سیرت حضرت سیّدہ سارہ بیگم صاحبہ(حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ کے حصولِ علم کے جذبے کے بارے فرماتےہیں :
’’اس سے بھی زیادہ فرق ان کی تعلیم اور دوسروں کی تعلیم میں یہ تھا کہ دوسری عورتیں اپنے نفس یا اپنی قوم کیلئے تعلیم حاصل کرتی ہیں انہوں نے اپنے آخری سالوں میں محض اللہ تعالی کی خوشنودی کیلئے، اسلام کی خدمت کیلئے تعلیم حاصل کی۔ اس لئے اس بوجھ کو اٹھایا کہ جماعت کی مستورات کی دینی اور دنیوی ترقی کیلئے مفید ہو سکیں۔ غرض پیدائش اور موت کے علاوہ ان کا سب وقت دوسروں کے فائدہ کیلئے خرچ ہوا۔ انہوں نے اپنی زندگی سے ایک ذرہ بھر بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔‘‘
( انوار العلوم جلد13 صفحہ 84)

مزید پڑھیں

سیرت حضرت سیدہ مریم النساء بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا(حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتےہیں :
’’ مریم ایک بہادر عورت تھیں جب کوئی نازک موقع آتا میں یقین کے ساتھ ان پر اعتبار کرسکتا تھا۔ ان کی نسوانی کمزوری اس وقت دب جاتی تھی چہرہ پر استقلال اور عزم کے آثار پائے جاتے تھے اور دیکھنے والا کہہ سکتا تھا اب موت یا کامیابی کے سوا اس عورت کے سامنے کوئی تیسری چیز نہیں ہے۔ یہ مر جائے گی مگر کام سے پیچھے نہ ہٹے گی۔ ضرورت کے وقت راتوں اس میری محبوبہ نے میرے ساتھ کام کیا ہے اور تھکان کی شکایت نہیں کی۔ انہیں صرف اتنا کہنا کافی ہوتا تھا کہ یہ سلسلہ کا کام ہے یا سلسلہ کے لیے کوئی خطرہ یا بدنامی ہے اور وہ شیرنی کی طرح لپک کر کھڑی ہوجاتیں اور بھول جاتیں اپنے آپ کو بھول جاتیں کھانے پینے کو۔بھول جاتیں اپنے بچوں کو۔ بلکہ بھول جاتیں مجھ کو بھی اور صرف وہ کام ہی یاد رہ جاتا اور اس کے بعد وہ ہوتیں اور گرم پانی کی بوتلیں۔‘‘
(انوار العلوم جلد 17 صفحہ 353-354)

مزید پڑھیں

سیرت حضرت سیّدہ امۃ الحئی صاحبہ رضی اللہ عنہا(حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت سیدہ امۃ الحئی صاحبہ کے متعلق فرماتے ہیں :
’’رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔الْاَرْوَاحُ جُنُوْدٌ مُجَنَّدَۃٌ کہ روحیں ایک دوسرے سے وابستہ اور پیوستہ ہوتی ہیں۔یعنی بعض کا بعض سے تعلق ہوتا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری روح کو امۃ الحئی کی روح سے ایک پیوستگی حاصل تھی…میں نہیں جانتا تھا یہ میری نیک نیتی اور اپنے اُستاد اور آقا کی خواہش کو پورا کرنے کی آرزو ایسے اعلیٰ درجہ کے پھل لائے گی اور میرے لیے اس سے ایسے راحت کے سامان پیدا ہوں گے۔مجھے بہت سی شادیوں کے تجربے ہیں۔میں نے خود بھی کئی شادیاں کی ہیں اور بحیثیت ایک جماعت کا امام ہونے کے ہزاروں شادیوں سے تعلق ہے اور ہزاروں واقعات مجھ تک پہنچتے رہتے ہیں مگر میں نے عمر بھر کوئی کامیاب شادی اور خوش کرنے والی شادی نہیں دیکھی جیسی میری یہ شادی تھی۔‘‘
( خطباتِ محمود جلد 3صفحہ204۔205)

