وَاجۡتَنِبُوۡا قَوۡلَ الزُّوۡرِ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بُت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجتَنِبُوا الرِّجسَ مِنَ الاَوثَانِ وَاجتَنِبُوا قَولَ الزُّورِیعنی بُتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پرہیز کرو ۔“
( نور القرآن نمبر2روحانی خزائن جلد9صفحہ403، تفسیر حضرت مسیح موعودؑ سورۃ الحج صفحہ373)

مزید پڑھیں

عہد شکنی نہ کرو

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں :
”کیا ہی خوش قسمت وہ لوگ ہیں جو اپنے دلوں کو صاف کرتے اور اپنے دلوں کو ہر ایک آلودگی سے پاک کرلیتے ہیں اور اپنے خدا سے وفاداری کا عہد باندھتے ہیں کیونکہ وہ ہرگز ضائع نہیں کئے جائیں گے ۔ ممکن نہیں کہ خدا ان کو رسوا کرے کیونکہ وہ خدا کے ہیں اور خدااُ ن کا۔ وہ ہر ایک بَلا کے وقت بچائے جائیں گے ۔“
( کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 19-20)

مزید پڑھیں

اسلام کا ایک بنیادی وصف ۔ سچائی

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
”یقیناً یاد رکھو! جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں ۔ مگر مَیں کیوں کر اس کو باور کروں ۔ مجھ پر 7 مقدمے ہوئے ہیں اور خدا کے فضل سے کسی میں بھی ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی “
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 238)

مزید پڑھیں

غصّہ پر قابو پانا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔جب جوش اور غصّہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔ غصّہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 180)

مزید پڑھیں

کھانے کے آداب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” انسان کے کھانے پینے کے طریق بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر بھی اثر کرتے ہیں۔ اس واسطے قرآن شریف نے تمام عبادات اور اندرونی پاکیزگی کی اغراض اور خشوع و خضوع کے مقاصد میں جسمانی طہارتوں اور جسمانی آداب اور جسمانی تعدیل کو بہت ملحوظ رکھا ہے اور غور کرنے کے وقت یہی فلاسفی نہایت صحیح معلوم ہوتی ہےکہ جسمانی اوضاع کا روح پر بہت قوی اثر ہے۔ “
(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 18-19)

مزید پڑھیں

آؤ بچو! لغویات سے کیسے بچیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مومن صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں اور سوزوگداز ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر وہ مومن ہیں کہ جو باوجود خشوع اورسوزو گداز کے تمام لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو تعلقوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اپنی خشوع کی حالت کو بیہودہ کاموں اور لغو باتوں کے ساتھ ملا کر ضائع اور برباد ہونے نہیں دیتے اور طبعاً تمام لغویات سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ کاموں سے ایک کراہت اُن کے دلوں میں پیدا ہوجاتی ہے … پس دنیا کی لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو سیرو تماشا اور لغو صحبتوں سے واقعی طور پر اُسی وقت انسان کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے جب دل کا خدائے رحیم سے تعلق ہو جائے اور دل پر اس کی عظمت اور ہیبت غالب آجائے۔ خدا پرایمان لا کر ہر ایک لغو بات اور لغو کام اور لغو مجلس اور لغو حرکت اور لغو تعلق اور لغو جوش سے کنارہ کشی کی جائے۔“
( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21 صفحہ199۔200)

مزید پڑھیں

مساجد کے آداب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر فرمایا کہ
” سب سے اہم عمارات مساجد ہیں۔ مسجد کے ماحول کو پھولوں ،کیاریوں اورسبزے سے خوبصورت رکھنا چاہیے… اِس کے ساتھ ہی مسجد کے اندر کی صفائی کا بھی خاص اہتمام ہونا چاہیے۔“
( خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 272)

مزید پڑھیں

نازک ترین معاملہ زبان سے ہے (مسیح موعودؑ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” نرمی کی عادت ڈالنا تا کہ خدا تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔ ورنہ اگر تم خدا تعالیٰ کی مخلوق پر درشتی کرتے ہو تو تم بھی اپنے آپ کو اس بات کا حق دار بناتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم پر بھی درشتی کرے “
(انوار العلوم جلد 5 صفحہ 436 )

مزید پڑھیں