ذِکرُاللّٰہِ اَنِیسِیْ وَثَمۡرَۃُ فُؤَادِیۡ فِیۡ ذِکۡرِہٖ (حضرت محمدؐ) ذکر الٰہی میرا مونس اور میرے دل کا پھل ہے (تقریر نمبر 5)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے:
اَللّٰہُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ
(ابو داؤد کتاب الوتر)
کہ اے اللہ! مجھے اپنا ذکر، اپنے شکر اور خوبصورت پیاری مقبول نماز کی توفیق دے ۔

مزید پڑھیں

اَلشَّوْقُ مَرْکَبِیْ وَشَوۡقِیۡ اِلیٰ رَبِّیۡ عَزَّ وَجَلَّ (حضرت محمدؐ) شوق میری سواری ہے اور  میرا شوق اپنے رب عزّوجلّ کی  طرف ہے (تقریر نمبر 4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اورپھروہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌ عَلٰی رَبِّہ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب پر عاشق ہو گیا ۔ ‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 524)

مزید پڑھیں

اَلْحُبُّ اَسَاسِیْ (حضرت محمدؐ) محبت میری اساس ہے (تقریر نمبر 3)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت داؤد علیہ السلام کی یہ دعا بکثرت پڑھا کرتےتھے ۔
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ حُبَّكَ، وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، اَللَّهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهْلِي، وَمِنَ المَاءِ البَارِدِ
(ترمذی کتاب الدعوات)
کہ اے اللہ! مَیں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اُس کی محبت بھی جو تجھ سے محبت کرتا ہے۔ مَیں تجھ سے ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ اے اللہ! اپنی اتنی محبت میرے دل میں ڈال دے جو میری اپنی ذات، میرے مال، میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔

مزید پڑھیں

اَلۡعَقۡلُ اَصۡلُ دِیۡنِیۡ  (حضرت محمدؐ) عقل میرے دین و ایمان کی جزو ہے (تقریر نمبر 2)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’قرآن کریم میں ان لوگوں کو جو عقل سے کام لیتے ہیں اولوالالباب فرمایا ہے۔ پھر اس کے آگے فرماتا ہے اَلَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قَعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِھِم … اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دوسرا پہلو بیان کیا ہے کہ اولوالالباب اور عقل سلیم بھی وہی رکھتے ہیں جو اللہ جلشانہ‘ کا ذکر اٹھتے بیٹھتے کرتے ہیں۔ سچی فراست اور سچی دانش اللہ.تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو ۔ کیونکہ وہ الٰہی نور سے دیکھتا ہے صحیح فراست اور حقیقی دانش کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو۔ اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو۔ فکر کرو، سوچو۔ تدبر اور فکر کے لئے قرآن کریم میں بار بار تاکیدیں موجود ہیں۔ کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پار ساطبع ہو جاؤ۔ جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم ماروگے پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہوجائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تمہارے دل سے نکلے گاجب انسان ان باتوں کو سمجھتا ہے تب اللہ تعالیٰ جو صانع حقیقی ہے۔ جو ہر چیز کوپیدا کرنے والا ہے اس کاثبوت سامنے آ جائے گا۔اس وقت سمجھ میں آ جائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تاکہ طرح طرح کے علوم و فنون جو دین کو مدد دیتے ہیں ظاہر ہوں۔ ‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 41۔ 42 جدید ایڈیشن)

مزید پڑھیں

اَلۡمَعۡرِفَۃُ رَاسُ مَالِیۡ (حضرت محمدؐ) معرفت میرا سرمایہ  ہے (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’خداتعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے یہی قانون ٹھہرا رکھا ہے کہ پہلے وہ امور غیبیہ پر ایمان لا کر فرمانبرداروں میں داخل ہوں اور پھر عرفان کا مرتبہ عطا کرکے سب عقد ے ان کے کھولے جائیں لیکن افسوس کہ جلد باز انسان اِن راہوں کو اختیار نہیں کرتا۔ خداتعالیٰ کا قرآن کریم میں یہ وعدہ ہے کہ جو شخص ایمانی طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو مان لیوے تو وہ اگر مجاہدات کے ذریعہ سے ان کی حقیقت دریافت کرنا چاہے وہ اس پر بذریعہ کشف اور الہام کے کھولے جائیں گے اور اس کے ایمان کو عرفان کے درجہ تک پہنچایا جائے گا‘‘
)آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد نمبر 5صفحہ 253حاشیہ )

مزید پڑھیں

میری آل (حضرت محمدؐ)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ’’مَنْ آلُکَ‘‘ کہ آپ کی آل سے کیا مراد ہے ؟۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کُلُّ تَقِیٍّ “ کہ ہر نیک اور متقی آدمی میری آل میں شامل ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ اِنْ اَوْلِیَاءُہٗ اِلَّا الْمُتَّقُونَ (الانفال: 35) جس کا ترجمہ یہ ہے کہ حرمت والی مسجد کے حقیقی وارث متقیوں کے سوا اور کوئی نہیں ۔
(حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر996 (

مزید پڑھیں

صحابۂ رسولؐ کا عشق رسولؐ

ہجرتِ مدینہ کے وقت حضرت ابوبکرؓ نے ایک مشرک سراقہ کو تعاقب میں آتے دیکھا تو رو پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ پوچھی تو عرض کیا۔
’’اپنی جان کے خوف سے نہیں آپؐ کی وجہ سے روتا ہوں کہ میرے آقا کو کوئی گزند نہ پہنچے۔‘‘
(مسند احمد جلد1 صفحہ 2مصر)

مزید پڑھیں

اَلْخَلْقُ عِیَالُ اللّٰهِ ( سیرتِ رسولؐ کے آئینہ میں)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’قرابت نوازی ،حسن خلق اور خوشگوار ہمسائیگی سے بستیاں آباد ہوتی ہیں اور عمریں دراز ہوتی ہیں۔‘‘

مزید پڑھیں

حضور اکرمؐ کے ارفع و اعلیٰ اخلاق کی روشنی میں بنیادی اخلاق کی تعلیم (خلاصہ خطبہ جمعہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”سب سے اکمل نمونہ اور نظیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ۔جو جمیع اخلاق میں کامل تھے۔ اسی لئے آپ کی شان میں فرمایا۔ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔“
( ملفوظات جلد 1صفحہ 133 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

پاک محمدمصطفیؐ  نبیوں کا سردار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا، جو خَاتَمُ المؤمنینؐ، خَاتَمُ العارِفینؐ اور خَاتَمُ النَّبِیِّیْنؐہے اور اسی طرح پروہ کتاب اس پر نازل کی جو جَامِع الکُتُب اور خَاتَمُ.الکُتب.ہے۔ “
(ملفوظات جلداول صفحہ311 )

مزید پڑھیں