حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” یقیناً یاد رکھو کہ ا بتلا اور امتحان ایمان کی شرط ہے اس کے بغیر ایمان، ایمان کامل ہوتا ہی نہیں اور کوئی عظیم الشان نعمت بغیر ابتلا ملتی ہی نہیں ہے۔ دنیا میں بھی عام قاعدہ یہی ہے کہ دنیاوی آسائشوں اور نعمتوں کےحاصل کرنے کے لئے قسم قسم کی مشکلات اور رنج و تعب اُٹھانے پڑتے ہیں۔ طرح طرح کے امتحانوں میں سے ہو کر گزرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر کامیابی کی شکل نظر آتی ہے اور پھر بھی وہ محض خداتعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے۔ پھر خداتعالیٰ جیسی نعمتِ عظمیٰ جس کی کوئی نظیر ہی نہیں یہ بدوں امتحان کیسے میسّر آسکے۔ پس جو چاہتا ہے کہ خداتعالیٰ کو پاوے اُسے چاہئے کہ وہ ہر ایک ابتلا کے لئے تیار ہوجاوے ۔ “
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 254 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”تقویٰ اس بات کا نام ہے کہ جب وہ دیکھے کہ مَیں گناہ میں پڑتا ہوں تو دعا اور تدبیر سے کام لیوے ورنہ نادان ہوگا ۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہےمَنۡ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجۡعَلۡ لَّہٗ مَخۡرَجًا۔ وَّیَرۡزُقۡہُ مِنۡ حَیۡثُ لَا یَحۡتَسِبُ ( الطلاق:4-3) کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہر ایک مشکل اور تنگی سے نجات کی راہ اُس کے لیے پیدا کر دیتا ہے۔ متقی درحقیقت وہ ہے کہ جہاں تک اس کی قدرت اور طاقت ہے وہ تدبیر اور تجویز سے کام لیتا ہے“
) ملفوظات جلد 6 صفحہ218)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” گناہوں کا چھوڑنا تو کوئی بڑی بات نہیں ہے یہ ایک ذلیل کام ہے اگر کوئی کہے کہ مَیں چوری نہیں کرتا ۔زنا نہیں کرتا ۔ خون نہیں کرتا اور فسق وفجور نہیں کرتا تو کو ئی خوبی کی بات نہیں اور نہ خدا پر یہ احسان ہے کیونکہ اگر وہ ان باتوں کا مرتکب نہیں ہوتا تو ان کے بدنتائج سے بھی وہی بچا ہوا ہے۔کسی کو اس سے کیا ؟اگر چوری کرتا گرفتار ہوتا سزا پاتا ۔اس قسم کی نیکی کو نیکی نہیں کہا کرتے۔“
(ملفوظات جلد 6 صفحہ180 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اگر کوئی شخص بیعت کر کے یہ خیال کرتا ہے کہ ہم پر احسان کرتا ہے تو یاد رکھیں کہ ہم پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اُس نے یہ موقع اُسے نصیب کیا ۔سب لوگ ایک ہلاکت کے کنارے پر پہنچے ہوئے تھے۔ دین کا نام و نشان نہ تھا اور تباہ ہو رہے تھے ۔ خدا نے اُس کی دستگیری کی کہ یہ سلسلہ قائم کیا۔ اب جو اِس مائدہ سے محروم رہتا ہے وہ بے نصیب ہے لیکن جو اس کی طرف آوے اسے چاہیے کہ اپنی پوری کوشش کے بعد دعا سے کام لیوے ۔ جو شخص اس خیال سے آتا ہے کہ آزمائش کرے کہ فلاں سچا ہے یا جھوٹا وہ ہمیشہ محروم رہتا ہے ۔آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ایسی نظیر نہ پیش کر سکو گے کہ فلاں شخص فلاں نبی کے پاس آزمائش کے لیے آیا اور پھر اُسے ایمان نصیب ہوا ہو۔ پس چاہیے کہ یہ خدا کے آگے روئے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر گریہ وزاری کرے کہ خدا اُسے حق دکھا دے ۔‘‘
( ملفوظات جلد 6 صفحہ220-219)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ہماری جماعت کو اس بات کا بہت خیال چاہیے کہ اگر ایک شخص فوت ہوجاوے تو حتّی الوسع سب جماعت کو اس کے جنازہ میں شامل ہونا چاہیے اور ہمسایہ کی ہمدردی کرنی چاہیے ۔ یہ تمام باتیں حقوق العباد میں داخل ہیں ۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ جس تعلیم اور درجہ تک خدا تعالیٰ پہنچانا چاہتا ہے اس میں ابھی بہت کمزوری ہے ۔ صرف دعویٰ ہی دعویٰ نہ ہونا چاہیے کہ ہم ایمان دار ہیں بلکہ اس ایمان کو طلب کرنا چاہیے جسے خدا چاہتا ہے۔ بھائیوں کے حقوق کو اور ہمسائیوں کے حقوق کو شناخت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ زبان سے کہہ لینا کہ ہم جانتے ہیں بیشک آسان ہے مگر سچی ہمدردی اور اخوّت کو بَرت کر دکھلانا مشکل ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام حرکات، اعمال، افعال کے لیے ایمان مِثل ایک انجن کے ہے ۔ جب ایمان ہوتا ہے تو سب حقوق خود بخود نظر آتے جاتے ہیں اور بڑے بڑے اعمال اور ہمدردی خود ہی انسان کرنے لگتا ہے ۔ ایمان کا تُخم آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے لیکن یہ ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا ۔‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ107)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ رسول وہ ہوتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور احسانات ہوتے ہیں۔ پس جو شخص اس کا انکار کرتا ہے وہ بہت خطرناک جرم کا مرتکب ہوتا ہے ۔ کیونکہ وہ شریعت کے سارے سلسلہ کو باطل کرنا چاہتا ہے اور حِلّت و حرمت کی قید اٹھا کر اباحت کا مسئلہ پھیلانا چاہتا ہے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیسے نجات کا مانع نہ ہو۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو لاانتہا برکات اور فیوض لے کر آیا ہے اس کا انکار ہو اور پھر نجات کی امید۔ اس کا انکار کرنا ساری بدیوں اور بدمعاشیوں کو جائز سمجھنا ہے کیونکہ وہ ان کو حرام ٹھہراتا ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ89-88)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا مگر تاہم آپؐ کی بیویاں سب کام کر لیا کرتی تھیں ۔جھاڑو بھی دے لیا کرتی تھیں اور ساتھ اس کے عبادت بھی کرتی تھیں۔ چنانچہ ایک بیوی نے اپنی حفاظت کے واسطے ایک رسا لٹکا رکھا تھا کہ عبادت میں اُونگھ نہ آئے۔ عورتوں کے لیے ایک ٹکڑا عبادت کا خاوندوں کا حق ادا کرنا ہے اور ایک ٹکڑا عبادت کا خدا کا شکر بجا لانا ہے۔ خدا کا شکر کرنا اور خدا کی تعریف کرنی یہ بھی عبادت ہے اور دوسرا ٹکڑا عبادت کا نماز کو ادا کرنا ہے ۔“
( ملفوظات جلد6 صفحہ53)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ ہر ایک شۓ کی ایک اُمّ ہوتی ہے ۔ مَیں نے سوچا کہ جو انعامات ہیں اُن کی اُمّ کیا ہے ؟ خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ اُن کی اُمّ اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ( المومن:61) ہے ۔ کوئی انسان بدی سے بچ نہیں سکتا جب تک خدا تعالیٰ کا فضل نہ ہو ۔ پس اُدۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ فرما کر یہ جتلا دیا کہ عاصم وہی ہے اُسی کی طرف تم رجوع کرو۔ ‘‘
( ملفوظات جلد6 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

