وسیلہ یا واسطہ کا اسلامی فلسفہ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ۔وسیلہ کے دو معنی ہیں۔ ایک تو حاجت۔ پس مطلب ہوا کہ اپنی حاجتیں جناب الہٰی میں لے جاؤ… (اور) دوسرے معنی ہیں ذریعہ کے … پس الۡوَسِیۡلَۃَ فرمایا یعنی ذریعہ ہو۔ مگر اس ذریعہ کو دیکھ لو وہ بے ایمان کا تو نہیں ۔ عقل و تجربہ و ایمان کے موافق ہے یا نہیں۔مکلّف انسان عقل و تجربہ و ایمان سے تقویٰ کے سامان کرے مگر وہ عقل و تجربہ شریعت کے خلاف نہ ہو۔ پھر یہ مجاہدہ فی سبیل اللہ کرے۔ جب اِن تین قاعدہ پر چلے گا تو مظفرومنصورہوگا۔ “
(حقائق الفرقان جلد2صفحہ 100-101)

مزید پڑھیں

وسیلہ یا واسطہ کا اسلامی فلسفہ (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہر ایک شخص کو خودبخو د خدا تعا لیٰ سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے، واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس واسطے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے وہ کبھی با مراد نہ ہوگا۔انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔ غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اُسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہوجاؤ ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِم(الزمر:54)
اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو ۔سب حکموں پر کار بند رہو جیسے کہ حکم ہے ۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران:32)یعنی اگر تم خدا تعالیٰ سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے فرماں بردار بن جاؤ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں فنا ہوجاؤ تب خدا تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔
جب لوگ بدعتوں پر عمل کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں دُنیا سے چھٹکارا نہیں ملتا یا کہتے ہیں کہ ناک کٹ جاتی ہے ۔ایسے وقت میں گویا انسان خداتعالیٰ کے اس فرمان کو چھوڑتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ہے اور خیال کرتا ہے کہ خداتعالیٰ سے محبت کرنا بےفائدہ ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 321-322 )

مزید پڑھیں

’’ میرے نور الدین کو ‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”مَیں نے کسی روایت کے ذریعہ سنا تھا کہ جب بیت اللہ نظرآئے تواس وقت کوئی ایک دعامانگ لو وہ ضرورہی قبول ہوجاتی ہے۔ مَیں علوم کا اس وقت ماہرتوتھاہی نہیں جوضعیف و قوی روایتوں میں امتیاز کرتا ۔ مَیں نے یہ دعامانگی۔”الٰہی! مَیں تو ہر وقت محتاج ہوں اب مَیں کون سی دعامانگوں ۔ پس مَیں یہی دعامانگتاہوں کہ مَیں جب ضرورت کے وقت تجھ سے دعامانگوں تواس کو قبول کرلیاکر“۔ روایت کا حال تومحدثین نے کچھ ایسا ویسا ہی لکھاہے مگر میراتجربہ ہے کہ میری تویہ دعاقبول ہی ہوگئی۔ بڑے بڑے نیچریوں ، فلاسفروں ، دہریوں سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور ہمیشہ دعاکے ذریعہ مجھ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ایمان میں بڑی ترقی ہوتی گئی۔‘‘
(مرقاۃ الیقین )

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان  میں  رحمت ، مغفرت و بخشش کی مناسبت سے چند دعائیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک دعا
’’اے میرے محسن اورمیرے خدا!میں ایک تیرا ناکارہ بندہ پُرمعصیت اورپُر غفلت ہوں۔تو نے مجھ سے ظلم پرظلم دیکھا اورانعام پر انعام کیااورگناہ پر گناہ دیکھا اوراحسان پر احسان کیا ۔تونے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اوراپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا۔سو اب بھی مجھ نالائق اورپُرگناہ پر رحم کر اورمیری بےباکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کومیرے اِس گناہ سے نجات بخش کہ بغیر تیرے کوئی چارہ گر نہیں ۔آمین ثم آمین‘‘
(مکتوبات احمدیہ جلد 5نمبر 2 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

درس نمبر11 بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان اور محفوظ قلعے میں داخل کرنے والی دعائیں

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
’’مَیں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کو زیادہ یاد کرو اور ذکر کی مثال ایسی سمجھو کہ جیسے کسی آدمی کا اس کے دشمن نہایت تیزی کے ساتھ پیچھا کر رہے ہوں یہاں تک کہ اس آدمی نے بھاگ کر ایک مضبوط قلعے میں پناہ لی اور دشمنوں کے ہاتھ لگنے سے بچ گیا۔ اِسی طرح انسان شیطان سے نجات پا سکتا ہے ورنہ کوئی ذریعہ نہیں۔‘‘
(شعب الایمان جزء دوم صفحہ 73 حدیث 534)

