”انسان ہونا، ہمارا انتخاب نہیں، قدرت کی عطا ہے“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”قرآن شریف کا یہ مقصد تھا کہ حیوانوں سے انسان بناوے اور انسان سے بااخلاق انسان بناوے اور با اخلاق انسان سے باخدا انسان بناوے “
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 329 )

مزید پڑھیں

اسلام کا ایک بنیادی وصف ۔ سچائی

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
”یقیناً یاد رکھو! جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں ۔ مگر مَیں کیوں کر اس کو باور کروں ۔ مجھ پر 7 مقدمے ہوئے ہیں اور خدا کے فضل سے کسی میں بھی ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی “
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 238)

مزید پڑھیں

غصّہ پر قابو پانا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔جب جوش اور غصّہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔ غصّہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 180)

مزید پڑھیں

کھانے کے آداب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” انسان کے کھانے پینے کے طریق بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر بھی اثر کرتے ہیں۔ اس واسطے قرآن شریف نے تمام عبادات اور اندرونی پاکیزگی کی اغراض اور خشوع و خضوع کے مقاصد میں جسمانی طہارتوں اور جسمانی آداب اور جسمانی تعدیل کو بہت ملحوظ رکھا ہے اور غور کرنے کے وقت یہی فلاسفی نہایت صحیح معلوم ہوتی ہےکہ جسمانی اوضاع کا روح پر بہت قوی اثر ہے۔ “
(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 18-19)

مزید پڑھیں

آؤ بچو! لغویات سے کیسے بچیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مومن صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں اور سوزوگداز ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر وہ مومن ہیں کہ جو باوجود خشوع اورسوزو گداز کے تمام لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو تعلقوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اپنی خشوع کی حالت کو بیہودہ کاموں اور لغو باتوں کے ساتھ ملا کر ضائع اور برباد ہونے نہیں دیتے اور طبعاً تمام لغویات سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ کاموں سے ایک کراہت اُن کے دلوں میں پیدا ہوجاتی ہے … پس دنیا کی لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو سیرو تماشا اور لغو صحبتوں سے واقعی طور پر اُسی وقت انسان کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے جب دل کا خدائے رحیم سے تعلق ہو جائے اور دل پر اس کی عظمت اور ہیبت غالب آجائے۔ خدا پرایمان لا کر ہر ایک لغو بات اور لغو کام اور لغو مجلس اور لغو حرکت اور لغو تعلق اور لغو جوش سے کنارہ کشی کی جائے۔“
( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21 صفحہ199۔200)

مزید پڑھیں

مساجد کے آداب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر فرمایا کہ
” سب سے اہم عمارات مساجد ہیں۔ مسجد کے ماحول کو پھولوں ،کیاریوں اورسبزے سے خوبصورت رکھنا چاہیے… اِس کے ساتھ ہی مسجد کے اندر کی صفائی کا بھی خاص اہتمام ہونا چاہیے۔“
( خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 272)

مزید پڑھیں

نازک ترین معاملہ زبان سے ہے (مسیح موعودؑ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” نرمی کی عادت ڈالنا تا کہ خدا تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔ ورنہ اگر تم خدا تعالیٰ کی مخلوق پر درشتی کرتے ہو تو تم بھی اپنے آپ کو اس بات کا حق دار بناتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم پر بھی درشتی کرے “
(انوار العلوم جلد 5 صفحہ 436 )

مزید پڑھیں

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں احترامِ انسانیت، شرفِ انسانیت اور خدمتِ انسانیت

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”یہ مومن کا کام ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم کو جب پڑھے، آپ کے اُسوۂ حسنہ کو جب دیکھے تو جہاں اس پر عمل کرنے اور اسے اپنانے کی کوشش کرے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجے کہ اس محسنِ اعظم نے ہم پر کتنا عظیم احسان کیا ہے کہ زندگی کے ہر پہلو کو خدا تعالیٰ کی تعلیم کے مطابق عمل کرکے دکھا کر اور ہمیں اس کے مطابق عمل کرنے کا کہہ کر خدا تعالیٰ سے ملنے کے راستوں کی طرف ہماری رہنمائی کر دی۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے معیار حاصل کرنے کے راستے دکھا دئیے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرنے کی ذمہ داری کا احساس مومنین میں پیدا کیا جس سے ایک مومن خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکتا ہے۔ یہ سب باتیں تقاضا کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجتے ہوئے ہم دنیا کو بھی اس تعلیم اور آپ کے اُسوہ سے آگاہ کریں۔ آپ کے حسن و احسان سے دنیا کو آگاہ کریں۔ جب بھی غیروں کے سامنے آپ کی سیرت کے پہلو آئے تو وہ لوگ جو ذرا بھی دل میں انصاف کی رمق رکھتے تھے، وہ باوجود اختلافات کے آپ کی سیرت کے حسین پہلوؤں کی تعریف کئے بغیر نہیں رہ سکے۔“
(خطبہ جمعہ 5؍ اکتوبر 2012ء)

مزید پڑھیں