حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”انسان اصل میں اُنسان سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی اُنس ہوں ایک اللہ تعالیٰ سے اور دوسرا بنی نوع کی ہمدردی سے ۔ جب یہ دونوں اُنس اس میں پیدا ہوجاویں ۔ اُس وقت انسان کہلاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو انسان کا مغز کہلاتی ہے اور اسی مقام پر انسان اُولُوا الۡاَلۡبَابِ کہلاتا ہے ۔ جب تک یہ نہیں کچھ بھی نہیں۔ ہزار دعویٰ کر دکھاؤ مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک، اس کے نبی اور اس کے فرشتوں کے نزدیک ہیچ ہے۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تمام انسان نمونہ کے محتاج ہیں اور وہ نمونہ انبیاء علیہم السلام کا وجود ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ درختوں پر کلام الٰہی لکھاتا مگر اُس نے جو پیغمبروں کو بھیجا اور اُن کی معرفت کلام الٰہی نازل فرمایا۔ اس میں سرّ یہ تھا کہ تا انسان جلوۂ اُلوہیّت کو دیکھے جو پیغمبروں میں ہو کر ظاہر ہوتا ہے۔ “
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 168)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم وُہ ایمان پیدا کروجو ابو بکر رضی اللہ عنہ اور صحابہ کا ایمان تھا۔ رضی اللہ عنہم۔ کیونکہ اس میں حُسنِ ظنّ اور صبر ہے اور وہ بہت سے برکات اور ثمرات کا منتج ہے اور نِشان دیکھ کر ماننا اور ایمان لانا اپنے ایمان کو مشرُوط بنانا ہے ۔ یہ کمزور ہوتا ہے اور عموماً باروَر نہیں ہوتا۔ ہاں جب انسان حُسنِ ظنّ کے ساتھ ایمان لاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے مومن کو وُہ نِشان دکھاتا ہے جو اُس کے ازدیادِ ایمان کا مُوجب اور انشراح صدر کا باعِث ہوتے ہیں خود اُن کو نشان اور آیتُ اللہ بنادیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اقتراحی نشان کسی نبی نے نہیں دکھلائے ۔مومن صادق کو چاہئے کہ کبھی اپنے ایمان کونشان بینی پر مبنی نہ کرے ۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 94 -95 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد  2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اصل بات یہ ہے کہ بہشتی زندگی اِسی دُنیا سے شروع ہوجاتی ہے اور اسی طرح پر کورانہ زیست جو خداتعالیٰ اور اس کے رسول سے بالکل الگ ہو کر بسر کی جائے ۔ جہنّمی زندگی کا نمونہ ہے اور وہ بہشت جو مرنے کے بعد ملے گا۔ اسی بہشت کا اصل ہے اوراسی لئے تو بہشتی لوگ نعماء جنّت کے حظّ اُٹھاتے وقت کہیں گے۔ ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ۔ دُنیا میں انسان کو جو بہشت حاصل ہوتا ہے۔ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰہَا پر عمل کرنے سےمِلتا ہے۔ جب انسان عبادت کا اصل مفہُوم اورمغز حاصل کرلیتا ہے تو خداتعالیٰ کے انعام و اکرام کا پاک سِلسلہ جاری ہوجاتا ہے اور جو نعمتیں آئندہ بعد مُردن ظاہری، مرئی اور محسوس طور پر ملیں گی وہ اب رُوحانی طور پر پاتا ہے ۔ پس یاد رکھو کہ جب تک بہشتی زندگی اسی جہاں سے شروع نہ ہو اور اس عالَم میں اُس کا حظّ نہ اُٹھاؤ ۔ اس وقت تک سیر نہ ہو اور تسلّی نہ پکڑو۔ کیونکہ وُہ جو اِس دُنیا میں کچھ نہیں پاتا اور آئندہ جنّت کی امید کرتا ہے وہ طمع خام کرتا ہے۔ اصل میں وُہ مَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ کا مصداق ہے۔ اس لئے جب تک ماسِوی اللہ کے کنکر اور سنگریزے زمینِ دل سے دُور نہ کرلو اور اُسے آئینہ کی طرح مُصفّا اور سُرمہ کی طرح باریک نہ بنا لو۔ صبر نہ کرو۔ “
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 66)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد  2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

