اُتِیْتُ بِمَفَاتِیْحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ( حضرت محمدؐ ) مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں (تقریر نمبر 8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہونا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاً ظاہر ہوں یا کسی اَور شخص کے واسطہ سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ قیصر وکسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں آپؐ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوچکے تھے اور آنجنابؐ نے نہ قیصر اور کسریٰ کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کنجیاں دیکھیں۔ مگر چونکہ مقدر تھا کہ وہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلّی طور پرگویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا اس لیے عالمِ وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا۔ ‘‘
(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 265)

مزید پڑھیں

خُتِ٘مَ بِیَ النَّبِیُّوۡنَ    (حضرت محمدؐ) میرے ذریعہ نبیوں پر مہر لگائی گئی ہے (تقریر نمبر 7)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
”آپؐ کی تصدیق کے بغیر اور آپؐ کی تعلیم کی شہادت کے بغیر کوئی شخص نبوت یا ولایت کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا ۔ لوگوں نے نبیوں کی مہر کی جگہ آخری نبی کے معنی لئے ہیں مگر اس سے بھی ہماری پوزیشن میں فرق نہیں آتا۔“
( تفسیر صغیر فٹ نوٹ زیر آیت الاحزاب : 41)

مزید پڑھیں

اُحِلَّتۡ لِیَ الۡغَنَائِمُ  (حضرت محمدؐ) غنیمتیں میرے لئے جائز کی گئی ہیں (تقریر نمبر 6)

حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے سورۃ انفال آیت 2 کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ:
”یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ: تین الفاظ ہیں۔ فَے ، غنیمت ، نفل۔ 1۔ فَے : جس مال پر مسمانوں کا کچھ بڑا خرچ نہ ہوا ہو جیسے سورہ حشر میں فَمَا اَوْجَفْتُمْ عَلَیْہِ مِنْ خَیْلٍ وَّ لَا رِکَابٍ ۔ ( حشر:7)۔ 2۔ نفل: وہ مال جو خرچ کے بالمقابل زیادہ ملا ہو۔ 3۔ غنیمت : اِس لفظ کے معنوں میں عام لوگوں نے سخت غلطی کھائی ہے … غنیمت کے معنی لُوٹ کے کئے جاتے ہیں۔ عربی زبان میں غنیمت کہتے ہیں ۔ مطلق حصولِ مال کو۔ “
(حقائق الفرقان جلد دوم صفحہ250)

مزید پڑھیں

اُعۡطِیۡتُ جَوَامِعَ الۡکَلِمِ ( حضرت محمدؐ ) مجھے جوامع الکلم دیئے گئے ہیں ( تقریر نمبر 5)

امام زہریؒ کے علاوہ بعض کا خیال ہے کہ جَوَامِعُ الکَلِم سے مراد قرآن کریم ہے اور اس کی تائید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے بھی ہوتی ہے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ مَیں جَوَامِعُ الکَلِم کے ساتھ مبعوث کیا گیا ہوں اور قرآن کا یہ اعجاز تو بڑا نمایاں ہے کہ اس کے الفاظ تو مختصر ہیں لیکن معنی میں بہت زیادہ وسعت ہے۔

مزید پڑھیں

بُعِثْتُ اِلَی النَّاسِ کَافَّۃً (حضرت محمدؐ) مجھے تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہے (تقریر نمبر 4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’ اللہ تعالیٰ جو انبیاء کو بھیجتا ہے اور آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دنیا کی ہدایت کے واسطے بھیجا اور قرآن مجید کو نازل فرمایا تو اس کی غرض کیا تھی؟ ہر شخص جو کام کرتا ہے اس کی کوئی نہ کوئی غرض ہوتی ہے۔ ایسا خیال کرنا کہ قرآن شریف نازل کرنے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجنے سے اللہ تعالیٰ کی کوئی غرض اور مقصدنہیں ہے کمال درجہ کی گستاخی اور بے ادبی ہے کیونکہ اس میں (معاذ اللہ)، اللہ تعالیٰ کی طرف ایک فعل عبث کو منسوب کیا جائے گا۔ حالانکہ اس کی ذات پاک ہے (سبحانہ وتعالیٰ شانہٗ)۔ پس یاد رکھو کہ کتاب مجید کے بھیجنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے اللہ تعالیٰ نے یہ چاہا ہے کہ تا دنیا پر عظیم الشان رحمت کا نمونہ دکھاوے جیسے فرمایا۔ وَمَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ (الانبیاء: 108) اور ایسا ہی قرآن مجید کے بھیجنے کی غرض بتائی کہ ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْن (البقرہ: 3)۔ یہ ایسی عظیم الشان اغراض ہیں کہ ان کی نظیر نہیں پائی جا سکتی۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 340)

