إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ (حضرت محمدؐ ) مَیں یقیناً تمہارا پیش رَو ہوں اور تم پر گواہ ہوں (تقریر نمبر 16)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلی درجہ کا جوانمرد نبی اور زندہ نبی اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبی صرف ایک مرد کو جانتے ہیں ۔ یعنی وہی نبیوں کا سردار ۔ رسولوں کا فخر تمام مرسلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفےٰ و احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزاروں برس تک نہیں مل سکتی تھی ۔ ‘‘
) سراج منیر صفحہ 72)

مزید پڑھیں

اَنَا حَامِلُ لِوَاءِ الْحَمْدِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (حضرت محمدؐ ) میں قیامت کے روز حمد کا جھنڈا اُٹھائے ہوئے ہوں گا (تقریر نمبر 15)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’اصل حقیقت یہ ہے کہ سب نبیوں سے افضل وہ نبی ہے کہ جو دنیا کا مربّیٔ اعظم ہے۔ یعنی وہ شخص کہ جس کے ہاتھ سے فساد اعظم دنیا کا اصلاح پذیر ہوا۔ جس نے توحید گم گشتہ اور ناپدید شدہ کو پھر زمین پر قائم کیا۔ جس نے تمام مذاہب باطلہ کو حجت اور دلیل سے مغلوب کر کے ہریک گمراہ کے شبہات مٹائے جس نے ہریک ملحد کے وسواس دور کئے اور سچا سامان نجات کا……اصول حقہ کی تعلیم سے ازسرنو عطا فرمایا۔ پس اس دلیل سے کہ اس کا فائدہ اور افاضہ سب سے زیادہ ہے اس کا درجہ اور رتبہ بھی سب سے زیادہ ہے۔ اب تورایخ بتلاتی ہے۔ کتاب آسمانی شاہد ہے اور جن کی آنکھیں ہیں وہ آپ بھی دیکھتے ہیں کہ وہ نبی جو بموجب اس قاعدہ کے سب نبیوں سے افضل ٹھہرتا ہے وہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔‘‘
(براہین احمدیہ ہر چہارحصص، روحانی خزائن جلد 1صفحہ 97حاشیہ)

مزید پڑھیں

أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلاَ فَخْرَ ( حضرت محمدؐ) مَیں قیامت کے روز اولادِ آدم کا سردار ہوں گا اور مجھے اس پر کوئی گھمنڈ یا فخر نہیں (تقریر نمبر 14)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ مَیں ہمیشہ تعجب کی نگہ سے دیکھتا ہوں کہ یہ عربی نبی جس کا نام محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم۔ (ہزار ہزار درود اور سلام اس پر)۔ یہ کس عالی مرتبہ کا نبی ہے۔ اس کے عالی مقام کا انتہا معلوم نہیں ہو سکتا اور اس کی تاثیر قدسی کا اندازہ کرنا انسان کا کام نہیں۔ افسوس کہ جیساحق شناخت کا ہے اس کے مرتبہ کو شناخت نہیں کیا گیا۔ وہ توحید جو دنیا سے گم ہو چکی تھی وہی ایک پہلوان ہے جو دوبارہ اس کو دنیا میں لایا۔ اس نے خدا سے انتہائی درجہ پر محبت کی اور انتہائی درجہ پر بنی نوع کی ہمدردی میں اس کی جان گداز ہوئی ۔ اِس لئے خدانے جو اس کے دل کے راز کا واقف تھا اس کو تمام انبیاء اور تمام اوّلین و آخرین پر فضیلت بخشی اور اس کی مرادیں اس کی زندگی میں اس کو دیں۔ وہی ہے جو سرچشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعوی کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریّتِ شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اُس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے۔ جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم ازلی ہے۔ ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ ہم کافرِنعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اِسی نبی کے ذریعہ سے پائی اور زندہ خدا کی شناخت ہمیں اِسی کامل نبی کے ذریعہ سے اور اس کے نور سے ملی ہے اور خدا کے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی جس سے ہم اس کا چہرہ دیکھتے ہیں اِسی بزرگ نبی کے ذریعہ سے ہمیں میسر آیا ہے۔ اس آفتاب ہدایت کی شعاع دھوپ کی طرح ہم پر پڑتی ہے اور اسی وقت تک ہم منوّر رہ سکتے ہیں جب تک کہ ہم اس کے مقابل پر کھڑےہیں۔ ‘‘
(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 118-119)

مزید پڑھیں

جُعِلَتْ صُفُوْفَنَا کَصُفُوْفِ الْمَلَائِکَۃِ (حضرت محمدؐ ) ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں جیسی رکھی گئی ہیں (تقریر نمبر 13)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’نماز میں جو جماعت کا زیادہ ثواب ہے اس میں یہی غرض ہے کہ وحدت پیدا ہوتی ہے اور پھر اس حدیث کو عملی رنگ میں لانے کی یہاں تک ہدایت ہے کہ باہم پاؤں بھی مساوی ہوں اور صف سیدھی ہو اور ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہوں۔ اس سے مطلب یہ ہے کہ گویا ایک ہی انسان کا حکم رکھیں اور ایک کےانوار دوسرے میں سرایت کر سکیں۔‘‘
(لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ281-282)

