سیرت حضرت سیّدہ محمودہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا(حرم حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)
حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ کی الفضل کے اجرا میں قربانی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
”خدا تعالیٰ نے میری بیوی کے دل میں اسی طرح تحریک کی جس طرح خدیجہؓ کے دل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کی تحریک کی تھی۔ انہوں نے اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنویں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو جو اس زمانہ میں شاید سب سے زیاده مذموم تھا، اپنے دو زیور مجھے دے دیئے کہ میں ان کو فروخت کرکے اخبار جاری کر دوں۔ ان میں سے ایک تو ان کے اپنے کڑے تھے اور دوسرے ان کے بچپن کے کڑے تھے جو انہوں نے اپنی اور میری لڑکی عزیزہ ناصرہ بیگم سلّمہا اللہ تعالیٰ کےاستعمال کے لئے رکھے ہوئےتھے۔میں زیورات کو لے کر اسی وقت لاہور گیا اور پونے پانچ سو کے وہ دونوں کڑے فروخت ہوئے یہ ابتدائی سرمایہ الفضل کا تھا۔ الفضل اپنے ساتھ میری بے بسی کی حالت اور میری بیوی کی قربانی کو تازہ رکھے گا…اس حسن سلوک نے نہ صرف مجھے ہاتھ دئیے جس سے میں دین کی خدمت کرنے کے قابل ہوا اور میرے لئے زندگی کا نیا ورق الٹ دیا بلکہ ساری جماعت کی زندگی کے لئے بھی ایک بہت بڑا سبب پیدا کردیا…میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ سامان پیدا نہ کرتا تو مَیں کیا کرتا اور میرے لئے خدمت کا کونسا دروازہ کھولا جاتا اور جماعت میں روزمرہ بڑھنے والا فتنہ کس طرح دُور کیا جاسکتا‘‘
(یادایام، انوار العلوم جلد8 صفحہ369-370)
