وَالصَّالِحُوْنَ اِخْوَانِیْ (مسیح موعودؑ) صالحین میرے بھائی ہیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’صادقوں کی صحبت میں رہنا بہت ضروری ہے خواہ انسان کیسا علم رکھتا ہو۔ طاقت رکھتا ہو، لیکن صحبت میں رہنے سے جو اس کے شبہات دور ہوتے ہیں اور اسے علم حاصل ہوتا ہے وہ دوسرے طور سے حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
۔(البدر جلد2 نمبر8 مورخہ 13مارچ 1903ء صفحہ59)

مزید پڑھیں

اَلْمَسْجِدُ مَکَانِیْ(مسیح موعودؑ) مسجد میرا مکان ہے

حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ ارکانِ اسلام میں سب سے زیادہ زور نماز پر دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ نمازیں سنوار کر پڑھاکرو۔
(سیرت المہدی جلد3 صفحہ126 )

مزید پڑھیں

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ( تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’منہ کی پھونکیں کیا ہوتی ہیں ؟ یہی کہ کسی نے ٹھگ کہہ دیا، کسی نے دکاندار اور کافر اور بے دین کہہ دیا۔ غرض یہ لوگ ایسی باتوں سے چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں، مگر وہ کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ نور اللہ کو بجھاتے بجھاتے خود ہی جل کر ذلیل ہوجاتے ہیں۔‘‘
(الحکم جلد 5، مورخہ 24؍جنوری 1901ء)

مزید پڑھیں

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام دشمنوں کی تدبیروں اور اللہ تعالیٰ کی تقدیروں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’کیا کیا مکر ہیں جو کر رہے ہیں اور کیا کیا منصوبے ہیں جو اندر ہی اندر ان کے گھروں میں ہو رہے ہیں۔ مگر کیا وہ خدا پر غالب آجائیں گے اور کیاوہ اس قادر مطلق کے ارادے کو روک دیں گے جو تمام نبیوں کی زبانی ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ اس ملک کے شریر اور بد قسمت دولت مند دنیا داروں پر بھروسہ رکھتے ہیں مگر خدا کی نظر میں وہ کیا ہیں ؟صرف ایک مرے ہوئے کیڑے۔ اے تمام لوگو! سن رکھو کہ یہ اس کی پیشگوئی ہے جس نے زمین و آسمان بنایا۔ وہ اپنی اس جماعت کو تمام ملکوں میں پھیلا دے گا اور حجت اور برہان کے رو سے سب پر ان کو غلبہ بخشے گا۔ وہ دن آتے ہیں بلکہ قریب ہیں کہ دنیا میں صرف یہی ایک مذہب ہوگا جو عزت کے ساتھ یاد کیا جائے گا۔ خدا اس مذہب اور اس سلسلہ میں نہایت درجہ فوق العادت برکت ڈالے گا اور ہر ایک کوجو اس کے معدوم کرنے کا فکر رکھتا ہےنامراد رکھے گا اور یہ غلبہ ہمیشہ رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے گی…مَیں تو ایک تخم ریزی کرنے آیا ہوں سو میرے ہاتھ سے وہ تخم بویا گیا اور اب وہ بڑھے گا اور پھولے گا اورکوئی نہیں جو اُس کو روک سکے۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ67)

مزید پڑھیں

نظام خلافت (تعارف ، تعریف، اہمیت اور اقسام)

حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
مَا کَانَت نُبوَّۃُ قَطُّ اِلَا تَبِعَتْہَا خِلَافَۃٌ
یعنی ہر نبوت کے بعد لازماًخلافت کا سلسلہ قائم ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں

وہی اُس کے مقرب ہیں جو اپنا آپ کھوتے ہیں

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے۔ محمدؐ جو جلالی نام تھا اور احمدؐ جوکہ جمالی نام تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بھی نام احمدؐ کی صفت پر ہے اور یہ دَور بھی جمالی یعنی محبت و پیار کا دَور ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے فرقہ کا نام ’’مسلمان فرقہ احمدیہ‘‘ رکھ کر اس کی توجیہ یہ فرمائی کہ
’’ اِس فرقہ کا نام مسلمان فرقہ احمدیہ اس لئے رکھا گیا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دو نام تھے ایک محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ دوسرا احمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسم محمد جلالی نام تھا اور اِس میں یہ مخفی پیشگوئی تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُن دشمنوں کو تلوار کے ساتھ سزا دیں گے جنہوں نے تلوار کے ساتھ اسلام پر حملہ کیا اور صد ہا مسلمانوں کو قتل کیا۔ لیکن اسم احمد جمالی نام تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں آشتی اور صلح پھیلائیں گے۔ سو خدا نے ان دو ناموں کی اس طرح پر تقسیم کی کہ اوّل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ کی زندگی میں اسم احمدکا ظہور تھا اور ہر طرح سے صبر اور شکیبائی کی تعلیم تھی اور پھر مدینہ کی زندگی میں اسم محمد کا ظہور ہوا اور مخالفوں کی سرکوبی خدا کی حکمت اور مصلحت نے ضروری سمجھی لیکن یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ آخری زمانہ میں اسم احمد ظہور کرے گا اور ایسا شخص ظاہر ہوگا جس کے ذریعہ سے احمدی صفات یعنی جمالی صفات ظہور میں آئیں گی اور تمام لڑائیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پس اِسی وجہ سے مناسب معلوم ہوا کہ اس فرقہ کا نام احمدیہ رکھا جائے تا اِس نام کو سنتے ہی ہر ایک شخص سمجھ لے کہ یہ فرقہ دنیا میں آشتی اور صلح پھیلانے آیا ہے اور جنگ اور لڑائی سے اِس فرقہ کو کچھ سروکار نہیں۔ سو اے دوستو! آپ لوگوں کو یہ نام مبارک ہو اور ہر ایک جو امن اور صلح کا طالب ہو یہ فرقہ بشارت دیتا ہے۔ نبیوں کی کتابوں میں پہلے سے اس مبارک فرقہ کی خبر دی گئی ہے اور اس کے ظہور کے لئے بہت سے اشارات ہیں۔ زیادہ کیا لکھا جائے خدا اس نام میں برکت ڈالے۔ خدا ایسا کرے کہ تمام روئے زمین کے مسلمان اِسی مبارک فرقہ میں داخل ہوجائیں تا انسانی خونریزیوں کا زہر بکلی اُن کے دلوں سے نکل جائے اور وہ خدا کے ہو جائیں اور خدا اُن کا ہو جائے۔ اے قادرو کریم! تو ایسا ہی کر۔ آمین‘‘
(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد15 صفحہ 527۔ 528)

