمدہ ہو جاوے گا ۔حسد کے معنی ہیں دوسرے کا زوالِ نعمت چاہنا لیکن جب اپنے نفس سے بالکل محو ہو کر ایک مصلحت کے لیے دوسرے کا زوال چاہتا ہے تو اس وقت یہ ایک محمود صفت ہو جاتی ہے جیسے کہ ہم تثلیث کا زوال چاہتے ہیں۔‘‘
(ملفوظات جلد4 صفحہ327-326)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد4  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اب دوسری سیروں کو چھوڑ کر روحانی سیروں کی طرف متوجہ ہو جاویں۔ یہ آپ کی سعادت کی علامت ہے کہ اتنی دور سے اس جلسہ کے واسطے آئے اور یہاں ٹھہر گئے اور اس قدر مقابلہ نفس کا کیا ۔ ہر ایک کو یہ طاقت نہیں ہوتی کہ جذب نفس کے ساتھ کُشتی کریں ۔آپ نے جن کو وہاں جا کر دیکھنا تھا اُن کی صورتیں انسانوں کی ہی ہوں گی مگر دل کا کیا پتہ کہ وہ بھی انسانوں کے ہوں گے یا نہیں۔ لوگ باوجود اس کے کہ ابتلاؤں میں مبتلا ہیں مگر تکبّر ان کے دماغ سے نہیں گیا ۔ ہم سے تمسخر وغیرہ اسی طرح ہے اور دلی والے پنجابیوں کو تو بَیل کہتے ہیں جس کے معنی پنجابی میں ڈھگا ہے۔ ان کے خیالوں میں صرف دنیا کی زندگی ہے مگر جو لوگ بہروپیوں کے رنگ میں بولتے ہیں ان کو پاک عقل نہیں ملتی ۔‘‘
(ملفوظات جلد4 صفحہ 325-324)

مزید پڑھیں