استحکامِ خلافت اور ہماری ذمہ داریاں
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” مَیں یہ وصیت کرتا ہوں کہ تمہارا اِعتَصَام حَبلُ اللّٰہ کے ساتھ ہو۔ قرآن تمہارا دستورالعمل ہو۔ باہم کوئی تنازع نہ ہو کیونکہ تنازع فیضانِ الٰہی کو روکتا ہے …… چاہیے کہ تمہاری حالت اپنے امام کے ہاتھ میں ایسی ہو جیسے میَّت غسَّال کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ تمہارے تمام ارادے اور خواہشیں مُردہ ہوں اور تم اپنے آپ کو امام کے ساتھ ایسے وابستہ کرو جیسے گاڑیاں انجن کے ساتھ اور پھر ہر روز دیکھو کہ ظلمت سے نکلتے ہو یا نہیں۔ استغفار کثرت سے کرواور دعاؤں میں لگے رہو۔ وحدت کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔ دوسرے کے ساتھ نیکی اور خوش معاملگی میں کوتاہی نہ کرو۔ تیرہ سو برس کے بعد یہ زمانہ ملا ہے اور آئندہ یہ زمانہ قیامت تک نہیں آ سکتا ،پس اس نعمت کا شکر کرو کیونکہ شکر کرنے پر ازدیاد نعمت ہوتا ہے“
(خطبات نور صفحہ131 )