مزید پڑھیں

بزہد و ورع کوش و صدق و صفا         و لیکن میفزائے بر مصطفٰی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو! ہماری جماعت اس بات کے لئے نہیں ہے جیسے عام دنیا دار زندگی بسر کرتے ہیں۔ نِرا زبان سے کہہ دینا کہ ہم اس سلسلہ میں داخل ہیں اور عمل کی ضرورت نہ سمجھی جیسے بد قسمتی سے مسلمانوں کا حال ہے کہ پوچھو تم مسلمان ہو؟ تو کہتے ہیں شکر الحمدللہ! مگر نماز نہیں پڑھتے اور شعائرُ اللہ کی حرمت نہیں کرتے۔ پس مَیں تم سے یہ نہیں چاہتا کہ صرف زبان سے ہی اقرار کرو اور عمل سے کچھ نہ دکھاؤ یہ نکمّی حالت ہے۔ خدا تعالیٰ اِس کو پسند نہیں کرتا اور دنیا کی اس حالت نے ہی تقاضا کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اصلاح کے لئے کھڑا کیا ہے۔ پس اب اگر کوئی میرے ساتھ تعلق رکھ کر بھی اپنی حالت کی اصلاح نہیں کرتا اور عملی قوتوں کو ترقی نہیں دیتا۔ بلکہ زبانی اقرار ہی کو کافی سمجھتا ہے۔ وہ گویا اپنے عمل سے میری عدمِ ضرورت پر زور دیتا ہے۔ پھر تم اگر اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہو کہ میرا آنا بے سود ہے، تو پھر میرے ساتھ تعلق کرنے کے کیا معنے ہیں؟ میرے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہو تو میری اغراض و مقاصد کو پورا کرو اور وہ یہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنا اخلاص اور وفا داری دکھاؤ اور قرآن.شریف کی تعلیم پر اُسی طرح عمل کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا اور صحابہ نے کیا۔ قرآن شریف کے صحیح منشا کو معلوم کرو اور اس پر عمل کرو۔خدا تعالیٰ کے حضور اتنی ہی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ زبان سے اقرار کر لیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سرگرمی نہ پائی جاوے۔ یاد رکھو کہ وہ جماعت جو خد اتعالیٰ قائم کرنی چاہتا ہے وہ عمل کے بدوں زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہ وہ عظیم الشّان جماعت ہے جس کی تیاری حضرت آدم کے وقت سے شروع ہوئی۔ کوئی نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے اس دعوت کی خبر نہ دی ہو۔ پس اِس کی قدر کرو اور اِس کی قدر یہی ہے کہ اپنے عمل سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ اہلِ حق کا گروہ تم ہی ہو۔‘‘
(ملفوظات جلد3 صفحہ370-371 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

حضرت سیّدہ سعیدۃُ النساء صاحبہؓ اور حضرت ڈاکٹر عبدالستار شاہ صاحبؓ

حضرت سیدہ سعیدۃ النساء صاحبہ کے کہنے پر کہ حضور علیہ السلام کی تقاریر اور درس مرد حضرات تو سنتے ہیں مگر خواتین ان سے محروم رہتی ہیں اس لیے عورتوں کی طرف بھی انتظام ہونا چاہیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خواتین کو بھی درس دینا شروع کیا تھا اور بعد میں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّل مولوی نور الدین صاحبؓ اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحبؓ نے بھی خواتین کو درس دینا شروع کیا تھا بلکہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ابتداء میں درس دیتے ہوئے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب شاہ صاحب کی صالحہ بیوی ایسی آئی ہیں جس نے اس کارِ خیر کی طرف حضور کو توجہ دلائی اور تقریر کرنے پر آمادہ کیا ۔ تمہیں ان کا نمونہ اختیار کرنا چاہیے ۔

مزید پڑھیں

حضرت ڈاکٹر سیّد عبدالستار شاہ صاحبؓ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کے اور آپ کے خاندان کے بارے میں فرمایا تھا کہ
’’ہم کو بھی ان پر رشک آتا ہے ، یہ بہشتی کنبہ ہے ۔‘‘

مزید پڑھیں

محترمہ صاحبزادی امۃ النور صاحبہ المعروف مسزنوشی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ میں محترمہ صاحبزادی امۃ النور صاحبہ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا :
’’ خلافت کے ساتھ انہوں نے وفا کا رشتہ نبھایا ہے۔ میں نے تو یہ دیکھا ہے۔ اپنے ساتھ بھی مَیں نے دیکھا کہ کامل اطاعت اور عاجزی کا نمونہ انہوں نے دکھایا ہے۔ اللہ.تعالیٰ اُن سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔‘‘ (آمین)

مزید پڑھیں