مزید پڑھیں

سیرت حضرت سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا(حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ کی الفضل کے اجرا میں قربانی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
”خدا تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح خدیجہؓ کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تحریک کی تھی۔ انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنویں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو جو اس زمانہ میں شاید سب سے زیاده مذموم تھا، اپنے دو زیور مجھے دے دیئے کہ میں ان کو فروخت کرکے اخبار جاری کر دوں۔ ان میں سے ایک تو ان کے اپنے کڑے تھے اور دوسرے ان کے بچپن کے کڑے تھے جو انہوں نے اپنی اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم سلّمہا اللہ تعالیٰ کےاستعمال کے لئے رکھے ہوئےتھے۔میں زیورات کو لے کر اسی وقت لاہور گیا اور پونے پانچ سو کے وہ دونوں کڑے فروخت ہوئے یہ ابتدائی سرمایہ الفضل کا تھا۔ الفضل اپنے ساتھ میری بے بسی کی حالت اور میری بیوی کی قربانی کو تازہ رکھے گا…اس حسن سلوک نے نہ صرف مجھے ہاتھ دئیے جس سے میں دین کی خدمت کرنے کے قابل ہوا اور میرے لئے زندگی کا نیا ورق الٹ دیا بلکہ ساری جماعت کی زندگی کے لئے بھی ایک بہت بڑا سبب پیدا کردیا…میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ سامان پیدا نہ کرتا تو مَیں کیا کرتا اور میرے لئے خدمت کا کونسا دروازہ کھولا جاتا اور جماعت میں روزمرہ بڑھنے والا فتنہ کس طرح دُور کیا جاسکتا‘‘
(یادایام، انوار العلوم جلد8 صفحہ369-370)

مزید پڑھیں

اسلامی تہذیب و تمدّن

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اسلامی تمدّن کی تعریف میں فرماتے ہیں:
”اسلام نے ہمارے لئے ہر بات کے متعلق احکام دے رکھے ہیں ۔ یہ احکام بیکار اور فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہیں اور انہی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے مجموعہ کا نام اسلامی تمدّن ہے۔ اسلامی تمدّن نماز کا نام نہیں ، روزے کا نام نہیں ، زکوٰۃ کا نام نہیں بلکہ ان چھوٹے چھوٹے احکام کے مجموعہ کا نام ہے جو ایسا تغیّر پیدا کردیتے ہیں کہ اس کی وجہ سے وہ سوسائٹی دوسری سوسائیٹیوں سے نمایاں اور ممتاز نظر آتی ہے۔ “
(خطبہ جمعہ 21 اپریل 1933ء)

مزید پڑھیں

سیرت حضرت سیّدہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت سیدہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ  کی ولادت پر اپنی ڈائری میں تحریر فرمایا:
’’آج 25 جون 1904ء روز شنبہ کو یعنی اس رات کو جو جمعہ کا دن گزرنے کے بعد آتی ہے مطابق 10ربیع الثانی 1322 ہجری اور دہم ہاڑ سمت 1906 میرے گھر میں لڑکی پیدا ہوئی اور اس کا نام امۃ الحفیظ رکھا گیا۔ یہی وہ لڑکی ہے جس کی نسبت الہام ہوا تھا واللّٰہُ مُخْرِجٌ مَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ‘‘
(کاپی الہامات حضرت مسیح موعودؑ، بحوالہ دخت کرام صفحہ31)

مزید پڑھیں

سیرت حضرت سیّدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’خدا تعالیٰ نے…ایک لڑکی کی بشارت دی اور اس کی نسبت فرمایا تُنَشَّاءُ فِی الْحِلْیَۃِ یعنی زیور میں نشوونما پائے گی۔ یعنی نہ خورد سالی میں فوت ہوگی اور نہ تنگی دیکھے گی۔ چنانچہ بعداس کے لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مبارکہ بیگم رکھا گیا ‘‘
( روحانی خزائن جلد 22صفحہ227 )

مزید پڑھیں

سیرت حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد رضی اللہ عنہ

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ حضرت مرزا شریف احمد صاحب  کے متعلق فرماتے ہیں کہ
آپ کو حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ بعض لحاظ سے خاص مشابہت تھی۔ یہ مشابہت جسمانی نوعیت کے لحاظ سے بھی تھی اور حضرت مسیح موعودؑ کی طرح مزاج میں ایک لطیف قسم کا توازن پایا جاتا تھا اورطبیعت میں انتہائی سادگی اور غریب نوازی تھی۔

مزید پڑھیں

سیرت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد رضی اللہ عنہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ
’’پینتیسواں نشان یہ ہے کہ پہلا لڑکا محمود احمد پیدا ہونے کے بعد میرے گھر میں ایک اَور لڑکا پیدا ہونے کی خدا نے مجھے بشارت دی اور اس کا اشتہار بھی لوگوں میں شائع کیا گیا چنانچہ دوسرا لڑکا پیدا ہوا اس کا نام بشیر احمد رکھا گیا۔‘‘
( حقیقۃ الوحی صفحہ 227)

مزید پڑھیں

سیرت حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب رضی اللہ عنہ

حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی شکل و شباہت بہت کچھ حضرت مسیح موعودؑ کے مشابہ تھی اور کچھ لکھا ہوا پڑھتے وقت گنگنانے کی آواز حضرت مسیح موعودؑ کی آواز سے بالکل ملتی تھی۔ آپ نہایت متواضع اور وسیع الاخلاق انسان تھے۔ قوتِ تحریر اور زورِ قلم آپ نے ورثہ میں پایا تھا

مزید پڑھیں