اَلْمَسْجِدُ مَکَانِیْ(مسیح موعودؑ) مسجد میرا مکان ہے
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ ارکانِ اسلام میں سب سے زیادہ زور نماز پر دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نمازیں سنوار کر پڑھاکرو۔
(سیرت المہدی جلد3 صفحہ126 )
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ ارکانِ اسلام میں سب سے زیادہ زور نماز پر دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نمازیں سنوار کر پڑھاکرو۔
(سیرت المہدی جلد3 صفحہ126 )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔جو جمیع اخلاق میں کامل تھے۔ اسی لئے آپ کی شان میں فرمایا۔ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔“
( ملفوظات جلد 1صفحہ 133 ایڈیشن 1984ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’منہ کی پھونکیں کیا ہوتی ہیں ؟ یہی کہ کسی نے ٹھگ کہہ دیا، کسی نے دکاندار اور کافر اور بے دین کہہ دیا۔ غرض یہ لوگ ایسی باتوں سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں، مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ نور اللہ کو بجھاتے بجھاتے خود ہی جل کر ذلیل ہوجاتے ہیں۔‘‘
(الحکم جلد 5، مورخہ 24؍جنوری 1901ء)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام دشمنوں کی تدبیروں اور اللہ تعالیٰ کی تقدیروں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’کیا کیا مکر ہیں جو کر رہے ہیں اور کیا کیا منصوبے ہیں جو اندر ہی اندر ان کے گھروں میں ہو رہے ہیں۔ مگر کیا وہ خدا پر غالب آجائیں گے اور کیاوہ اس قادر مطلق کے ارادے کو روک دیں گے جو تمام نبیوں کی زبانی ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ اس ملک کے شریر اور بد قسمت دولت مند دنیا داروں پر بھروسہ رکھتے ہیں مگر خدا کی نظر میں وہ کیا ہیں ؟صرف ایک مرے ہوئے کیڑے۔ اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کوجو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہےنامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی…مَیں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اورکوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ67)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
’’ہم سب ابرار، اخیار امت کی عزت کرتے ہیں اور ان سے محبت رکھتے ہیں لیکن ان کی محبت اور عزت کا یہ تقاضا نہیں ہے کہ ہم ان کو خدا بنا لیں … یاد رکھو! انبیاء علیہم السلام کو جو شرف اور رتبہ ملا وہ صرف اسی بات سے ملا ہے کہ انہوں نے حقیقی خدا کو پہچانا اور اس کی قدر کی۔ اسی ایک ذات کے حضور انہوں نے اپنی ساری خواہشوں اور آرزوؤں کو قربان کیا، کسی مردہ اور مزار پر بیٹھ کر انہوں نے مرادیں نہیں مانگی ہیں“
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 522-524)
ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی کو مخاطب ہوکر فرمایا ’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ کےتکرار سے‘‘ سے مشکلات دُور ہوتی ہیں۔
(سیرة المہدی جلد دوم حصہ چہارم صفحہ 28 روایت نمبر1016)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
’’ ایک دفعہ مَیں کشتی میں بیٹھا دریا کی سیر کر رہا تھا اور بھائی عبد الرحیم صاحب میرے ساتھ تھے ۔ میرے لڑکے ناصر احمد نے بچپن کے لحاظ سے کہا کہ ابا جان! اگر اس وقت ہمارے پاس کوئی مچھلی بھی ہوتی تو بڑا مزا آتا ۔ اس وقت یکدم میرے دل میں خیال پیدا ہوا لوگ تو خواجہ خضر سے کچھ اور مراد لیتے ہیں مگر مَیں یہ سمجھتا ہوں کہ خضر ایک فرشتہ ہے جس کے قبضہ میں اللہ تعالیٰ نے دریا رکھے ہوئے ہیں ۔ جب ناصر احمد نے یہ بات کہی تو مَیں نے کہا خواجہ خضر ہم آپ کے علاقہ میں سے گزر رہے ہیں۔ ہماری دعوت کیجیے اور ہمیں کھانے کے لیے مچھلی دیجئے ۔ جونہی مَیں نے یہ فقرہ کہا بھائی جی کہنے لگے آپ نے یہ کہہ دیا کہ خواجہ خضر ہماری دعوت کریں ۔ اس سے تو بچے کی عقل ماری جائے گی ۔ مگر ابھی بھائی جی کا یہ فقرہ ختم ہی ہوا تھا کہ یکدم ایک بڑی سی مچھلی کود کر ہماری کشتی میں آ پڑی اور مَیں نے کہا بھائی جی! لیجئے مچھلی آگئی ۔ چنانچہ اس کے بعد ہم نے وہ مچھلی پکا کر تبرک کے طور پر سب ہمراہیوں کو تھوڑی چکھائی کہ یہ ہمارے خدا کی طرف سے مہمان نوازی ہوئی ہے ۔“
( سوانح فضل عمر جلد پنجم صفحہ98)
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’آئندہ دنیا کے افق پر احمدیت کی فتوحات اُبھر رہی ہیں۔ شہداء کی قربانیاں ہمارے ایمانوں میں بھی اضافے کا موجب بن رہی ہیں۔ ہمیں صرف اس بات پر ہی تسلی نہیں پکڑنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ قربانیوں کو ضائع نہیں کرتا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مَیں تجھے فتوحات دوں گا، یہ تو ہوگا اور ان شاء اللہ تعالیٰ یقیناً ہو گا۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 31 دسمبر 2010ء)
حضرت مصلح موعودؓ کو اطاعتِ خلافت کا سرٹیفکیٹ تو خود حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے بایں الفاظ عطا فرمایا:
’’میاں محمود بالغ ہے اُس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے … مَیں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار ہے کہ تم (میں سے) ایک بھی نہیں۔‘‘
(اخبار بدر 4 جولائی 1912ء)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خلافت ثالثہ کے متعلق فرمایا:
’’ مَیں ایسے شخص کو جس کو خدا تعالیٰ خلیفہ ثالث بنائے ابھی سے بشارت دیتا ہوں کہ اگر وہ خدا تعالیٰ پر ایمان لا کر کھڑا ہو جائے گا….اگر دنیا کی حکومتیں بھی اس سے ٹکر لیں گی تو وہ ریزہ ریزہ ہو جائیں گی۔‘‘
(تاریخ احمدیت جلد19صفحہ161)