مزید پڑھیں

اَنَا حَبِيْبُ  اللّٰہِ ( حضرت محمدؐ) مَیں اللہ تعالیٰ کا حبیب ہوں (تقریر نمبر 12)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ذات کے عاشق زار اور دیوانہ ہوئے اور پھر وہ پایا جو دنیا میں کبھی کسی کو نہیں ملا۔ آپؐ کو اللہ تعالیٰ سے اس قدر محبت تھی کہ عام لوگ بھی کہا کرتے تھے کہ عَشِقَ مُحَمَّدٌعَلیٰ رَ بِہٖ یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رب پر عاشق ہو گیا۔ صلی اللہ علیہ وسلم۔ ‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 524، ایڈیشن1988ء)

مزید پڑھیں

سُمِّيْتُ أَحْمَدَ) حضرت محمدؐ) میرا نام احمد رکھا گیا (تقریر نمبر 11)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ
اِسْمِیْ فِی الْقُرَانِ مُحَمَّد وَفِی الانجیل اَحْمَدُ
کہ میرا نام قرآن میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے اور انجیل میں احمد ہے۔
(خصائص الکبریٰ جلد اول صفحہ 78 )

مزید پڑھیں

جُعِلَتْ اُمَّتِیْ خَيْرَ الْأُمَمِ (حضرت محمدؐ ) میری امت کو بہترین امت بنایا گیا ہے (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” وہ لوگ جو دین کے لئے وعظ کرتے ہیں ان کی بھی دو ہی حالتیں ہوتی ہیں ایک وہ جو محض اِس لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کریں اور امر بالمعروف کا جو فرض ان کو ملا ہے اس کو ادا کریں۔ بنی نوع انسان کی بھلائی کا جو حکم ہے اس کی تعمیل کریں اور اپنے آپ کو خیرِ اُمّت میں داخل ہونے کی فِکر ہوتی ہے جس کا ذکر یُوں کیا گیا ہے کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ (الآیہ )تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کے لئے مبعوث ہوئے ہو امر بالمعروف کرتے رہو اور نہی عن المنکر … مَیں دُنیا پرست واعظوں کا دشمن ہوں کیونکہ ان کی اغراض محدود ، ان کے حَوصلے چھوٹے ، خیالات پَست ہوتے ہیں جس واعظ کی اغراض دینی ہوں وہ ایک ایسی زبردست اور مضبوط چٹان پر کھڑا ہوتا ہے کہ دُنیوی وعظ سب اس کےاندر آجاتے ہیں کیونکہ وہ ایک اَمر بالمعروف کرتا ہے ۔ ہر بھلی بات کا حکم دینے والا ہوتا اور ہر بُری بات سے روکنے والاہوتا ۔“
(الحکم 17 مارچ 1903۔ صفحہ:14-15)

مزید پڑھیں

جُعِلَ التَّرَابُ لِیْ طَہُوْرًا ( حضرت محمدؐ ) مٹی کو میرے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنا دیا گیا (تقریر نمبر 9)

سعید بن عبدالرحمٰن اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمربن خطابؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ جُنبی ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا۔ تو حضرت عمار بن یاسرؓ نے حضرت عمر بن خطابؓ سے کہا۔ کیا آپؓ کو یاد نہیں کہ ہم یعنی مَیں اور آپ ایک سفر میں تھے۔ آپؓ نے تو نماز نہ پڑھی اور مَیں تو مٹی میں جانوروں کی طرح لوٹا اور نماز پڑھ لی۔ گویا پانی نہ ہونے کی وجہ سے تیمّ کیا۔ مَیں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کو صرف اس طرح کافی تھا اور آپؐ نے اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے۔ پھر اِن پر پھونکا اور اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا۔
(صحیح بخاری کتاب التیمّم حدیث 338)

مزید پڑھیں

اُتِیْتُ بِمَفَاتِیْحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ ( حضرت محمدؐ ) مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئیں (تقریر نمبر 8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہونا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاً ظاہر ہوں یا کسی اَور شخص کے واسطہ سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیشگوئی کہ قیصر وکسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں آپؐ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوچکے تھے اور آنجنابؐ نے نہ قیصر اور کسریٰ کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کنجیاں دیکھیں۔ مگر چونکہ مقدر تھا کہ وہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلّی طور پرگویا آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ہی تھا اس لیے عالمِ وحی میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ قرار دیا گیا۔ ‘‘
(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 265)

مزید پڑھیں

خُتِ٘مَ بِیَ النَّبِیُّوۡنَ    (حضرت محمدؐ) میرے ذریعہ نبیوں پر مہر لگائی گئی ہے (تقریر نمبر 7)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
”آپؐ کی تصدیق کے بغیر اور آپؐ کی تعلیم کی شہادت کے بغیر کوئی شخص نبوت یا ولایت کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا ۔ لوگوں نے نبیوں کی مہر کی جگہ آخری نبی کے معنی لئے ہیں مگر اس سے بھی ہماری پوزیشن میں فرق نہیں آتا۔“
( تفسیر صغیر فٹ نوٹ زیر آیت الاحزاب : 41)

مزید پڑھیں