ایک دفعہ ایک دوست کی شکایت ہوئی کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔ تو آپؑ نے فرمایا :
”ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 1-2)

مزید پڑھیں

یومِ اُمَّہات(Mother’s day)

ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ ! لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا کون زیادہ مستحق ہے؟ آپؐ نے فرمایا تیری والدہ ! پھر اُس شخص نے اپنے سوال کو دہرایا ۔ آپؐ نے پھر یہی جواب دیا کہ تمہاری والدہ ! اُس کے تیسری مرتبہ دریافت کرنے پر بھی والدہ کا ہی نام حضورؐ نے فرمایا۔ پھر اُس نے پوچھا پھر کون ؟ فرمایا ماں کے بعد تیرا باپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار۔

مزید پڑھیں

یوم والدین

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کون سا عمل اللہ تعالیٰ کوزیادہ پسند ہے؟
فرمایا کہ نماز اپنے وقت پر پڑھنا۔ پھر والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور فرمایا پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔
(بخاری رقم: 504)

مزید پڑھیں

فادرز ڈے(Father’s day)

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک صحابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا
’’ ہم اپنے باپ سے کس انداز ولہجے میں بات کریں ؟‘‘
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’ایک غلام، جس کا آقا بہت سخت اور ظالم ہو ، غلام سے کوئی بڑی خطا سرزد ہو جائے اور وہ آقا کو اس کی اطلاع دینا چاہے، تو کیسا انداز اور لب و لہجہ اختیار کرے گا ؟ پس اسی طرح اپنے باپ کو مخاطب کیا کرو۔‘‘

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا سے صلح کرو ۔ سچی پرہیزگاری سے کام لو۔ آسمان اپنے غیر معمولی حوادث سے ڈرا رہا ہے۔ زمین بیماریوں سے انذار کر رہی ہے۔ مبارک وہ جو سمجھے۔“
( ملفوظات جلد اول صفحہ263)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو! فضائِل بھی امراض متعدّیہ کی طرح متعدّی ہونے ضروری ہیں۔ مومن کے لئے حکم ہے وہ اپنے اخلاق کو اس درجہ پر پہنچائے کہ وہ متعدّی ہوجائیں۔ کیونکہ کوئی عُمدہ بات قابل پذیرائی اورواجب التعمیل نہیں ہوسکتی ۔جب تک اُس کے اندر ایک چمک اور جذبہ نہ ہو۔ اُس کی درخشانی دُوسروں کو اپنی طرف متوجّہ کرتی ہے اور جذب ان کو کھینچ لاتا ہے اور پھر اس فیض کی اعلیٰ درجہ کی خوبیاں خودبخود دوسرے کے عمل کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ دیکھو! حاتم کا نیک نام ہونا سخاوت کے باعث مشہور ہے ۔ گو مَیں نہیں کہہ سکتا کہ وہ خُلوص سے تھی۔ ایسا ہی رستم و اسفند یار کی بہادری کے فسانے عام زبان زد ہیں۔ اگرچہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ خُلوص سے تھے۔ میرا ایمان اورمذہب یہ ہے کہ جب تک انسان سچا مومن نہیں بنتا ۔ اُس کے نیکی کے کام خواہ کیسے ہی عظیم الشان ہوں لیکن وُہ ریاکاری کے ملمّع سے خالی نہیں ہوتے ۔ لیکن چونکہ اُن میں نیکی کی اصل موجود ہوتی ہے اور یہ وُہ قابل قدر جوہر ہے جو ہر جگہ عزّت کی نِگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس لئے بایں ہمہ ملمّع سازی و ریاکاری وہ عزّت سے دیکھے جاتےہیں۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 212-213)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر5)

(تقریر نمبر5)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہماری جماعت میں شہزور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں ۔ بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں جو تبدیلِ اخلاق کے لیے کوشِش کرنے والے ہوں۔ یہ ایک امرواقعی ہے کہ وہ شہزور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے۔ نہیں! نہیں! ۔ اصلی بہادر وُہی ہے جو تبدیلِ اخلاق پر مقدرت پاوے ۔ پس یاد رکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیلِ اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے ۔ “
(ملفوظات جلد اول صفحہ 140)

مزید پڑھیں