تقریر بابت رمضان المبارک 2025ء اَلصَّلٰوۃُ عِمَادُ الدِّیْن
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ
نماز کو چھوڑنا انسان کو شرک اور کفر کے قریب کر دیتا ہے۔
(مسلم کتاب الایمان)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ
نماز کو چھوڑنا انسان کو شرک اور کفر کے قریب کر دیتا ہے۔
(مسلم کتاب الایمان)
عَنۡ عَبۡدِ اللّٰہِ بۡنِ عَمۡرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ اِنَّمَا الدُّنۡیَا مَتَاعٌ، وَلَیۡسَ مِنۡ مَتَاعِ الدُّنۡیَا شَیٔ ءٌ أَفۡضَلَ مِنَ الۡمَرۡ أَۃِ الصَّالِحَۃِ
(ابن ماجہ کتاب النکاح باب افضل النساء1855)
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا تو صرف ایک عارضی فائدہ کی چیز ہے اور اس دنیا کے عارضی فائدے میں صالحہ عورت سے بڑھ کر افضل کوئی چیز نہیں ۔
عید کے بعد جو نفلی روزے ہیں یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع کئے تھے اور جن لوگوں کو توفیق رکھنے کی ہوان کو رکھنے چاہئیں۔ اس سے ان کی ایک قسم کی وصیت ادا ہوجاتی ہے کیونکہ 30 روزے میں 6 اور ڈال لو تو چھتیس بن گئے اور سال کے 360 دن اور 36 روزے یہ ان کی گویا وصیت ہوگئی تو بدن کی بھی وصیت ہوجاتی ہے۔ اس پہلو سے جو رکھ سکتے ہیں جن کو توفیق ہے وہ رکھیں شوق سے بعضوں کو رمضان میں ہی مشکل ہوتی ہے اور ان کے لئے زائد روزے رکھنا طبیعت کے لحاظ سے یا بیماری کے لحاظ سے آسان نہیں ہوتا۔ اس لئے ان کو اجازت ہے وہ بیشک نہ رکھیں۔
(لجنہ سے ملاقات، الفضل 8؍مئی 2000ء)
نماز کے دوران قرآن کریم کی تلاوت آغاز سے شروع کرتے وقت بھی طریق یہی ہے کہ نماز میں پڑھی جانے والی سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد سورۃ البقرہ کی تلاوت شروع کی جائے گی، دوبارہ سورۃ۔فاتحہ نہیں پڑھی جائے گی۔ البتہ فقہاء نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ قرآن کریم ختم کرنے کی صورت میں اگر کوئی شخص نماز میں سورۃ الناس کے بعد دوبارہ قرآن کریم کا کچھ ابتدائی حصہ پڑھنا چاہے تو وہ سورۃ فاتحہ سے آغاز کر سکتا ہے اور اس کے بعد سورۃ البقرہ کا بھی کچھ پڑھ سکتاہے، اس میں کچھ حرج کی بات نہیں لیکن ابتداء میں سورۃ فاتحہ کا تکرار بعض فقہاء کے نزدیک موجب سجدہ سہو ہے۔
مزید پڑھیںحضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” ایک دفعہ میرے دل میں آیا کہ فدیہ کس لئے مقرر کیا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ توفیق کے واسطے ہے تاکہ روزہ کی توفیق اِس سے حاصل ہو۔ خداتعالیٰ ہی کی ذات ہے جو توفیق عطا کرتی ہے اور ہر شے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے ۔ خد اتعالیٰ تو قادرِ مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقوق کو بھی روزہ کی طاقت عطا کر سکتا ہے تو فدیہ سے یہی مقصود ہے کہ وہ طاقت حاصل ہو جائے اور یہ خداتعالیٰ کے فضل سے ہوتا ہے۔ پس میرے نزدیک خوب ہے کہ دعا کرے کہ الٰہی! یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور مَیں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا اِن فوت شدہ روزوں کو ادا کرسکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خدا تعالیٰ طاقت بخش دے گا۔“
(البدر12دسمبر1902ء صفحہ52)
جو شخص کسی بیماری یا سفر کی وجہ سے رمضان میں روزے نہیں رکھ سکا اسے چاہیے کہ اولین فرصت میں جب اسے سہولت ہو فرض روزے مکمل کرلے۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ حضور ﷺ کی ازواج کا یہ طریق تھا کہ وہ اپنے چھوٹے ہوئے روزے اگلا رمضان آنے سے قبل شعبان میں پورے کر لیا کرتی تھیں۔
(صحیح مسلم کتاب الصیام باب قضاء رمضان فی شعبان)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
”نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمدِ الٰہی ہے ،استغفار ہے اور درود شریف۔ تمام وظائف … کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اِس سے ہر ایک قسم کے غم وہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپؐ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ہے اَ لَا بِذِکرِ اللّٰہِ تَطمَئِنُّ القُلُوبُ (الرعد:29)۔ اطمینان، سکینتِ قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اَور کوئی ذریعہ نہیں…میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو ۔ اس سے تمہیں اطمینانِ قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یادِ الٰہی کا ذریعہ ہے اسی لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکرِی۔“
(الحکم 31 مئی 1903ء صفحہ9)
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللّٰهِ وَخَيْرُ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالۃ
(مسلم کتاب الجمع)
کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریق محمدؐ کا طریق ہے۔بدترین فعل دین میں نئی نئی بدعات کو پیدا کرنا ہے۔ہر بدعت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
’’اپنے نفس پر اتنا قابو رکھتا ہوں اور خدا تعالیٰ نے میرے نفس کو ایسا مسلمان بنایا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک سال بھر میرے سامنے بیٹھ کر میرے نفس کو گندی سے گندی گالی دیتا رہے، آخر وہی شرمندہ ہو گا۔ اور اسے اقرار کرنا پڑے گا کہ وہ میرے پاؤں جگہ سے اکھاڑ نہ سکا۔‘‘
)سیرت حضرت مسیح موعودؑ از مولانا عبدالکریمؓ سیالکوٹی صفحہ51۔52(
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایده الله تعالىٰ فرماتے ہیں:
’’اگر خلیفہ وقت کی باتوں پر کان نہیں دھریں گے تو آہستہ آہستہ نہ صرف اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے فضلوں سے دور کر رہے ہوں گے بلکہ اپنی نسلوں کو بھی دین سے دور کرتے چلے جائیں گے۔‘‘
(خطبات مسرور جلد 8 صفحہ 191)