حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر8)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مَیں پھر جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ تم لوگ ان کی مخالفتوں سے غرض نہ رکھو۔ تقویٰ طہارت میں ترقی کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا اور ان لوگوں سے وہ خود سمجھ لیوے گا وہ فرماتا ہے۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّالَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ (النحل: 129) اور خوب یاد رکھو کہ اگر تقویٰ اختیار نہ کرو گے اور اس نیکی سے جسے خدا چاہتا ہے کثیر حصّہ نہ لو گے تو اللہ تعالیٰ سب سے اوّل تم ہی کو ہلاک کرے گا کیونکہ تم نے ایک سچائی کو مانا ہے اور پھر عملی طور سے اس کے منکر ہوتے ہو۔ اس بات پر ہرگز بھروسہ نہ کرو اور مغرور مت ہو کہ بیعت کر لی ہے۔ جب تک پوری تقویٰ اختیار نہ کرو گے۔ ہرگز نہ بچو گے ۔ خداتعالیٰ کا کسی سے رشتہ نہیں نہ اس کو کسی کی رعایت منظور ہے ۔ جو ہمارے مخالف ہیں وہ بھی اسی کی پیدائش ہیں اور تم بھی اسی کی مخلوق ہو۔ صرف اعتقادی بات ہرگز کام نہ آوے گی جب تک تمہارا قول اور فعل ایک نہ ہو۔“
(ملفوظات جلد 7صفحہ 144-145 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو کہ سارے فضل ایمان کے ساتھ ہیں ۔ایمان کو مضبوط کرو۔ قطع حقوق، معصیت ہے اور انسان کی زندگی ہمیشہ کے لیے نہیں ہے ۔ایسا پرہیز اور بُعد جو ظاہر ہوا ہے وہ عقل اور انصاف کی رُو سے صحیح نہیں ہے۔ ایسے امور سے اپنے آپ کو بچاؤ جو تجربہ میں مضرّ ثابت ہوئے ہیں۔
یہ جماعت جس کو خدا تعالیٰ نمونہ بنانا چاہتا ہے اگر اس کا بھی یہی حال ہوا کہ ان میں اخوّت اور ہمدردی نہ ہو تو بڑی خرابی ہوگی ۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 353)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اب بڑی تبدیلی کا وقت ہے اور خدا تعالیٰ سے سچی صلح کے دن ہیں۔ بعض لوگ اپنی غلط فہمی اور شرارت سے اس سلسلہ کو بدنام کرنے کے لئے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض آدمی طاعون سے ہلاک ہوئے ہیں۔ مَیں نے بارہا اس اعتراض کا جواب دیا ہے کہ یہ سلسلہ منہاج نبوت پر واقع ہوا ہے۔ آنحضرت صلی.اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کفار پر جو عذاب آیا تھا وہ تلوار کا عذاب تھا۔ حالانکہ وہ اُن کے لئے مخصوص تھا۔ لیکن کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ صحابہؓ میں سے بعض شہید نہیں ہو گئے ؟ اسی طرح پر یہ سچ ہے کہ اس سلسلہ میں سے بھی بعض لوگ طاعون سے شہید ہوئے ہیں مگر یہ بھی تو دیکھو کہ طاعون کے ذریعہ سے ہمارا نقصان ہوا ہے یا دوسروں کا ؟ ہماری جماعت کی تو ترقی ہوتی گئی ہے اور ہو رہی ہے اور مَیں پھر کہتا ہوں کہ جو لوگ نافع الناس ہیں اور ایمان ، صدق و وفا میں کامل ہیں وہ یقیناً بچا لئے جائیں گے۔ پس تم اپنے اندر یہ خوبیاں پیدا کرو۔ اپنے رشتہ داروں اور بیوی بچوں کو بھی سمجھاؤ اور یہی تلقین کرو اور دوستوں کے ساتھ یہی شرط دوستی رکھو کہ وہ بدی سےبچیں۔
پھر مَیں یہ بھی کہتا ہوں کہ سختی نہ کرو اور نرمی سے پیش آؤ۔ جنگ کرنا اس سلسلہ کے خلاف ہے۔ نرمی سے کام لو اور اس سلسلہ کی سچائی کو اپنی پاک باطنی اور نیک چلنی سے ثابت کرو۔ یہ میری نصیحت ہے اس کو یاد رکھو ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں استقامت بخشے۔ آمین۔“
