آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے۔ محمدؐ جو جلالی نام تھا اور احمدؐ جوکہ جمالی نام تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی نام احمدؐ کی صفت پر ہے اور یہ دَور بھی جمالی یعنی محبت و پیار کا دَور ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے فرقہ کا نام ’’مسلمان فرقہ احمدیہ‘‘ رکھ کر اس کی توجیہ یہ فرمائی کہ
’’ اِس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دوسرا احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسم محمد جلالی نام تھا اور اِس میں یہ مخفی پیشگوئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دیں گے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صد ہا مسلمانوں کو قتل کیا۔ لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے۔ سو خدا نے ان دو ناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کی زندگی میں اسم احمدکا ظہور تھا اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہوگا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پس اِسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام احمدیہ رکھا جائے تا اِس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے اور جنگ اور لڑائی سے اِس فرقہ کو کچھ سروکار نہیں۔ سو اے دوستو! آپ لوگوں کو یہ نام مبارک ہو اور ہر ایک جو امن اور صلح کا طالب ہو یہ فرقہ بشارت دیتا ہے۔ نبیوں کی کتابوں میں پہلے سے اس مبارک فرقہ کی خبر دی گئی ہے اور اس کے ظہور کے لئے بہت سے اشارات ہیں۔ زیادہ کیا لکھا جائے خدا اس نام میں برکت ڈالے۔ خدا ایسا کرے کہ تمام روئے زمین کے مسلمان اِسی مبارک فرقہ میں داخل ہوجائیں تا انسانی خونریزیوں کا زہر بکلی اُن کے دلوں سے نکل جائے اور وہ خدا کے ہو جائیں اور خدا اُن کا ہو جائے۔ اے قادرو کریم! تو ایسا ہی کر۔ آمین‘‘
(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15 صفحہ 527۔ 528)
مزید پڑھیں