خلافتِ  احمدیہ کے دوران جماعتی ترقیات

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خد تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو چھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لیے تم میری اس بات سے جو مَیں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا… مَیں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور مَیں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہو گے…اور چاہیے کہ جماعت کے بزرگ جو نفس پاک رکھتے ہیں میرے نام پر میرے بعد لوگوں سے بیعت لیں“
(الوصیت، ر وحانی خزائن جلد 20 صفحہ 300)

مزید پڑھیں

بابت تاریخ ’’مشاہدات‘‘ کے دو سال

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کوئی محدود طاقتوں والا نہیں ہے۔ اگر وہ چاہے کہ نبی کے زمانے میں بھی نبی سے کئے گئے تمام وعدے اور فتوحات کو اس زمانہ میں اور اس کی زندگی میں پورا کر دے تو کر سکتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بعد میں آنے والے بھی ان فتوحات اور انعامات سے حصہ لینے والے بن جائیں۔ پس اس زمانہ کے تیز وسائل ہمیں اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ ان کا صحیح استعمال کریں۔ انہیں کام میں لائیں اور صحابہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے زمانہ کے امام کے معین و مددگار بن جائیں اور مددگار بن کر اس کے مشن کو پورا کرنے والے ہوں۔ تیز رفتار وسائل اس طرف توجہ مبذول کروا رہے ہیں کہ ہم اس تیز رفتاری کو خدا تعالیٰ کا انعام سمجھتے ہوئے اس کے دین کے لئے استعمال کریں ……پس خداتعالیٰ نے اس نشر کے اس زمانہ میں جدید طریقے مہیا فرما دیئے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے پاس آج کل کے وسائل اور جدید طریقے موجودنہیں تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے تبلیغِ اسلام کا حق ادا کر دیا۔ آج کل ہمارے پاس یہ طریقے موجود ہیں ….. جو تیزی میڈیا میں آج کل ہے آج سے چند دہائیاں پہلے ان کا تصوّر بھی نہیں تھا۔ پس یہ مواقع ہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائے ہیں کہ اسلام کی تبلیغ اور دفاع میں ان کو کام میں لاؤ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ یہ جدید ایجادات اس زمانہ میں ہمارے لئے اس نے مہیا فرمائی ہیں۔ ہمارے لئے یہ مہیا کر کے تبلیغ کے کام میں سہولت پیدا فرما دی ہے اور ہماری کوشش اس میں یہ ہونی چاہئے کہ بجائے لغویات میں وقت گزارنے کے، ان سہولتوں سے غلط قسم کے فائدے اٹھانے کے ان سہولتوں کا صحیح فائدہ اٹھائیں، ان کو کام میں لائیں اور اگر اُس گروہ کا ہم حصہ بن جائیں جو مسیح محمدی کے پیغام کو دنیا میں پہنچا رہا ہے تو ہم بھی اس گروہ میں شامل ہو سکتے ہیں، ان لوگوں میں شامل ہو سکتے ہیں جن کی خداتعالیٰ نے قسم کھائی ہے۔‘‘
(خطبہ جمعہ فرمودہ15 ؍اکتوبر 2010ء)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور فتح مکہ

رمضان کے بابرکت مہینہ میں دو عظیم الشان فتوحات حاصل ہوئیں۔پہلی فتح یوم الفرقان غزوہ بدر کے دن اور دوسری عظیم الشان فتح یوم الفرقان فتح مکہ کے دن۔

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور غزوہِ بدر (جنگِ بدر کا قصہ مت بھولو۔ الہام مسیح موعودؑ)

حضرت قاضی عبدالرحیمؓ نے 17فروری 1904ء کی ڈائری میں لکھا کہ
’’آج رات حضرتؑ (حضرت مسیح موعودؑ) نے خواب بیان فرمایا۔ کسی نے کہا کہ جنگ بدر کا قصہ مت بھولو۔‘‘
(اصحاب احمد جلد ششم صفحہ133)

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان اور کسوف و خسوف کا نشان

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
إِنَّ لِمَهْدِيّنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ تَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِى النِّصْفِ مِنْهُ وَلَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلَقَ اللّٰهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ
(سنن الدّار قطنی کتاب العیدین باب صفۃ صلوۃ الخسوف والکسوف وھیئتُہا)
کہ ہمارے مہدی کے لیے دو نشان مقرر ہیں اور جب سے زمین و آسمان پیداہوئے ہیں یہ نشان کسی اور مامور کے لیے ظاہر نہیں ہوئے۔ وہ یہ ہیں کہ رمضان کے مہینے میں چاند (اپنے گرہن کی مقررہ راتوں میں سے) پہلی رات کو گہنایا جائے گا اور سورج کو (اس کے گرہن کے مقررہ دنوں میں سے) درمیانے دن کو گرہن ہوگا اور یہ ایسے نشان ہیں کہ جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا یہ نشان کبھی کسی مامور کےلیے ظاہر نہیں ہوئے۔

مزید پڑھیں

تقریر بابت  رمضان المبارک 2025ء رمضان میں ہونے والی  دو بابرکت شادیاں

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے کامل ترین انسان، اعلیٰ حکمران، بہترین سپہ سالار، قاضی، تاجر اور ساتھ ہی ساتھ کامل شوہر بھی تھے، بحیثیت شوہر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پہ نظر دوڑائیں تو عمدہ آبگینوں سے مزیّن ہے جو کہ موجودہ زمانے میں تمام خاوندوں کے لئے قابل نمونہ اور لاثانی طرزِ عمل ہے۔ آپؐ کی جن دو ازواجِ.مطہرات کا ذکر کرنا آج مجھے مقصود ہے جن کی شادیاں رمضانُ المبارک میں ہوئیں۔ وہ دونوں ازواج یعنی حضرت سودہ بنتِ زمعہؓ اور حضرت زینب بنتِ خزیمہؓ اُن خصوصیات کی حامل تھیں جن کا تعلق بالخصوص رمضان کی برکات اور فضائل سےہے ۔

مزید پڑھیں

مدینہ منورہ کی پہلی دو مساجد (مسجدِ قبا اور مسجدِ نبویؐ)

مسجد قباء میں نماز پڑھنے کے ثواب کے حوالے سے سنن ترمذی میں لکھا ہے ۔
اَلصَّلاَة فِي مَسْجِدِ قُبَاءٍکَعُمْرَۃٍ
کہ مسجد قباء میں نماز پڑھنا عُمرہ کرنے کے ثواب کے برابرہے۔
( ترمذی کتاب الصلوٰۃ باب ماجاء فی الصلوٰۃ فی مسجد قباء)
آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی کے متعلق فرمایا ۔
مسجد حرام کے علاوہ باقی ہر مسجد میں نماز پڑھنے کی نسبت میری مسجد میں نماز ادا کرنا ہزار نمازوں سے بہتر ہے۔
( بخاری کتاب افضل الصلوٰۃ باب فضل الصلوٰۃ مکۃ و المدینہ)

مزید پڑھیں

20تقاریر بابت محرم الحرام

بابُ الدُّخُول جامعہ احمدیہ کی تعلیم کے دوران شیعہ ازم وہ مضمون تھا جو مجھے مشکل لگا کرتا تھا شاید اس کی ایک وجہ کم سِنی میں محرم کے دردناک واقعات  کو پڑھنے یا سننے کی سکت نہ ہوتی تھی۔ دل اُس محبت اور عقیدت کی وجہ سے جو بالطبع ایک احمدی کو حضرت مسیح […]

مزید پڑھیں