تقریر بابت اخلاقیات اعتدال پسندی
اللہ تعالیٰ ابنائے آدم کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے۔
وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ۔)اعراف(32:
کہ کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔
اللہ تعالیٰ ابنائے آدم کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے۔
وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ۔)اعراف(32:
کہ کھاؤ اور پیو لیکن حد سے تجاوز نہ کرو۔
آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اِنَّ ھٰذِہ المَسَاجِدَ لا تصلح لِشَئِی مِن ھَذَاالبَوْلِ وَلَاالقَذرِ اِنَّما ھِیَ لِذِکْرِا للّٰہِ تَعَالَی وَقِرائَۃِالقُرآن۔
(مسلم کتاب الطھارۃباب وجوب الغسل البول)
یعنی یقیناً مسجدیں اس لیے نہیں کہ اُن میں پیشاب کیا جائے، تھوکا جائے یا کوئی گندگی وغیرہ پھینکی جائے یعنی مسجدوں کو ہرقسم کی گندگی سے پاک و صاف رکھنا چاہئے۔
عَنۡ عَبۡدِ اللّٰہِ بۡنِ عَمۡرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ اِنَّمَا الدُّنۡیَا مَتَاعٌ، وَلَیۡسَ مِنۡ مَتَاعِ الدُّنۡیَا شَیٔ ءٌ أَفۡضَلَ مِنَ الۡمَرۡ أَۃِ الصَّالِحَۃِ
(ابن ماجہ کتاب النکاح باب افضل النساء1855)
حضرت عبداللہ بن عمروؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دنیا تو صرف ایک عارضی فائدہ کی چیز ہے اور اس دنیا کے عارضی فائدے میں صالحہ عورت سے بڑھ کر افضل کوئی چیز نہیں ۔
حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللّٰهِ وَخَيْرُ الْھَدْیِ ھَدْیُ مُحَمَّدٍ وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلَالۃ
(مسلم کتاب الجمع)
کہ بہترین بات اللہ کی کتاب ہے۔ بہترین طریق محمدؐ کا طریق ہے۔بدترین فعل دین میں نئی نئی بدعات کو پیدا کرنا ہے۔ہر بدعت گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”انسان کے نطفہ میں عادات، اخلاق،کمالات کا اثر ہوتا ہے۔ والدین کے ایک ایک برس کے خیالات کا اثر اُن کی اولاد پر ہوتا ہے۔ جتنی بداخلاقیاں بچوں میں ہوتی ہیں وہ والدین کے اخلاق کا عکس اور اثر ہوتا ہے۔ کبھی ہم نشینوں اور ملنے والوں کے خیالات کا اثر بھی والدین کے واسطے پڑتا ہے۔ پس خود نیک بنو، اخلاق فاضلہ حاصل کرو تا تمہاری اولاد نیک ہو۔ اَلْوَلَدُ سِرٌّ لِاَبِیْہِ میں یہی تمہید ہے۔ اولاد والدین کے اخلاق ، اعمال، عقائد کا آئینہ ہوتی ہے۔“
(الحکم 17 اکتوبر 1903ء صفحہ 3)
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔
یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ٝ وَلَا یَغُرَّنَّکُمۡ بِاللّٰہِ الۡغَرُوۡرُ (الفاطر:6)
اے لوگو ! اللہ کا وعدہ یقیناً سچا ہے۔ پس تمہیں دنیا کی زندگی ہرگز کسی دھوکہ میں نہ ڈالے اور اللہ کے بارہ میں تمہیں سخت فریبی (یعنی شیطان) ہرگز فریب نہ دےسکے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ
’’جیسے بیت اللہ میں حجرِ اسود پڑا ہوا ہے اسی طرح قلب، سینہ میں پڑا ہوا ہے… قلبِ انسانی بھی حجرِاسود کی طرح ہے اور اس کا سینہ، بیت اللہ سے مشابہت رکھتا ہے۔‘‘
)ملفوظات جلد اول صفحہ172۔173(
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو! قبریں آوازیں دے رہی ہیں اور موت ہر وقت قریب ہوتی جاتی ہے۔ ہر ایک سانس تمہیں موت کے قریب کرتا جاتا ہے اور تم اُسے فرصت کی گھڑیاں سمجھتے جاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ سے مکر کرنا مؤمن کا کام نہیں ہے۔ جب موت کا وقت آگیا پھر ساعت آگے پیچھے نہ ہوگی۔“
(ملفوظات جلد اول صفحہ124)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ کیا اللہ نے تمہارے لئے وہ چیز نہیں بنائی جو تم صدقہ کرو۔ یقینًا ہر تسبیح صدقہ ہے۔ ہر تکبیر صدقہ ہے۔ہر تحمید صدقہ ہے اورہر تہلیل( لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنا)صدقہ ہے اور نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور بدی سے روکنا صدقہ ہے اور تمہارا اپنی بیوی سے تعلق قائم کرنا بھی صدقہ ہے۔
(مسلم کتاب الزکوۃ)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
ہر صبح انسان کے تمام اعضاء اُس کی زبان کی گوشمالی کرتے ہیں کہ دیکھ! ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر۔ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں تو سیدھی رہی تو ہم بھی سیدھے ہیں اوراگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوں گے ۔
(ریاض الصالحین باب تحریم انعیبۃ والامر بحفظ اللسان)