خلافت ، روحانی ترقیات و فیضان  کا ذریعہ

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’محض کسی ذات سے تعلق رکھنے والے عموماً ٹھوکر کھایا کرتے ہیں۔ میرے خیال میں تو انبیاء کی صفات بھی ان کے درجہ اور عہدہ کے لحاظ سے ہی ہوتی ہیں نہ کہ ان کی ذات کے لحاظ سے۔ پس تمہیں درجہ (خلافت) کی قدر کرنی چاہیے، کسی کی ذات کو نہ دیکھنا چاہیے“
(درس القرآن صفحہ 73)

مزید پڑھیں

خلفاء کے ادوار میں جماعتی ترقیات و فتوحات (خلافتِ رابعہ اور خامسہ میں الٰہی تائیدات، فتوحات و ترقیات) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’خلافتِ رابعہمیں ترقیات کا ایک اَور باب کھلا۔ اللہ تعالیٰ کی تائیدات اور نصرت کے نئے نظارے ہم نےدیکھے۔ اشاعتِ اسلام کے نئے نئے رستے کھلے۔ خلیفۂ وقت کےہاتھ کاٹنے کا سوچنے والوں کے اپنے ہاتھ کٹ گئے اور فضا میں ان کے جسم بکھر گئے لیکن جماعت کی ترقی کے قدم نہیں رکے۔ تبلیغ کے میدان میں وسعت پیدا ہوئی۔ ایم ٹی اے کا آغاز ہوا جس سے ہر گھر میں جماعت کا پیغام پہنچنا شروع ہوا۔ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا تکمیل کی طرف بڑھنا ہے اور یہی چیز ہے اگر کوئی سمجھے تو۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا پورا ہونا نہیں تو اَور کیا تھا۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مئی 2022 ء )

مزید پڑھیں

خلفاء کے ادوار میں جماعتی ترقیات و فتوحات (خلافتِ اولیٰ، ثانیہ و ثالثہ کے ادوار) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ترقی دینی ہے اور دے رہا ہے۔ خود لوگوں کی راہنمائی فرماتا ہے۔ خلافت کے ساتھ ان کو جوڑتا ہے اور جوڑ رہا ہے ورنہ یہ انسانی بس کی بات نہیں ہے۔ افرادِ جماعت اور خلیفۂ وقت کو ایک ایسے مضبوط بندھن میں باندھنا جس کی مثال ممکن نہ ہو، یہ انسان کے بس کی بات نہیں اور نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دل خلافت کے ساتھ جوڑتا ہے جو پہلے احمدی ہیں بلکہ ان کے بھی دل خلافت کے ساتھ جوڑتا ہے کہ جو خود بعد میں شامل ہو رہے ہیں اور بالکل نئے آنے والے ہیں جن کی پوری طرح تربیت بھی نہیں ہے۔ یہ صرف خدا تعالیٰ کا ہی کام ہے۔ وہی اخلاص و وفا بیعت کے بعد لوگ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دکھاتے ہیں۔ وہی اخلاص ووفا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰةوالسلام کے مشن کو پورا کرنے کے لیے اور آپ علیہ السلام کے نام پر خلافتِ احمدیہ سے دکھاتے ہیں اور دکھا رہے ہیں۔ حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کی بیعت جس طرح لوگوں نے کی وہ اللہ تعالیٰ کی خالص تائید و نصرت نہیں تھی تو اَور کیا تھا۔ سوائے چند منافق طبع لوگوں کے جو ہر جماعت میں ہوتے ہیں خلافت کے فدائی اور شیدائی بڑھتے چلے گئے اور جو منافق تھے ان کی آپؓ نے اچھی طرح سرزنش کی اور ان کو ان کے مقام پر رکھا۔ ان کو سر اٹھانے کی ہمت نہیں ہوئی۔ پھرخلافتِ ثانیہ کے انتخاب کے وقت انہی مخالفوں کے شور مچانے کے باوجود جو خلافتِ اولیٰ میں منافقت کرتے ہوئے جماعت میں رہ رہے تھے۔ انہوں نے مخالفت کی۔ لیکن جماعت نے باوجود ان لوگوں کے ورغلانے کے، شور مچانے کے، فتنہ اور فساد پیدا کرنے کے حضرت میاں صاحبؓ ، حضرت مرزا محمود احمد صاحبؓ کہہ کر حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کی بیعت کر لی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح تیزی سے جماعت ترقی کرتی چلی گئی۔ دنیا میں مشن ہاؤس کھلے، مساجد بنیں، لٹریچر کی اشاعت ہوئی۔ وہ کام جن کے کرنے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام آئے تھے آگے بڑھتے رہے۔
پھرخلافتِ ثالثہ میں اللہ تعالیٰ نے باوجود حکومتِ وقت کے بہت سخت حملے کے جماعت کو ترقیات سے نوازا۔ کشکول جماعت کے ہاتھ میں پکڑانے والے خود بُری حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 27 مئی 2022 ء )

