تربیتِ اولاد

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
’’قرآن مجید نے جو لَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ،کے الفاظ فرمائے ہیں اِن میں بھی اِسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اگر تم اپنے بچوں کی عمدہ تربیت اور اچھی تعلیم کا خیال نہیں رکھو گے تو گویا اِنہیں قتل کرنے والے ٹھہرو گے۔‘‘
(چالیس جواہرپارے صفحہ نمبر 65)

مزید پڑھیں

اسلامی مطمح نظر

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”ہر شخص کی کوئی نہ کوئی جہت ہوتی ہے۔ یا ہر شخص کا کوئی نہ کوئی نصب العین ہوتا ہے جس پر وہ اپنی تمام توجہات کو مرکوز کردیتا ہے اور جسے زندگی بھر اپنے سامنے رکھتا ہے اور پورے انہماک اور توجہ سے اُسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر لوگ تو اپنے مقاصد اپنے لئے خود تجویز کرتے ہیں ۔ لیکن ہم اُمّت محمدیہ پر رحم کرتے ہوئے خود ہی ایک بلند ترین مطمح نظر اُس کے سامنے رکھتے ہیں اور ہدایت دیتے ہیں کہ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ۔ تمہارا مطمح نظر یہ ہونا چاہئے کہ تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اس جگہ نیکیوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کی تحریک فرما کر اللہ تعالیٰ نے قومی ترقی کاایک عجیب گُر بتایا ہے۔ “
(تفسیر کبیر جلد 2صفحہ 253)

مزید پڑھیں

”استغفار کلیدِ ترقیاتِ روحانی ہے“ ( مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔ یہ لفظ غَفْر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں سو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغْفِرکی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔ لیکن بعداس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد لیا گیا کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈھانک لے۔ لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے۔“
(عصمتِ انبیاء علیھم السلام، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 671)

مزید پڑھیں

بد تر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں (تقریر نمبر3)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ
( مشکوٰۃ کتاب الادب)
یعنی جس شخص کے دل میں ذرہ بھر تکبّر ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں

بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں (تقریر نمبر 2)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لوگوں کے لیے آسانی مہیا کرو- ان کے لیے مشکل پیدا نہ کرو اور اچھی خبر ہی دیا کرو اور لوگوں کومایوس نہ کرو‘‘
(مسلم کتاب الجھاد(

مزید پڑھیں

”انسان ہونا، ہمارا انتخاب نہیں، قدرت کی عطا ہے“

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”قرآن شریف کا یہ مقصد تھا کہ حیوانوں سے انسان بناوے اور انسان سے بااخلاق انسان بناوے اور با اخلاق انسان سے باخدا انسان بناوے “
(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 329 )

مزید پڑھیں

غصّہ پر قابو پانا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔جب جوش اور غصّہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔ غصّہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 180)

مزید پڑھیں

آؤ بچو! لغویات سے کیسے بچیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مومن صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں اور سوزوگداز ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر وہ مومن ہیں کہ جو باوجود خشوع اورسوزو گداز کے تمام لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو تعلقوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اپنی خشوع کی حالت کو بیہودہ کاموں اور لغو باتوں کے ساتھ ملا کر ضائع اور برباد ہونے نہیں دیتے اور طبعاً تمام لغویات سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ کاموں سے ایک کراہت اُن کے دلوں میں پیدا ہوجاتی ہے … پس دنیا کی لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو سیرو تماشا اور لغو صحبتوں سے واقعی طور پر اُسی وقت انسان کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے جب دل کا خدائے رحیم سے تعلق ہو جائے اور دل پر اس کی عظمت اور ہیبت غالب آجائے۔ خدا پرایمان لا کر ہر ایک لغو بات اور لغو کام اور لغو مجلس اور لغو حرکت اور لغو تعلق اور لغو جوش سے کنارہ کشی کی جائے۔“
( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21 صفحہ199۔200)

مزید پڑھیں

نازک ترین معاملہ زبان سے ہے (مسیح موعودؑ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” نرمی کی عادت ڈالنا تا کہ خدا تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔ ورنہ اگر تم خدا تعالیٰ کی مخلوق پر درشتی کرتے ہو تو تم بھی اپنے آپ کو اس بات کا حق دار بناتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم پر بھی درشتی کرے “
(انوار العلوم جلد 5 صفحہ 436 )

مزید پڑھیں