(ملفوظات جلد 7 صفحہ 239- 240)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’نفس اور اخلاق کی پاکیزگی حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ صحبتِ صادقین بھی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے کہ کُوْنُوْا مَعَ الصَّادِقِیْنَ یعنی تم خدا تعالیٰ کے صادق اور راست باز لوگوں کی صحبت اختیار کرو تاکہ ان کے صدق کے انوار سے تم کو بھی حصہ ملے جو مذاہب کے تفرقہ پسند کرتے ہیں اور الگ الگ رہنے کی تعلیم دیتے ہیں وہ یقیناً وحدتِ جمہوری کی برکات سے محروم رہتے ہیں ۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا کہ ایک نبی ہو جو کہ جماعت بنا دے اور اخلاق کے ذریعے آپس میں تعارف اور وحدت پیدا کرے۔“
(ملفوظات جلد7 صفحہ 130 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’وہ دن کون سا دن ہے جو جمعہ اور عیدین سے بھی بہتر اور مبارک دن ہے؟ مَیں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ دن انسان کی توبہ کا دن ہے جو ان سب سے بہتر ہے اور ہر عید سے بڑھ کر ہے۔ کیوں؟ اس لیے کہ اس دن وہ بداعمال نامہ جو انسان کو جہنم کے قریب کرتا جاتا ہے اور اندر ہی اندر غضبِ الٰہی کے نیچے اُسے لا رہا تھا دھو دیا جاتا ہے اور اس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ حقیقت میں اس سے بڑھ کر انسان کے لیے اور کون سا خوشی اور عید کا دن ہوگا جو اُسے ابدی جہنّم اور ابدی غضبِ الٰہی سے نجات دے دے۔ توبہ کرنے والا گنہگار جو پہلے خدا تعالیٰ سے دُور اور اُس کے غضب کا نشانہ بنا ہوا تھا ۔ اب اس کے فضل سے اس کے قریب ہوتا اور جہنّم اور عذاب سے دُور کیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیۡنَ وَ یُحِبُّ الۡمُتَطَہِّرِیۡنَ (البقرہ: 223) ۔ بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور ان لوگوں سے جو پاکیزگی کے خواہاں ہیں پیار کرتا ہے اِس آیت سے نہ صرف یہی پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے بلکہ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی توبہ کے ساتھ حقیقی پاکیزگی اور طہارت شرط ہے۔ ہر قسم کی نجاست اور گندگی سے الگ ہونا ضروری ہے ورنہ نِری توبہ اور لفظ کے تکرار سے تو کچھ فائدہ نہیں ہے۔ پس جو دن ایسا مبارک دن ہو کہ انسان اپنی بد کرتوتوں سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچّا عہد صلح باندھ لے اور اس کے احکام کے لیے اپنا سر تسلیم خم کر دے تو کیا شک ہے کہ وہ اس عذاب سے جو پوشیدہ طور پر اس کے بدعملوں کی پاداش میں تیار ہو رہا تھا ۔ بچایا جاوے گا اور اس طرح پر وہ وہ چیز پا لیتا ہے جس کی گویا اسے توقع اور امید ہی نہ رہی تھی۔“
(ملفوظات جلد7 صفحہ 148-149 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہم تو یہ دعا کرتے ہیں کہ خداتعالیٰ جماعت کو محفوظ رکھے اور دنیا پر یہ ظاہر ہو جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برحق رسول تھے اور خدا تعالیٰ کی ہستی پر لوگوں کو ایمان پیدا ہو جائے ۔ خواہ کیسے ہی زلزلے پڑیں پر خدا کا چہرہ لوگوں کو ایک دفعہ نظر آ جائے اور اس ہستی پر ایمان قائم ہو جائے۔“
(ملفوظات جلد7 صفحہ 340)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہماری جماعت بھی اگر بیچ کا بیج ہی رہے گی تو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ جوردّی رہتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو بڑھاتا نہیں ۔ پس تقویٰ ، عبادت اور ایمانی حالت میں ترقی کرو۔ اگر کوئی شخص مجھے دجّال اور کافر وغیرہ ناموں سے پکارتا ہے تو تم اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کرو ۔ کیونکہ جب خدا میرے ساتھ ہے تو مجھے ان کے ایسے بدکلمات اور گالیوں کا کیا ڈر ہے؟ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کافر کہا تھا۔ ایک زمانہ ایسا آگیا کہ پکار اُٹھا کہ مَیں اس خدا پر ایمان لایا جس پر موسیٰ اور اس کے متّبِع ایمان لائے ہیں۔ ایسے لوگ یا د رکھو کہ مخنّث اور نامرد ہوتے ہیں۔ یہ تو ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے ایک بچہ بعض اوقات اپنی ماں اور باپ کو بھی ناسمجھی کی وجہ سے گالی دے دیتا ہے۔ مگر اس کے اس فعل کو کوئی بُرا نہیں سمجھتا۔“
(ملفوظات جلد7 صفحہ 233-234)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد7  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”جو دعا سے منکر ہے وہ خدا سے منکر ہے صرف ایک دعا ہی ذریعہ خداشناسی کا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس کی ذات کو طوعاً و کرہًا مانا جاوے۔ اصل میں سب جگہ دہریت ہے۔ آجکل کی محفلوں کا یہ حال ہے کہ دعا، توکّل اور انشاء اللہ کہنے پر تمسخر کرتے ہیں۔ ان باتوں کو بیوقوفی کہا جاتا ہے ورنہ اگر خدا سے ان کو ذرا بھی اُنس ہوتا تو اس کے نام سے کیوں چڑتے؟ جس کو جس سے محبت ہوتی ہے وہ ہیر پھیر سے کسی نہ کسی طرح سے محبوب کا نام لے ہی لیتا ہے۔ اگر اُن کے نزدیک خدا کوئی شئے نہیں ہے۔ تو اب موت کا دروازہ کھلا ہے اسے ذرا بند کر کے تو دکھلا ویں۔ تعجّب ہے کہ ہمیں جس قدر اس کے وجود پر امیدیں ہیں اُسی قدر وہ دوسرا گروہ اس سے نا امید ہے۔ اصل میں خدا کے فضل کی ضرورت ہے۔ اگر وہ دل کے قفل نہ کھولے تو اَور کون کھول سکتا ہے ۔ اگر وہ چاہے تو ایک کُتّے کو عقل دے سکتا ہے کہ اس کی باتوں کو سمجھ لیوے اور انسان کو محروم رکھ سکتا ہے “
( ملفوظات جلد 7 صفحہ 1-2 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر10)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”تم لوگوں نے اس وقت جو بیعت کی ہے اس کا زبان سے کہہ دینا اور اقرار کرلینا تو بہت ہی آسان ہے مگر اس اقرار بیعت کا نبھانا اور اس پر عمل کرنا بہت ہی مشکل ہے کیونکہ نفس اور شیطان انسان کو دین سے لاپروا بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ دنیا اور اس کے فوائد کو آسان اور قریب دکھاتے ہیں ۔ لیکن قیامت کے معاملہ کو دور دکھاتے ہیں جس سے انسان سخت دل ہوجاتا ہے اور پچھلا حال پہلے سے بدترین ہوجاتا ہے۔ اس لئےیہ بہت ہی ضروری امر ہے کہ اگر خداتعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔ تو جہاں تک کوشش ہوسکے ساری ہمت اور توجہ سے اس اقرار کو نبھانا چاہیے اور گناہوں سے بچنے کے لئے کوشش کرتے رہو۔ “
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 392 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد6  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر9)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”انسان اگر اپنے نفس کی پاکیزگی اور طہار ت کی فکر کرے اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر گناہوں سے بچتا رہے تو اللہ تعالیٰ یہی نہیں کہ اس کو پاک کردے گا بلکہ وہ اس کا متکفّل اور متولِّی بھی ہوجائے گا اور اسے خبیثات سے بچائے گا۔ اَلۡخَبِیۡثٰتُ لِلۡخَبِیۡثِیۡنَ کے یہی معنی ہیں۔ اندرونی معصیت، ریاکاری، عُجب، تکبّر ، خوشامد ، خودپسندی، بدظنی اور بدکاری وغیرہ وغیرہ خباثتوں سے بچنا چاہیے۔ اگر اپنے آپ کو ان خباثتوں سے بچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو پاک و مطہَّر کردے گا۔ “
(ملفوظات جلد 6صفحہ 337 )

مزید پڑھیں