اُتِیْتُ بِمَفَاتِیْحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ( حضرت محمدؐ ) مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں (تقریر نمبر 8)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہونا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاً ظاہر ہوں یا کسی اَور شخص کے واسطہ سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ قیصر وکسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں آپؐ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوچکے تھے اور آنجنابؐ نے نہ قیصر اور کسریٰ کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کنجیاں دیکھیں۔ مگر چونکہ مقدر تھا کہ وہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلّی طور پرگویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا اس لیے عالمِ وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا۔ ‘‘
(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 265)