مزید پڑھیں

اُعۡطِیۡتُ الشَّفَاعَۃَ وَلَمۡ یُعۡطَ نَبِیٌّ قَبۡلِیۡ   (حضرت محمدؐ) مجھے شفاعت عطا کی گئی ہے جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو حاصل نہیں ہوئی (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃُ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”شفاعت کی حقیقت سمجھنے کے لئے یہ جاننا ضروری یے کہ یہ لفظ شفع سے نکلا ہے اور مندرجہ آیت اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَیَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَاللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (آل عمران: 32)سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع انسان کے گناہوں کی مغفرت کا موجب ہے۔ حضور انور کی ذات ستودہ صفات ایک نور ہے جو اس نور سے تعلق پیدا کرتا ہے۔ اس سے ظلمات دور ہوتی ہیں۔ یہ شفاعت ہے۔ مجرموں کی جنبہ بازی کا نام شفاعت نہیں جیسا کہ بعض نادانوں نے غلطی سے سمجھا ہے اور اس پر اعتراض کرتے ہیں۔ “
(تشحیذ الاذہان جلد 7 صفحہ 136)

مزید پڑھیں

جُعِلَتۡ لِیَ الۡاَرۡضُ مَسۡجِدًا وَّ طَہُوۡرًا  (حضرت محمدؐ) ساری زمین میرے لئے مسجد اور طہارت کا ذریعہ بنا دی گئی ہے (تقریر نمبر 2)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
’’جو ہماری اس مسجد میں اس نیّت سے داخل ہو گا کہ بھلائی کی بات سیکھے یا بھلائی کی بات جانے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔ اور جو مسجد میں کسی اور نیّت سے آئے تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کسی ایسی چیز کو دیکھتا ہے جو اس کو حاصل نہیں ہوسکتی۔ ‘‘
(مسند احمد بن حنبل جلد 2صفحہ 350 مطبوعہ بیروت)

مزید پڑھیں

نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِیْرَةَ شَھْرٍ (حضرت محمدؐ) مجھے ایک مہینے کی مسافت کے برابر رُعب سے نوازا ہے (تقریر نمبر 1)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہىں:
’’ہم جب انصاف کى نظر سے دیکھتے ہىں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلى درجہ کا جواں مرد نبى اور زندہ نبى اور خدا کا اعلى درجہ کا پیارا نبى صرف ایک مرد کو جانتے ہىں۔ یعنى وہى نبىوں۔کاسردار۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفىٰ و احمد مجتبىٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ جس کے زیرِ سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنى ملتى ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہىں مل سکتى تھى‘‘
(سراج منیر،روحانى خزائن جلد12 صفحہ82)

مزید پڑھیں

قُرَّۃُ عَیۡنِیۡ فِی الصَّلٰوۃِ ( حضرت محمدؐ ) نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے (تقریر نمبر 17)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادات کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’کیا اس محسن انسانیت جیسا کوئی اور ہے جو ساری ساری رات اپنے رب کے حضور لوگوں کے لئے مغفرت مانگتے ہی گزار دیتا ہے، بخشش مانگتے ہی گزار دیتا ہے۔ اپنے رب کے عشق میں سر شار ہے اور اس کی مخلوق کی ہمدردی نے بھی بے چین کر دیا ہے۔ اپنی رات کی نیند کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے اپنی سب سے چہیتی بیوی کے قرب کی بھی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ خواہش ہے تو صرف یہ کہ میرا اللہ مجھ سے راضی ہو جائے اور اس کی مخلوق عذاب سے بچ جائے۔ کیا ایسے شخص کے بارے میں کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ نعوذ باللہ دنیا کی رنگینیوں میں ملوث تھا۔ آپؐ کی راتیں کس طرح گزرتی تھیں اس کی ایک اور گواہی دیکھیں۔ حضرت ام سلمہؓ فرماتی ہیں کہ آپؐ کچھ دیر سوتے پھر کچھ دیر اٹھ کر نماز میں مصروف ہوتے۔ پھر سو جاتے، پھر اٹھ بیٹھتے اور نماز ادا کرتے۔ غرض صبح تک یہی حالت جاری رہتی۔(ترمذی کتاب فضائل القرآن باب ماجآء کیف کان قراء ۃ النبیؐ)“
(خطبہ جمعہ 18فروری2005ء )

مزید پڑھیں

اَلۡجِہَادُ خُلُقِیۡ  (حضرت محمدؐ) جہاد میرا خُلق ہے (تقریر نمبر 16)

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مَیں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا۔ کون سا (عمل) کام اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے؟۔ آپؐ نے فرمایا نمازکو اپنے وقت پر پڑھنا ،مَیں نے پوچھا پھر کون سا کام؟ فرمایا ۔پھر ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔ مَیں نے پوچھا پھر کون سا کام؟ فرمایا۔ پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔ابن مسعودؓ نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین باتیں بیان کیں۔ اگر مَیں اور پوچھتا تو آپؐ اور زیادہ بیان فرماتے۔
(بخاری جلد اوّل کتاب مواقیت الصلوٰۃ)

مزید پڑھیں