مکرم صاحبزادہ مرزا رشید احمد صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے صاحبزادہ مرزا رشید احمد صاحب کے خطبہ نکاح میں فرمایا :
’’ عزیز رشید احمد کا نکاح عزیز میاں بشیر احمد صاحب کی لڑکی سے قرار پا رہا ہے ۔ جد کے لحاظ سے دونوں ایک ہی سلسلے میں منسلک ہو جاتے ہیں …وہ یاد رکھیں کہ وہ ایک ایسے انسان کے پوتے ہیں جو دنیا میں ایک عظیم الشان تغیّر کرنے آیا تھا ۔ وہ تغیّر شروع ہوچکا ہے ….عزیز رشید احمد کو سمجھنا چاہیے کہ اُن کے فرائض بہت ہیں ۔ اُن کو زید و بکر کا نمونہ دیکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اُن کے گھر میں نمونہ موجود ہے ۔ وہ دیکھیں کہ وہ مسیح موعود کی اولاد میں سے ہیں اور مسیح موعودؑ کا عظیم الشان اسوہ ان کے لیے موجود ہے ۔‘‘
( اخبار الفضل قادیان دارالامان 6جون 1924ء )

مزید پڑھیں

محترمہ سیّدہ نصیرہ بیگم صاحبہ بنت  حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ

سیدہ نصیرہ بیگم صاحبہ کی نماز میں جان تھی ۔ خواہ کتنی مصروف ہوں ، بیمار ہوں آپ کی نمازوں اور دعاؤں کا سلسلہ گھنٹوں جاری رہتا ۔ آپ کی بیٹی مکرمہ عتیقہ فرزانہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ والدہ محترمہ کی نمازوں اور اپنے اللہ سے تعلق کا ایک الگ ہی رنگ تھا۔ دیگر عبادات جیسے روزہ، زکٰوۃ کی ادائیگی میں بھی دوسروں سے منفرد ہی دِکھتی تھیں۔

مزید پڑھیں

مکرمہ صاحبزادی آمنہ طیبہ صاحبہ اہلیہ  مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب 

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے صاحبزادی آمنہ طیبہ صاحبہ کی پر خطبہ جمعہ میں آپ کے اوصاف کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ
’’ ان کا رشتہ ازدواجی تقریبا 50 سال سے زیادہ عرصے پر پھیلا ہوا ہے اور مثالی رشتہ تھا یعنی سارے خاندان میں اگر کسی کو کوئی مثالی رشتہ پیش کرنا ہوتا تو ان کی طرف اشارہ ہوتا تھا … اس پہلو سے بہت مثالی رشتہ تھا اور ان کا نام آمنہ تھا اور طیبہ اور امر واقعہ یہ ہے کہ آمنہ حقیقی معنوں میں آمنہ تھیں۔ طیبہ حقیقی معنوں میں طیبہ تھیں۔ شاید ہی کوئی بیوی ایسی ہو جس کے متعلق انسان اس وثوق کے ساتھ کہہ سکے کہ اس نے اپنے خاوند کی ہر امانت کا حق ادا کیا ہے اور ہر طیب بات کسی بھی بات میں وہ چوکی ہوں ۔ عقل کا مجسمہ ،بہت ہی سلجھی ہوئی طبیعت اور حضرت چھوٹی پھوپھی جان کی تمام خوبیوں کی وارث اور حضرت چھوٹے پھوپھا جان نواب محمد عبداللہ خان صاحب کی خوبیوں کی بھی وارث تھیں ۔ ‘‘
( خطبہ جمعہ 29مارچ 1996ء )

مزید پڑھیں

مکرمہ صاحبزادی امۃ الوحید بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادی امۃ الوحید بیگم صاحبہ کی وفات پر خطبہ جمعہ میں آپ کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا :
’’ بڑا اخلاص اور وفا کا تعلق تھا ان کا خلافت کے ساتھ۔ باوجود بڑا رشتہ ہونے کے، بڑی عمر ہونے کے انتہائی عاجزی سے ملتی تھیں …بہت سارے اوصاف ان میں تھے…اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 14اپریل2017ء )