مزید پڑھیں

درس نمبر 10بابت رمضان المبارک 2025ء رمضان ، دعاؤں کا مہینہ

حدیث میں آتا ہے کہ رمضان کی ہر رات اللہ تعالیٰ منادی کرنے والے ایک فرشتہ کو عرش سے فرش پر بھیجتا ہے۔جو یہ اعلان کرتا ہے
یا بَاغِیُ الْخَیْرِ ھَلُمَّ ھَلْ مِنْ دَاعٍ یُسْتَجَابُ لہٗ ھَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ یُسْتَغْفَرُ لَہٗ ھَلْ مِنْ تَائبٍ یُتَابُ عَلَیْہِ ھَلْ مِنْ سائلٍ یُعْطَیٰ سؤلہٗ
(کنزالعمال)
کہ اے خیر کے طالب! آگے بڑھو۔ کیا کوئی ہے جو دُعا کرے تا کہ اُس کی دعا قبول کی جائے؟کیا کوئی ہے جو استغفار کرے کہ اُسے بخش دیا جائے کیا؟ کوئی ہے جو توبہ کرے تا کہ اس کی توبہ قبول کی جائے؟ کیا کوئی ہے جو سوال کرے۔ جس کو پورا کیا جائے گا؟

مزید پڑھیں

20تقاریربابت فلسفہ دُعا اور اس کی حقیقت

نماز اور دعا کا رمضان المبارک کے ساتھ  بہت گہرا تعلق ہے۔ اس دفعہ رمضان ایسے وقت میں آرہا ہے جب امت مسلمہ شدید اختلافات کا شکار ہے۔ مشرقِ وسطیٰ تیسری عالمی جنگ کے  دہانے پر کھڑا ہے۔ باقی اسلامی ممالک بھی  کوئی محفوظ نہیں  ہیں۔ اِن حالات میں ہمیں اِس رمضان میں بہت دعائیں کرنی ہوں گی۔اِسے دعاؤں کا رمضان بنانا ہوگا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ ان دنوں جن دعاؤں کی طرف بلارہے ہیں  انہیں حرزِ جان بناکر نمازوں کو بروقت ادا کرنا ہے اور ان نمازوں کو دعاؤں والی نمازیں  بنا دینا ہے۔

مزید پڑھیں

ہے کوئی مانگنے والا؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہىں:
’’مىرا دل ہر گز قبول نہىں کرتا کہ ہمارى جماعت مىں جو سچا تقوىٰ اور طہارت رکھتا ہے اور خدا سے اُسے سچا تعلق ہے پھر خدا اُسے ذلّت کى موت مارے……اس لئے راتوں کو اُٹھ کر روؤ۔ دعائیں مانگو اور اس طرح سے اپنے ارد گرد ایک دیوار رحمت بنا لو۔ خدا رحیم کریم ہے وہ اپنے خاص بندہ کو ذلّت کى موت کبھى نہىں مارتا……مجھے امید ہے کہ جو پورے درد والا ہو گا اور جس کا دل شرارت سے دُور نکل گیا ہے خدا اسے ضرور بچاوے گا۔ توبہ کرو، توبہ کرو۔ مجھے یاد ہے کہ اىک مرتبہ مجھے الہام ہوا تھا اردو زبان مىں۔ ’’آگ سے ہمىں مت ڈرا، آگ ہمارى غلام بلکہ غلاموں کى غلام ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ384-385)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی بعض اہم مواقع کی دعائیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے روزہ کی توفیق چاہنے کے لئے دعا کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا۔
”ہر شے خدا تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہئے۔ خداتعالیٰ تو قادرِ مطلق ہے وہ اگر چاہے تو ایک مدقُوق کو بھی روزہ کی طاقت عطاکرسکتا ہے… پس میرے نزدیک خوب ہے کہ (انسان) دعا کرے۔ کہ الہی! یہ تیرا ایک مبارک مہینہ ہے اور مَیں اس سے محروم رہا جاتا ہوں اور کیا معلوم کہ آئندہ سال زندہ رہوں یا نہ یا اِن فوت شدہ روزوں کو اداکرسکوں یا نہ اور اس سے توفیق طلب کرے تو مجھے یقین ہے کہ ایسے دل کو خداتعالیٰ طاقت بخش دے گا۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ563)

مزید پڑھیں