تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ مَیں سچ کہتا ہوں کہ قرآن شریف کے سوا کوئی ایسی کتاب نہیں ہے کہ اس کو جتنی بار پڑھو، جس قدر پڑھو اور جتنا اس پر غور کرواُس قدر لطف اور راحت بڑھتی جاوےگی ۔ طبیعت اُکتانے کی بجائے چاہے گی کہ اَور وقت اِس پر صرف کرو۔ عمل کرنے کے لئے کم از کم جوش پیدا ہوتا ہے اور دل میں ایمان،یقین اور عرفان کی لہریں اٹھتی ہیں۔ ‘‘
(حقائق الفرقان جلد 1صفحہ34 )

مزید پڑھیں

مقامِ خلافت کی عظمت اور اہمیت

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’جس کو خد اخلیفہ بناتا ہے، کوئی نہیں جو اس کے کاموں میں روک ڈال سکے۔ اس کو ایک قوت اور اقبال دیا جاتا ہے اور ایک غلبہ اور کامیابی اس کی فطرت میں رکھ دی جاتی ہے“
(روزنامہ الفضل، 25 مارچ1961 ء)

مزید پڑھیں

بزرگانِ اُمّت  کے نزدیک خلافت کی اہمیت

حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔
’’نزولِ نعمتِ الٰہی یعنی ظہور خلافتِ راشدہ سے کسی زمانہ میں مایوس نہ ہونا چاہیے اور اِسے مجیب الدعوات سے طلب کرتے رہنا چاہیے اور اپنی دعا کی قبولیت کی امید رکھنا اور خلیفہ راشد کی جستجو میں ہر وقت ہمت صرف کرنا چاہیے، شاید کہ یہ نعمتِ کاملہ اِسی زمانہ میں ظہور فرماوے اور خلافتِ راشدہ اِسی وقت ہی جلوہ گر ہو جائے“
(منصبِ امامت صفحہ 86)

مزید پڑھیں

50 تقاریر برموقع یوم خلافت2025ء (حصہ دوم)

”مشاہدات“ کے آنگن  کا 22 واں درخت بنیادی اینٹ خلافت کے حوالہ  سے جو بھی موضوع ذہن میں آئے جیسے ضرورتِ خلافت، قیامِ خلافت، نظامِ خلافت، مقام و منصبِ خلافت،  برکاتِ خلافت، استحکامِ خلافت اور حفاظتِ خلافت نیز خلافت سے وابستگی،  خلافت سے پختہ تعلق اور پیار و محبت۔ ان تمام کو پایۂ تکمیل تک […]

مزید پڑھیں

خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے احمدیوں پر کہ نہ صر ف ہادیٔ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں شامل ہونے کی توفیق ملی بلکہ اس زمانے میں مسیح موعود علیہ السلام اور مہدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق بھی اس نے عطا فرمائی جس میں ایک نظام قائم ہے، ایک نظام خلافت قائم ہے، ایک مضبوط کڑا آپ کے ہاتھ میں ہے جس کاٹوٹنا ممکن نہیں لیکن یاد رکھیں کہ یہ کڑا تو ٹوٹنے والا نہیں لیکن اگر آپ نے اپنے ہاتھ ذرا ڈھیلے کیے تو آپ کے ٹوٹنے کے امکان پیدا ہو سکتے ہیں، اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اس سے بچائے اس لیے اس حکم کو ہمیشہ یا رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ ے رکھو اور نظام جماعت سے ہمیشہ چمٹے رہو کیونکہ اب اس کے بغیر آپ کی بقا نہیں۔‘‘
(خطبات مسرور جلد1۔صفحہ256۔257خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 22اگست2003ء)

مزید پڑھیں

خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ سارا عالَمِ اسلام مل کر زور لگا لے اور خلیفہ بنا کر دکھا دے، وہ نہیں بنا سکتے، کیونکہ خلیفہ کا تعلق خدا کی پسند سے ہے“
(الفضل انٹر نیشنل، 12 ؍پریل 1993 ء)

