انسان کی انسانيت کا تقاضا اپنے بھائی سے مُروَّت، احسان کا سلوک کرے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:
’’ تم جو ميرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تم ہر شخص خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو ہمدردی کرو اور بلا تميز ہر ايک سے نيکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 219)

مزید پڑھیں

یُفِیْضُ الۡمَالَ حَتّٰی لَا یَقۡبَلُہُ اَحَدٌ یعنی آنے والا مسیحؑ مال لُٹائے گا لیکن لوگ اُس مال کو قبول نہیں کریں گے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:
”آپ کا فرضی مسیح اورمہدی تو ظاہر ہو کر اور تمام کافروں کو قتل کر کے اُن کا مال آپ لوگوں کو دے دے گا اور تمام نفسانی خواہشیں پوری کردے گا جیسا کہ آپ لوگوں کا عقیدہ ہے۔ لیکن مَیں تو اس لئے نہیں آیا کہ آپ لوگوں کو دنیا کے گندے مال میں مبتلا کروں اور آپ پر تمام ہواوہوس کے پورے کرنے کے دروازے کھول دوں بلکہ مَیں اس لئے آیا ہوں کہ موجودہ دنیا کے حظ سے بھی کچھ کم کرکے خداتعالیٰ کی طرف کھینچوں ۔ پس حقیقت میں میرے آنے سے آپ لوگوں کا بہت ہی حرج ہوا ہے۔ گویا تیرہ سو برس کے مال و متاع کی آرزوئیں خاک میں مل گئیں یا یوں کہو کہ کروڑ ہا روپیہ کا نقصان ہوگیا۔ “
(تریاق القلوب ، رُوحانی خزائن جلد 15 صفحہ159)

مزید پڑھیں

”خادمِ نوعِ انسان“ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتےہیں:
”متکبّر دوسرے کا حقیقی ہمدرد نہیں ہوسکتا۔اپنی ہمدردی کو صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہ رکھو بلکہ ہرایک کے ساتھ کرو ۔ اگر ایک ہندو سے ہمدردی نہ کرو گے تو اسلام کے سچے وصایا اُسےکیسے پہنچاؤ گے؟ خدا سب کا ربّ ہے ۔ ہاں مسلمانوں کی خصوصیت سے ہمدردی کرو اور پھر متقی اور صالحین کی اس سے زیادہ خصوصیت سے ۔ مال اور دُنیا سے دل نہ لگاؤ۔ اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ تجارت وغیرہ چھوڑ دو بلکہ دل بایار اور دست باکار رکھو ۔ خدا کاروبار سے نہیں روکتا بلکہ دنیا کو دین پر مقدم رکھنے سے روکتا ہے ۔ اس لیے تم دین کو مقدم رکھو۔“
(ملفوظات جلد 3 صفحہ592۔ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

جماعت احمدیہ اور خدمتِ انسانیت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” ہمارا یہ اصول ہے کہ کل بنی نوع کی ہمدردی کرو ۔ اگر ایک شخص ایک ہمسایہ ہندو کو دیکھتا ہے کہ اس کے گھر میں آگ لگ گئی اور یہ نہیں اٹھتا کہ تا آگ بھجانے میں مدد دے تو مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ مجھ سے نہیں ہے۔ اگر ایک شخص ہمارے مریدوں میں سے دیکھتا ہے کہ ایک عیسائی کو کوئی قتل کرتا ہے اور وہ اس کے چھڑانے کے لئے مدد نہیں کرتا تو مَیں تمہیں بالکل درست کہتا ہوں کہ وہ ہم میں سے نہیں۔“
( سراج منیر ،روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 28)

مزید پڑھیں

ہم ایک ہیں!

حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ نے جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:
’’ کسی جماعت کی ترقی کے لئے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے سب افراد آپس میں ایک ہو جائیں ۔ جب تک کوئی جماعت فرد واحد کی طرح نہیں ہوجاتی ترقی نہیں کر سکتی۔ خواہ وہ جماعت دینی ہو یا دنیوی کیونکہ تمام کامیابیوں اور ترقیوں کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ قاعدہ جاری کیا ہوا ہے کہ جب تک سا ری جماعت ایک نہ ہو جائے ، لڑنا جھگڑنا ، دشمنی، نفاق و حسد و کینہ ، بغض و عداوت کو چھوڑ نہ دے اس وقت تک ترقی نہیں کرے گی۔ ‘‘
(الفضل 10 ؍مئی 1992ء)