مزید پڑھیں

محترمہ طاہرہ حنیف صاحبہ اہلیہ مکرم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے طاہر حنیف صاحبہ کی وفات پر خطبہ جمعہ میں آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :
’’ مجھے بھی بڑی باقاعدگی سے یہ خط لکھا کرتی تھیں اور بلکہ ہر خطبہ کے بعد اکثر ان کے خط آتے تھے اور اس پر مختلف قسم کے تبصرے بھی ہوتے تھے۔ بعض باتیں جو ان کو اچھی لگتی تھیں ان میں خاص طور پہ ان کا ذکر ہوتا تھا… اللہ تعالیٰ ان سے ہمیشہ مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ بزرگوں کے قدموں میں جگہ دے اور ان کے بچوں کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘
( خطبہ جمعہ18نومبر2022ء )

مزید پڑھیں

مکرم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب کی وفات پرخطبہ جمعہ میں آپ کا ذکرِ خیر کرتے ہوئے فرمایا :
’’اللہ تعالیٰ محترم صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب سے مغفرت کا سلوک فرمائے، رحم کا سلوک فرمائے، آپ کے درجات بلند فرمائے۔ ان کے بچوں کو بھی حقیقت میں اُس خون کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں۔ مجھ سے بھی ان کا بہت گہرا تعلق تھا۔ خلافت سے پہلے بھی تھااور خلافت کے بعد تو پیار کا یہ تعلق بہت بڑھ گیا تھا۔ لیکن اس میں عاجزی اور اخلاص اور وفا کا بے انتہا اظہار تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا رہے اور ان کی اولاد کو بھی خلافت سے خاص تعلق رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ 21 فروری2014ء )

مزید پڑھیں

زار بھی ہوگا تو ہوگا اُس گھڑی باحالِ زار

جب 1991ء میں روس کے ٹکڑے ہو گئے تو برطانوی حکومت کے مطالبے پر پھر سے تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور معلوم ہوا کہ زار اور اس کے خاندان کو نہایت بے دردی اور سفّاکی سے 17؍ جولائی 1918ء کو Ipatiev House کے تہ خانے میں قتل کردیاگیا تھا جہاں اُن کو 30؍ اپریل سے قید کر کےرکھا گیا تھا۔ اُسی دن زار کے قریبی ساتھیوں بشمول ڈاکٹر Eugene اور شاہی خاندان کے 65؍ افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ان کی قیمتی اشیاء چوری کر لی گئیں اور ان کے مردہ جسموں کو ضائع کرنے کے لیے 750 لیٹر مٹی کا تیل اور 180 کلوگرام تیزاب استعمال کیا گیا تا کہ ان کا کوئی نام و نشان بھی باقی نہ رہے۔

مزید پڑھیں

کَشتیاں چلتی ہیں تا ہوں کُشتیاں

ایک واقفہ نو کے سوال کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام”کَشتیاں چلتی ہوں ہیں تا ہوں کُشتیاں“سے کیا مراد ہے ۔ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
”مختلف مطلب نکلتے ہیں ۔ جنگوں کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے اور حکومتوں کے اُلٹنے کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے ۔ پانی میں بھی جنگیں ہوتی ہیں۔ جنگ عظیم ہوئی تو وہاں بھی کَشتیاں ہوتی ہیں ۔ سب میرین چلتی ہیں ۔ داؤ پیچ استعمال ہوتے ہیں ۔“

مزید پڑھیں

بادشاہ تیرے کپڑوں سےبرکت ڈھونڈیں گے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اُس نے مجھے بشارت دی کہ مَیں تجھے برکت دوں گا اور بہت برکت دوں گا یہاں تک کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔“
(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 179 حاشیہ)

مزید پڑھیں