حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ترقی دینی ہے اور دے رہا ہے۔ خود لوگوں کی راہنمائی فرماتا ہے۔ خلافت کے ساتھ ان کو جوڑتا ہے اور جوڑ رہا ہے ورنہ یہ انسانی بس کی بات نہیں ہے۔ افرادِ جماعت اور خلیفۂ وقت کو ایک ایسے مضبوط بندھن میں باندھنا جس کی مثال ممکن نہ ہو، یہ انسان کے بس کی بات نہیں اور نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دل خلافت کے ساتھ جوڑتا ہے جو پہلے احمدی ہیں بلکہ ان کے بھی دل خلافت کے ساتھ جوڑتا ہے کہ جو خود بعد میں شامل ہو رہے ہیں اور بالکل نئے آنے والے ہیں جن کی پوری طرح تربیت بھی نہیں ہے۔ یہ صرف خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے۔ وہی اخلاص و وفا بیعت کے بعد لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دکھاتے ہیں۔ وہی اخلاص ووفا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰةوالسلام کے مشن کو پورا کرنے کے لیے اور آپ علیہ السلام کے نام پر خلافتِ احمدیہ سے دکھاتے ہیں اور دکھا رہے ہیں۔ حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کی بیعت جس طرح لوگوں نے کی وہ اللہ تعالیٰ کی خالص تائید و نصرت نہیں تھی تو اَور کیا تھا۔ سوائے چند منافق طبع لوگوں کے جو ہر جماعت میں ہوتے ہیں خلافت کے فدائی اور شیدائی بڑھتے چلے گئے اور جو منافق تھے ان کی آپؓ نے اچھی طرح سرزنش کی اور ان کو ان کے مقام پر رکھا۔ ان کو سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ پھرخلافتِ ثانیہ کے انتخاب کے وقت انہی مخالفوں کے شور مچانے کے باوجود جو خلافتِ اولیٰ میں منافقت کرتے ہوئے جماعت میں رہ رہے تھے۔ انہوں نے مخالفت کی۔ لیکن جماعت نے باوجود ان لوگوں کے ورغلانے کے، شور مچانے کے، فتنہ اور فساد پیدا کرنے کے حضرت میاں صاحبؓ ، حضرت مرزا محمود احمد صاحبؓ کہہ کر حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کی بیعت کر لی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح تیزی سے جماعت ترقی کرتی چلی گئی۔ دنیا میں مشن ہاؤس کھلے، مساجد بنیں، لٹریچر کی اشاعت ہوئی۔ وہ کام جن کے کرنے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے تھے آگے بڑھتے رہے۔
پھرخلافتِ ثالثہ میں اللہ تعالیٰ نے باوجود حکومتِ وقت کے بہت سخت حملے کے جماعت کو ترقیات سے نوازا۔ کشکول جماعت کے ہاتھ میں پکڑانے والے خود بُری حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مئی 2022 ء )
مزید پڑھیں