بِکھرنا ۔ نِکھرنا-اور خودی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’انسان بیعت کنندہ کو اوّل انکسارى اور عِجز اختیار کرنى پڑتى ہے اور اپنى خودى اور نفسانیت سے الگ ہونا پڑتاہے تب وہ نشوونما کے قابل ہوتاہے لیکن جو بیعت کے ساتھ نفسانیت بھى رکھتاہے اسے ہر گز فیض حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ455)

مزید پڑھیں

’’آج حوّا کی بریّت کے ہوئے ہیں سامان ‘‘

حضور انور ایدہ اللہ نے سانحہ لاہور کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
”دشمن نے ایک مذموم سازش کی اور اپنے زعم میں احمدیوں سے ان کا دین اور ایمان چھیننا چاہا لیکن اس کا یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔ ہم نے تو یہ نظارے دیکھے کہ باپ کے شہید ہونے پر اس کے نو دس سالہ بیٹے کو ماں نے یہ نصیحت کر کےمسجد بھجوایا کہ بیٹا وہیں کھڑے ہو کر جمعہ پڑھنا جہاں تمہارا باپ شہید ہوا تھا تا کہ یہ بات تمہارے ذہن میں رہے کہ موت ہمیں ہمارے عظیم مقاصد کے حصول سےخوفزدہ نہیں کر سکتی۔ پس جس قوم میں ایمان کی دولت سے لبریز ایسے بہادر بچے اور مائیں ہوں اس قوم کی ترقی کو کوئی دشمن اور دنیاوی طاقت روک نہیں سکتی۔ “
(ماہنامہ انصار اللہ نومبر،دسمبر2010ء کو شہدائے لاہور نمبر صفحہ 9)

مزید پڑھیں