مزید پڑھیں

خلافتِ  احمدیہ کے دوران جماعتی ترقیات

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خد تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو چھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لیے تم میری اس بات سے جو مَیں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا… مَیں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور مَیں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہو گے…اور چاہیے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں“
(الوصیت، ر وحانی خزائن جلد 20 صفحہ 300)

مزید پڑھیں

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر 4 بابت خلافتِ خامسہ)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
دنیا میں کوئی ایسی جماعت نہیں اور کوئی ایسا لیڈر نہیں جو ایک دوسرے کے لیے اتنے بے قرار ہوں۔جماعتِ احمدیہ کے افراد ہی وہ خوش قسمت ہیں جن کی فکر خلیفۂ وقت کو رہتی ہے … کوئی مسئلہ بھی دنیا میں پھیلے ہوئے احمدیوں کا چاہے وہ ذاتی ہو یا جماعتی، ایسا نہیں جس پر خلیفۂ وقت کی نظر نہ ہو اور اُس کے حل کے لئے وہ عملی کوشش کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا نہ ہو۔ اُس سے دعائیں نہ مانگتا ہو… دنیا میں کوئی ملک نہیں جہاں رات سونے سے پہلے چشمِ تصور میں مَیں نہ پہنچتا ہوں اور اُن کے لیے سوتے وقت بھی اور جاگتےوقت بھی دعا نہ کرتاہوں۔
(الفضل یکم اگست2014ء)

مزید پڑھیں

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر3  بابت خلافتِ ثالثہ و رابعہ)

1974ء کے حالات میں احمدی لٹے پٹے ربوہ میں آتے تھے۔ طبعی طور پر افسردہ اور بےچین چہروں کے ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے ملتے تھے اور ہنستے مسکراتے چہروں کے ساتھ باہر آتے تھے۔ وہ کیا چیز تھی جو ان کے چہروں کی زردی کو سرخی میں بدل دیتی تھی۔ وہ ایک روحانی باپ کی محبت تھی۔ ایک ٹھنڈا سایہ تھا،وہ پیار کا چشمہ تھا جس میں سارے غم دھل جاتے تھے۔

مزید پڑھیں

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر 2 بابت خلافتِ ثانیہ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
مَیں دیانت داری سے کہہ سکتا ہوں کہ لوگوں کے لیے جو اخلاص اور محبت میرے دل میں میرے اس مقام پر ہونے کی وجہ سے ہے جس پر خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے اور جو ہمدردی اور رحم میں اپنے دل میں پاتا ہوں وہ نہ باپ کو بیٹے سے ہے اور نہ بیٹے کو باپ سے ہو سکتا ہے۔
(الفضل14؍اپریل1924ء)

مزید پڑھیں

دونوں طرف ہو آگ برابر لگی ہوئی (تقریر نمبر 1 بابت خلافتِ اُولیٰ )

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ 1910ء میں گھوڑے سے گر کر زخمی ہو گئے تو جماعت کے لیے قیامت کا لمحہ تھا۔ گھر کےباہر مردوں اور عورتوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا ۔ فرمایا:
اِن سب سے کہہ دو کہ مَیں گھبراتا نہیں سب اپنے نام لکھوادیں اور گھروں کو چلے جائیں۔ مَیں ان کے لیے دعا کرتا رہوں گا۔
(حیات نور صفحہ472 )

مزید پڑھیں

امامِ وقت سے اِک رشتۂِ صدق و وفا رکھنا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’درحقیقت جو شخص کسی سے کامل محبت کرتا ہے تو گویا اُسے پی لیتا ہے…اور اس کے اخلاق اور اس کے چال چلن کے ساتھ رنگین ہو جاتا ہے… یہاں تک کہ اسی کا رُوپ ہوجاتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔ یہی بھید ہے کہ جو شخص خدا سے محبت کرتا ہے وہ ظلّی طور پر بقدر اپنی استعداد کے اُس نور کو حاصل کر لیتا ہےجو خدا تعالیٰ کی ذات میں ہے اور شیطان سے محبت کرنے والے وہ تاریکی حاصل کر لیتے ہیں جو شیطان میں ہے‘‘
(نورالقرآن نمبر2، روحانی خزائن جلد 9صفحہ 430

مزید پڑھیں

تحریکات حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”اگر نظامِ خلافت سے فیض پانا ہے تو اللہ تعالیٰ کے اِحکم کی تعمیل کرو کہ یَعبُدُونَنِی یعنی میری عبادت کرو اِس پر عمل کرنا ہو گا … دنیا کی ہر جماعت میں جہاں جہاں بھی احمدی آباد ہیں۔ نمازوں کے قیام کی خاص طور پر کوشش کریں۔ “
(الفضل 29؍مئی 2007ء)

مزید پڑھیں