مزید پڑھیں

ULEZ اور انسانی زندگی

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت بیٹھی ہوئی تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور پوچھا کہ یہ کون عورت ہے ۔ مَیں نے عرض کی۔ یہ فلاں ہے جو اس قدر عبادت اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتی ہے کہ سوتی بھی نہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ تم پر اسی قدر عبادت واجب ہے جتنی تم میں طاقت ہے ۔ خدا کی قسم!تم تھک اور اُکتا جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ نہیں اُکتائے گا ۔ اللہ تعالیٰ کو وہی عمل پسند ہے جس پر میانہ روی کے ساتھ مداومت ہو ۔
( حدیقۃ الصالحین حدیث نمبر 779)

مزید پڑھیں

انسان اور کِردار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ تمہاری بیعت کا اقرار کرنا زبان تک محدود رہا تو یہ بیعت کچھ فائدہ نہ پہنچائے گی۔ چاہئے کہ تمہارے اعمال تمہارے احمدی ہونے پر گواہی دیں۔ مَیں ہرگز یہ بات نہیں مان سکتا کہ خداتعالیٰ کا عذاب اس شخص پر وارد ہو جس کا معاملہ خداتعالیٰ کے ساتھ ہو۔ خداتعالیٰ اسے ذلیل نہیں کرتا جو اس کی راہ میں ذلت اور عاجزی اختیار کرے۔ یہ سچی اور صحیح بات ہے۔ پس راتوں کو اٹھ اٹھ کر دعائیں مانگو۔ کوٹھڑی کے دروازے بند کرکے تنہائی میں دعا کرو کہ تم پر رحم کیاجائے۔ اپنا معاملہ صاف رکھو کہ اللہ تعالیٰ کا فضل تمہارے شامل حال ہو۔ جو کام کرو نفسانی غرض سے الگ ہو کر کرو تا خداتعالیٰ کے حضور اجر پاؤ‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 272)

مزید پڑھیں

تُو آئے تو ہم تجھ کو سر آنکھوں پہ بٹھائیں (حضرت مصلح موعودؓ  کا اللہ سے خطاب)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’مسلمانوں کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ اُن کا خدا دعاؤں کو سننے والا ہے‘‘
(ملفوظات جلد 2صفحہ 148 )

مزید پڑھیں

آنحضورؐ کی چند مزید فضیلتیں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’وہ انسان جو سب سے زیادہ کامل اور انسانِ کامل تھا اور کامل نبی تھا اور کامل برکتوں کے ساتھ آیا جس سے روحانی بعث اور حشر کی وجہ سے دنیا کی پہلی قیامت ظاہر ہوئی اور ایک عالَم کا عالَم مرا ہوا اس کے آنے سے زندہ ہو گیا۔ وہ مبارک نبی حضرت خاتم الانبیاء، امام الاصفیاء،ختم المرسلین ، فخر النبیین جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اے پیارے خدا! اس پیارے نبی پر وہ رحمت اور درود بھیج جو ابتدائے دنیا سے تُو نے کسی پر نہ بھیجا ہو۔ اگر یہ عظیم الشان نبی دنیا میں نہ آتا تو پھر جس قدر چھوٹے چھوٹے نبی دنیا میں آئے جیسا کہ یونس اور ایوب اور مسیح بن مریم اور ملاکی اور یحيٰ اور زکریا وغیرہ وغیرہ ان کی سچائی پر ہمارے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تھی اگرچہ سب مقرّب اور وجیہ اور خدا تعالیٰ کے پیارے تھے۔ یہ اسی نبی کا احسان ہے کہ یہ لوگ بھی بھی دنیا میں سچے سمجھے گئے۔“
(اتمام الحجۃ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 308 )

مزید پڑھیں

لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلاکْ اگر تم نہ ہوتے تو مَیں کائنات کی کوئی بھی چیز پیدا نہ کرتا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’انسان کامل جن کا نام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ہے جن کے بارہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم ! مَیں نے زمین و آسمان کو بھی تیری وجہ سے پیدا کیا ہے۔ اپنے نور ہونے کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرماتے ہیں۔ایک روایت مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ کتاب الایمان میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے پہلی چیز جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی وہ میرا نور ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الایمان بالقدر) ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ابتداء سے ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ اس انسان کامل کو دیا جانے والا نور وہ نور ہے جو نہ پہلوں میں کبھی کسی کو دیا گیا اور نہ بعد میں آنے والوں کو دیا جائے گا۔ وہ صرف اور صرف انسان کامل حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہو گا۔‘‘
( خطبہ جمعہ 22جنوری2010ء)

مزید پڑھیں