”اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”نماز ایسی شئ ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جُھک پڑتا ہے۔ نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ مَیں مرگیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گِر پڑی ہے ۔ اگر طبعیت میں قبض اور بدمزگی ہو تو اس کے لئے بھی دعا ہی کرنی چاہئے کہ الٰہی! تُو ہی اُسے دُور کر اور لذّت اور نور نازل فرما۔ جس گھر میں اِس قسم کی نماز ہوگی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہوگا ۔ حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوحؑ کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔“
(ملفوظات جلد 6 صفحہ 421-422)

مزید پڑھیں

آنحضورؐکے دور کے مسلمان بچوں کے سنہری کارنامے

سات یتیم بہنوں کے بھائی جابرؓ نے بھی حضورؐ کے سامنے گٹنے ٹیک کر جھک کر اس قدر عاجزی کے ساتھ جنگ میں شمولیت کے لئے درخواست کی کہ حضورؐ نے ان کو جنگ میں شمولیت کی اجازت دےدی۔

مزید پڑھیں

”اے جُنوں ! کچھ کام کر بے کار ہیں عقلوں کے وار “

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اطاعت بھی ایک موت ہوتی ہے جیسے ایک زندہ آدمی کی کھال اتاری جائے ویسی ہی اطاعت ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 74)

مزید پڑھیں

ایک خوبصورت، انوکھا اخلاص اور قربانی کا جذبہ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کا یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور بار برداری اور سچّی غم خواری میں اپنی زندگی وقف کردی جائے دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دُکھ اُٹھا ویں اور دوسروں کی راحت کے لئے اپنے پر رنج گوارا کرلیں۔“
( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5صفحہ 60)

مزید پڑھیں

مذہب میں ۔ آزادی ،بااختیاری اور خودمختاری کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر 3)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
”وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اوّل خود اپنی اصلاح کرو۔ اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔ قرآن شریف میں خضر اور موسیٰ علیہما السلام کا قصہ درج ہے کہ ان دونوں نے مل کر ایک دیوار کو بنا دیا جو یتیم بچوں کی تھی۔ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَکَانَ اَبُوْھُمَا صَالِحًا (الکہف :83 ) اِن کا والد صالح تھا۔ یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ آپ کیسے تھے۔ پس اس مقصد کو حاصل کرو۔ اولاد کے لئے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو۔“
(ملفوظات جلد8 صفحہ110 ایڈیشن 1984ء)

مزید پڑھیں

مذہب میں ۔ بااختیاری اور خودمختاری کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃُ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
’’پس احمدی خوش قسمت ہیں ۔ ان کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ ان کو احمدی گھروں میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور کچھ کو احمدی ہونے کی توفیق عطا فرمائی اور ان باتوں سے بچا کے رکھا جو باغیانہ روش پیدا کرتی ہیں ۔ بعض احمدی بچیوں میں بھی ردّعمل ہوتا ہے، ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے کہ غیر آکر ہمارے سے متأثر ہوتے ہیں اس لئے کسی بھی قسم کے کمپلیکس میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اسلام کی جو خوبصورت تعلیم ہے یہ ہر ایک کے لئے ایسی تعلیم ہے جس کا فطرت تقاضا کرتی ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘
(خطبہ جمعہ 5؍ستمبر 2014ء)

مزید پڑھیں

مذہب میں ۔ آزادی اور روشن خیالی کہاں تک جائز ہے؟ (تقریر نمبر1)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورؐ نے میرے کندھے کو پکڑ کر فرمایا:
کُنۡ فِیۡ الدُّنۡیَا کَأنَّکَ غَرِیۡبٌ اَوۡ عَابِرُ سَبِیۡلٍ
(بخاری کتاب الرقاق)
کہ اے عبداللہ ! دنیا میں ایسے زندگی بسر کر کہ گویا تو مسافر ہے یا راہ چلتا مسافر۔

مزید پڑھیں

وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ

حضرت خلیفۃُ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”وَابْتَغُوا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ قرب اور وسیلہ کے حصول کے لیے جو راستہ اور سبیل ہے وہ تین قسم کی ہے۔ ایک تو صحیح روحانی علم کا حاصل ہونا ،معرفت کا حاصل ہونا دوسرے خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر اس کی عبادت کرنا اور تیسرے شریعتِ حقّہ اسلامیہ کے مکارم کو اختیار کرتے ہوئے اپنی روح اور اپنے ذہن اور اپنے عمل اور اپنے عقیدہ میں حسن پیدا کرنے کی کوشش کرنا ۔ ان تینوں چیزوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انسان کی ڈھال بن جاتا ہے اور اُسے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے ۔“
( خطبات ناصر جلد ششم صفحہ 445)

مزید پڑھیں

وسیلہ یا واسطہ کا اسلامی فلسفہ (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” وَابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ۔وسیلہ کے دو معنی ہیں۔ ایک تو حاجت۔ پس مطلب ہوا کہ اپنی حاجتیں جناب الہٰی میں لے جاؤ… (اور) دوسرے معنی ہیں ذریعہ کے … پس الۡوَسِیۡلَۃَ فرمایا یعنی ذریعہ ہو۔ مگر اس ذریعہ کو دیکھ لو وہ بے ایمان کا تو نہیں ۔ عقل و تجربہ و ایمان کے موافق ہے یا نہیں۔مکلّف انسان عقل و تجربہ و ایمان سے تقویٰ کے سامان کرے مگر وہ عقل و تجربہ شریعت کے خلاف نہ ہو۔ پھر یہ مجاہدہ فی سبیل اللہ کرے۔ جب اِن تین قاعدہ پر چلے گا تو مظفرومنصورہوگا۔ “
(حقائق الفرقان جلد2صفحہ 100-101)

مزید پڑھیں

وسیلہ یا واسطہ کا اسلامی فلسفہ (تقریر نمبر 1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہر ایک شخص کو خودبخو د خدا تعا لیٰ سے ملاقات کرنے کی طاقت نہیں ہے اس کے واسطے، واسطہ ضرور ہے اور وہ واسطہ قرآن شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اس واسطے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑتا ہے وہ کبھی با مراد نہ ہوگا۔انسان تو دراصل بندہ یعنی غلام ہے۔ غلام کا کام یہ ہوتا ہے کہ مالک جو حکم کرے اُسے قبول کرے اسی طرح اگر تم چاہتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیض حاصل کرو تو ضرور ہے کہ اس کے غلام ہوجاؤ ۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ قُلْ يَاعِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِم(الزمر:54)
اس جگہ بندوں سے مراد غلام ہی ہیں نہ کہ مخلوق۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بندہ ہونے کے واسطے ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھو اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہ کرو ۔سب حکموں پر کار بند رہو جیسے کہ حکم ہے ۔ قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (آل عمران:32)یعنی اگر تم خدا تعالیٰ سے پیار کرنا چاہتے ہو تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے فرماں بردار بن جاؤ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں فنا ہوجاؤ تب خدا تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔
جب لوگ بدعتوں پر عمل کرتے ہیں تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ کیا کریں دُنیا سے چھٹکارا نہیں ملتا یا کہتے ہیں کہ ناک کٹ جاتی ہے ۔ایسے وقت میں گویا انسان خداتعالیٰ کے اس فرمان کو چھوڑتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ہے اور خیال کرتا ہے کہ خداتعالیٰ سے محبت کرنا بےفائدہ ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 5صفحہ 321-322 )

مزید پڑھیں