سحری وافطاری کے آداب و برکات-درس نمبر10

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرماتے ہیں کہ
’’آجکل ہم رمضان سے گزر رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ سحری کھاؤ اور افطاری کرو۔ آپ نے اپنے عمل سے ہمیں یہ کر کے دکھایا کہ اگر کوئی سوائے مجبوری کے اللہ تعالیٰ کے اس حکم پر نہیں چلتا تو یہ بھی گستاخی اور گناہ ہے۔ بعض مجبوریاں ہو جاتی ہیں جب آدمی کو فوری طور پر افطاری بھی نہیں ملتی یا سحری نہیں کھائی جا سکتی اور اگر پھر کوئی صحت کے باوجود روزہ نہیں رکھتا تو یہ بھی گستاخی اور گناہ ہے۔ گویا خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا جو کسی بھی صورت میں مہیا ہیں، خدا تعالیٰ کے حکم سے فائدہ اُٹھانا اور جائز طریق سے فائدہ اُٹھانا نیکی بن جاتی ہے اور اُن کا ناجائز استعمال یا بے وقت استعمال گناہ ہے اور یہی آپؐ نے ہمیں اپنے عمل سے کر کے دکھایا۔‘‘
( خطبہ جمعہ17اگست2012ء)

مزید پڑھیں

رمضان اور جھوٹ سے اجتناب-درس نمبر9

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رِجس قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ(الحج:31)۔ دیکھو! یہاں جھوٹ کو بُت کے مقابل رکھا ہے اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بُت ہی ہے ورنہ کیوں کوئی سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔ جیسے بُت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بھی بجز ملمّع سازی کے اَور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔ اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جائے تو جلدی سے دور نہیں ہوتا ۔ مدّت تک ریاضت کریں تب جا کر سچ بولنے کی عادت ان کو ہو گی۔‘‘
(ملفوظات جلد3صفحہ350ایڈیشن 1985ء)

مزید پڑھیں

روزے کی جزاء-درس نمبر8

اَنَّ اَبَا ھُرَیْرَۃَ رَضِیْ اللّٰہُ عَنْہُ قَا لَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَا لَ اللّٰہُ کُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ، فَإِنَّہُ لِي وَأنَا اَجْزِيْ بِهِ
(صحیح بخاری کتاب الصوم )
حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔(حدیثِ قدسی ہے) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابنِ آدم کا ہر عمل اُس کے اپنے لیے ہے سوائے روزے کے کیونکہ وہ میرے لیے ہے اور مَیں اس کی خود جزا دوں گا۔

مزید پڑھیں

َرمَضَان ۔جنت کے دروازے وا کرنے کا مہینہ-درس نمبر7

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’اس مہینے میں ایک خاص ماحول بنا ہوتا ہے اور دوسروں کی دیکھا دیکھی بھی عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ پیدا ہو رہی ہوتی ہے۔ ایسے ماحول میں عبادتوں اور نیکیوں کی طرف توجہ کرتے ہوئے، اپنے اعمال کی طرف توجہ کرتے ہوئے، ہمیں اپنے خدا کے آگے جھکتے ہوئے گذشتہ گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور پھر اس رمضان کی عبادتوں کو اور اس میں تبدیلیوں کو آئندہ زندگی کا مستقل حصہ بنا لینا چاہیے۔ اور اس میں جو گناہ معاف ہوئے یا جنت کے دروازے کھولے گئے تو پھر ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے کہ یہ کھلے رہیں۔ اور رمضان کے فیوض سے حصہ لینے کے لیے نہایت عاجزی سے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے ہمیں کوشش کرنی چاہیے۔‘‘
( خطبہ جمعہ 2؍جون2017ء )

مزید پڑھیں

رمضان کا مہینہ پانچ بنیادی عبادتوں کا مجموعہ ہے-درس نمبر6

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں
’’ رمضان کا مہینہ پانچ بنیادی عبادتوں کا مجموعہ ہے ۔ پہلے تو روزہ ہے دوسرے نماز کی پابندی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے پھر قَیامُ الَّیْل یعنی رات کے نوافل پڑھے جاتے ہیں ۔ تیسرے قرآن کریم کی کثرت سے تلاوت ہے چوتھے سَخَاوت اور پانچویں آفاتِ نفس سے بچنا ہے ۔ ان پانچ بنیادی عبادات کا مجموعہ ، عباداتِ ماہِ رمضان کہلاتی ہیں ۔‘‘
( خطبات ناصر جلد2صفحہ954)

مزید پڑھیں

رمضان کا پیغام-درس نمبر5

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’ رَمَضَ سورج کی تپش کو کہتے ہیں۔ رمضان میں چونکہ انسان اکل و شرب اور تمام جسمانی لذتوں پر صبر کرتا ہے دوسرے اللہ تعالیٰ کے احکام کے لیے ایک حرارت اور جوش پیدا کرتا ہے۔ روحانی اور جسمانی حرارت اور تپش مل کر رمضان ہوا۔ ‘‘
( الحکم 24جولائی 1901ء )

مزید پڑھیں

رمضان کا انتساب براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہے-درس نمبر4

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کو رمضان نہ کہا کرو کیونکہ رمضان، اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے بلکہ رمضان کو ماہِ رمضان کہا کرو۔
) السنن الکبریٰ بیہقی (

مزید پڑھیں

رمضان کا استقبال،اہمیت، فرضیت،برکات-درس نمبر3

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
’’ میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ رمضان سے پورے طور پر فائدہ اٹھائیں کیونکہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے برکات نازل ہونے کے خاص دن ہیں ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جیسے ایک سخی اپنے خزانہ کے دروازے کھول کر اعلان کر دے کہ جو آئے لے جائے ۔ برکتوں اور رحمتوں کے دروازے اپنے بندوں کے لیے کھول دیتا ہے اور کہتا ہے کہ آؤ اور آکر لے جاؤ ۔ ‘‘

مزید پڑھیں

ماہِ شعبان کا رمضان سے تعلق اور اِس کی تیاری-درس نمبر2

حضرت سلمان فارسیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی آخری تاریخ کو ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت اور شان والا مہینہ سایہ کرنے والا ہے ۔ ہاں ایک برکتوں والا مہینہ آیا ہی چاہتا ہے ۔
( مشکوٰۃ کتاب الصوم)

مزید پڑھیں
ramzan, mubarak, ramadan

روزے ۔اسلام اور مذاہب میں-درس نمبر1

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’خدا تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے روزوں کی اہمیت اور فرضیت کی طرف توجہ دلائی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ تم سے پہلے جو انبیاء کی جماعتیں گزری ہیں اُن پر بھی روزے فرض تھے، اس لئے کہ روزہ ایمان میں ترقی کے لئے ضروری ہے، روزہ روحانیت میں ترقی کے لئے ضروری ہے۔ ‘‘
( خطبہ جمعہ 12جولائی2013ء )

مزید پڑھیں