”خداتعالیٰ کہنے میں بڑی برکات ہیں“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا کے تمام کامل نام اِسی سے مخصوص ہیں اور اِن میں شرکت غیر کی جائز نہیں سو خدا کو انہیں ناموں سے پکارو جو بلاشرکت غیرے یعنی نہ مخلوقاتِ ارضی و سماوی کے نام خدا کے لئے وضع کرو اور نہ خدا کے نام مخلوق چیزوں پر اطلاق کرو اور ان لوگوں سے جدا رہو جو کہ خدا کے ناموں میں شرکتِ غیر جائز رکھتے ہیں۔ عنقریب وہ اپنے کاموں کا بدلہ پائیں گے ۔“
( براہینِ احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 522۔ حاشیہ درحاشیہ نمبر3)

مزید پڑھیں

ہُن مَیں چھ مہینے لئی تیرا ربّ نہیں رہیا؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔ ‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 273 ایڈیشن 1988ء)

مزید پڑھیں

’’ میرے نور الدین کو ‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”مَیں نے کسی روایت کے ذریعہ سنا تھا کہ جب بیت اللہ نظرآئے تواس وقت کوئی ایک دعامانگ لو وہ ضرورہی قبول ہوجاتی ہے۔ مَیں علوم کا اس وقت ماہرتوتھاہی نہیں جوضعیف و قوی روایتوں میں امتیاز کرتا ۔ مَیں نے یہ دعامانگی۔”الٰہی! مَیں تو ہر وقت محتاج ہوں اب مَیں کون سی دعامانگوں ۔ پس مَیں یہی دعامانگتاہوں کہ مَیں جب ضرورت کے وقت تجھ سے دعامانگوں تواس کو قبول کرلیاکر“۔ روایت کا حال تومحدثین نے کچھ ایسا ویسا ہی لکھاہے مگر میراتجربہ ہے کہ میری تویہ دعاقبول ہی ہوگئی۔ بڑے بڑے نیچریوں ، فلاسفروں ، دہریوں سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور ہمیشہ دعاکے ذریعہ مجھ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ایمان میں بڑی ترقی ہوتی گئی۔‘‘
(مرقاۃ الیقین )

مزید پڑھیں

نُورِالٰہی، نُورِمصطفویؐ اور نُورِقرآن احمدی مسمانوں کا ورثہ ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا ہی ہے جو ہر دم آسمان کا نور اور زمین کا نور ہے۔ اس سے ہر ایک جگہ روشنی پڑتی ہے۔ آفتاب کا وہی آفتاب ہے۔ زمین کے تمام جانداروں کی وہی جان ہے۔“
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ444)

مزید پڑھیں

اطاعت کے ذریعہ پراگندہ موتیوں کا اجتماع

حضرت خلیفۃُ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”اطاعت کا مادہ نظام کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ پس جب بھی خلافت ہو گی اطاعتِ رسول بھی ہو گی کیونکہ اطاعتِ رسول یہ نہیں کہ نماز پڑھو یا روزے رکھو یا حج کرو۔ یہ تو خدا کے احکام کی اطاعت ہے۔ اطاعتِ رسول یہ ہے کہ جب وہ کہےکہ اب نمازوں پر زور دینے کا وقت ہے تو سب نمازوں پر زور دینا شروع کر دیں ۔“
(تفسیر کبیر سورۃنور صفحہ 369)

مزید پڑھیں

ہمسایوں سے حسن سلوک

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ مَیں دیکھتا ہوں کہ بہت سے ہیں جن میں اپنے بھا ئیوں کے لئے کچھ بھی ہمدردی نہیں۔ اگر ایک بھا ئی بھوکا مر تا ہو تو دوسرا تو جہ نہیں کرتا اور اس کی خبر گیری کے لئےتیار نہیں ہوتا۔ یا اگر وہ کسی اورقسم کی مشکلات میں ہے تو اتنانہیں کرتے کہ اس کے لئے اپنے مال کا کوئی حصہ خرچ کریں۔ حدیث شریف میں ہمسا یہ کی خبر گیری اور اس کے ساتھ ہمدردی کا حکم آیا ہے بلکہ یہاں تک بھی ہے کہ اگر تم گوشت پکا ؤ تو شوربہ زیادہ کرلو تا کہ اُسے بھی دے سکو۔ اب کیا ہوتا ہے، اپنا ہی پیٹ پالتے ہیں لیکن اس کی کچھ پر واہ نہیں۔ یہ مت سمجھو کہ ہمسایہ سے اتنا ہی مطلب ہے جو گھرکے پاس رہتا ہو۔ بلکہ جو تمہارے بھائی ہیں وہ بھی ہمسایہ ہی ہیں خواہ وہ سو کوس کے فاصلے پر بھی ہوں۔‘‘
(ملفو ظات جلد 4صفحہ 215)

مزید پڑھیں

لَا تَاۡخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلَا نَوۡمٌ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
” خدا کی کرسی کے اندر تمام زمین و آسمان سمائے ہوئے ہیں اور وہ اُن سب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ اُن کے اُٹھانے سے وہ تھکتا نہیں۔ “
(چشمۂ معرفت ، روحانی خزائن جلد 23صفحہ 118 حاشیہ)

مزید پڑھیں

ہمیشہ مسکراتے رہو

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
” ہر ایک سے مسکراتے ہوئے ملیں چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو۔ بعض عہدیدار مَیں نے دیکھا ہے بڑی سخت شکل بنا کر دفتر میں بیٹھے ہوتے ہیں یا ملتے ہیں۔ اِن کو ہمیشہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس اسوہ پر عمل کرنا چاہئے جس کا روایت میں یوں ذکر آتا ہے کہ حضرت جریر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے مَیں نے اسلام قبول کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملاقات سے منع نہیں فرمایا اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے تھے۔ (بخاری کتاب الأدب باب التبسم والضحک)۔ تو کوئی پابندی نہیں تھی جب بھی ملتے مسکرا کر ملتے۔“
(خطبہ جمعہ 31 دسمبر2004ء)

مزید پڑھیں

اسپورٹس مَین سَپِرٹ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
”احمدیوں کو چاہئے کہ جب بھی وہ کوئی کھیل کھیلیں تو حقیقی اسپورٹس مَین سپرٹ کا مظاہرہ کریں۔ اعلیٰ اخلاق، برداشت اور دوسروں کے احترام کا ایسا معیار قائم ہوناچاہئے جو احمدی نوجوانوں کو دوسروں سے ممتاز کرے ۔ اگر ہم بلند اخلاقی معیار نہ دکھا سکیں تو احمدی ہونے کا کیا فائدہ؟ اِسی لئے مَیں پھر کہتا ہوں کہ ہمارے کھیلوں کےپروگرام اِس مقصد کے لئے ہوتے ہیں کہ خدام اور اطفال کی ذہنی نشوو نما ہو تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق، انسانیت کے حقوق اور جماعت کی خدمت بہترین انداز میں.کرسکیں“

مزید پڑھیں

سچّے احمدی کی  ماں ۔ زندہ باد

حضرت مرزا بشیر احمد ؓ فرماتے ہیں:
’’ اگر مائیں بچپن سے ہی بچوں کی اچھی تربیت کریں اور اُن کے اعمال کی نگرانی رکھیں تو وہ اُن کو جنت کے راستہ میں ڈال کر ابدالآباد کی نعمتوں کا وارث بنا دیتی ہیں ۔ ‘‘
( ماہنامہ مصباح دسمبر ، جنوری1962-1961ء )

مزید پڑھیں