مزید پڑھیں

خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ ہی بناتا ہے۔ اگر بندوں پر اس کو چھوڑا جاتا تو جو بھی بندوں کی نگاہ میں افضل ہوتا اسے ہی وہ اپنا خلیفہ بنا لیتے۔ لیکن خلیفہ خود اللہ تعالیٰ بناتا ہے اور اس کے انتخاب میں کوئی نقص نہیں۔ وہ اپنے ایک کمزور بندے کو چنتا ہے ، جسے وہ بہت حقیر سمجھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت اور جلال کا ایک جلوہ کرتا ہے اور جو کچھ وہ تھا اور جو کچھ اس کا تھا اس میں سے وہ کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے سامنے کلّی طور پر فنا اور بے نفسی کا لبادہ وہ پہن لیتا ہے اور اس کا وجود دنیا سے غائب ہو جاتا ہے اور خدا کی قدرتوں میں وہ چھپ جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اسے اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے “
(الفضل، 17مارچ1967)

مزید پڑھیں

خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”…خلافت کے تو معنے ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اُس وقت سب سکیموں، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم ، وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ ٔوقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔ جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اُس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ24؍جنوری 1936ءمطبوعہ خطبات محمود جلد 17صفحہ 74)

مزید پڑھیں

خلافت از افاضات حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’بیعت کے معنے اپنے آپ کو بیچ دینے کے ہیں اور جب انسان کسی کو دوسرے ہاتھ پر بیچ دیتا ہے تو اُس کا اپنا کچھ نہیں رہتا ۔ ‘‘
( خطبات نور صفحہ171)

مزید پڑھیں

بابت تاریخ ’’مشاہدات‘‘ کے دو سال

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کوئی محدود طاقتوں والا نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے کہ نبی کے زمانے میں بھی نبی سے کئے گئے تمام وعدے اور فتوحات کو اس زمانہ میں اور اس کی زندگی میں پورا کر دے تو کر سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بعد میں آنے والے بھی ان فتوحات اور انعامات سے حصہ لینے والے بن جائیں۔ پس اس زمانہ کے تیز وسائل ہمیں اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ان کا صحیح استعمال کریں۔ انہیں کام میں لائیں اور صحابہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زمانہ کے امام کے معین و مددگار بن جائیں اور مددگار بن کر اس کے مشن کو پورا کرنے والے ہوں۔ تیز رفتار وسائل اس طرف توجہ مبذول کروا رہے ہیں کہ ہم اس تیز رفتاری کو خدا تعالیٰ کا انعام سمجھتے ہوئے اس کے دین کے لئے استعمال کریں ……پس خداتعالیٰ نے اس نشر کے اس زمانہ میں جدید طریقے مہیا فرما دیئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے پاس آج کل کے وسائل اور جدید طریقے موجودنہیں تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے تبلیغِ اسلام کا حق ادا کر دیا۔ آج کل ہمارے پاس یہ طریقے موجود ہیں ….. جو تیزی میڈیا میں آج کل ہے آج سے چند دہائیاں پہلے ان کا تصوّر بھی نہیں تھا۔ پس یہ مواقع ہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائے ہیں کہ اسلام کی تبلیغ اور دفاع میں ان کو کام میں لاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ جدید ایجادات اس زمانہ میں ہمارے لئے اس نے مہیا فرمائی ہیں۔ ہمارے لئے یہ مہیا کر کے تبلیغ کے کام میں سہولت پیدا فرما دی ہے اور ہماری کوشش اس میں یہ ہونی چاہئے کہ بجائے لغویات میں وقت گزارنے کے، ان سہولتوں سے غلط قسم کے فائدے اٹھانے کے ان سہولتوں کا صحیح فائدہ اٹھائیں، ان کو کام میں لائیں اور اگر اُس گروہ کا ہم حصہ بن جائیں جو مسیح محمدی کے پیغام کو دنیا میں پہنچا رہا ہے تو ہم بھی اس گروہ میں شامل ہو سکتے ہیں، ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن کی خداتعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ15 ؍اکتوبر 2010ء)

مزید پڑھیں