حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”ہماری جماعت کو یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ وہ اس امر کو مد نظر رکھیں جو مَیں بیان کرتا ہوں۔ مجھے ہمیشہ اگر کوئی خیال آتا ہے تو یہی آتا ہے کہ دنیا میں تو رشتےناطے ہوتے ہیں ۔ بعض ان میں سے خوبصورتی کے لحاظ سے ہوتے ہیں بعض خاندان یا دولت کے لحاظ سے اور بعض طاقت کے لحاظ سے لیکن جنابِ الٰہی کو اِن امور کی پرواہ نہیں۔ اُس نے تو صاف طور پر فرما دیا کہ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزّز و مکرّم ہے جو متقی ہے ۔اب جو جماعت اتقیاء ہے خدا اس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہوسکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور ناپاک بھی وہیں ۔ ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہواور خبیث ہلاک کیاجاوے اور چونکہ اس کا عِلم خدا کو ہے کہ کون اُس کے نزدیک متقی ہے ۔ پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے ۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے اور بدبخت ہے جو لعنت کے نیچے آیا ہے۔“
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 238)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’استغفار کرتے رہو اور موت کو یاد رکھو۔ موت سے بڑھ کر اور کوئی بیدار کرنے والی چیز نہیں ہے جب انسان سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرتا ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ247)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد3  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مذہب ایک ایسی چیز ہے کہ مختلف مذہب کے لوگ یک جا جمع نہیں ہو سکتے ۔ سُنّۃُ اللّٰہ کا نہ سمجھنا بھی ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔ قرآن شریف میں لکھا ہے کہ بعض وقت بَلا کو ہم ٹلا دیتے ہیں۔ تو انسان بے باک ہو کر کہتا ہے کہ بَلا ٹل گئی اور پھر شوخیاں کرنے لگتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ پکڑتا ہے اور ہلاک کر دیتا ہے۔ پس اگر طاعون کم ہو جاوے تو اس سے دلیر نہیں ہونا چاہیے۔ خدا تعالیٰ کی مہلت سے فائدہ اُٹھانا چاہئے۔“
(ملفوظات جلد 3 صفحہ 384-385)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”بَیعت کے معنے ہیں اپنے تئیں بیچ دینا اور یہ ایک کیفیت ہے جس کو قلب محسوس کرتا ہے جبکہ انسان اپنے صِدق اوراخلاص میں ترقی کرتا کرتا اس حد تک پہنچ جاتا ہے کہ اس میں یہ کیفیت پیدا ہوجائے تو وہ بَیعت کے لئے خود بخود مجبور ہوجاتا ہے اورجب تک یہ کیفیت پیدا نہ ہو جائے تو انسان سمجھ لے کہ ابھی اس کے صِدق اور اخلاص میں کمی ہے۔“
(ملفوظات جلد 2۔صفحہ 294)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”دُعا کے لئے رِقّت والے الفاظ تلاش کرنے چاہئیں۔ یہ مُناسب نہیں کہ انسان مسنُون دعاؤں کے ایسا پیچھے پڑے کہ اُن کو جنترمنتر کی طرح پڑھتا رہے اورحقیقت کو نہ پہچانے۔ اتّباع سنّت ضروری ہے۔ مگر تلاشِ رقّت بھی اتباع سنّت ہے۔ اپنی زبان میں جس کو تم خوب سمجھتے ہو۔ دُعا کرو۔ تاکہ دُعا میں جوش پیدا ہو۔ الفاظ پرست مخذُول.ہوتا ہے۔ حقیقت پرست بننا چاہئے ۔ مسنُون دعاؤں کو بھی برکت کے لئے پڑھنا چاہئے۔ مگر حقیقت کو پاؤ ۔ہاں جس کو عربی زبان سے موافقت اور فہم ہو وہ عربی میں پڑھے۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 338 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”انسان اصل میں اُنسان سے لیا گیا ہے یعنی جس میں دو حقیقی اُنس ہوں ایک اللہ تعالیٰ سے اور دوسرا بنی نوع کی ہمدردی سے ۔ جب یہ دونوں اُنس اس میں پیدا ہوجاویں ۔ اُس وقت انسان کہلاتا ہے اور یہی وہ بات ہے جو انسان کا مغز کہلاتی ہے اور اسی مقام پر انسان اُولُوا الۡاَلۡبَابِ کہلاتا ہے ۔ جب تک یہ نہیں کچھ بھی نہیں۔ ہزار دعویٰ کر دکھاؤ مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک، اس کے نبی اور اس کے فرشتوں کے نزدیک ہیچ ہے۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ تمام انسان نمونہ کے محتاج ہیں اور وہ نمونہ انبیاء علیہم السلام کا وجود ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر تھا کہ درختوں پر کلام الٰہی لکھاتا مگر اُس نے جو پیغمبروں کو بھیجا اور اُن کی معرفت کلام الٰہی نازل فرمایا۔ اس میں سرّ یہ تھا کہ تا انسان جلوۂ اُلوہیّت کو دیکھے جو پیغمبروں میں ہو کر ظاہر ہوتا ہے۔ “
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 168)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد  2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”اصل بات یہ ہے کہ بہشتی زندگی اِسی دُنیا سے شروع ہوجاتی ہے اور اسی طرح پر کورانہ زیست جو خداتعالیٰ اور اس کے رسول سے بالکل الگ ہو کر بسر کی جائے ۔ جہنّمی زندگی کا نمونہ ہے اور وہ بہشت جو مرنے کے بعد ملے گا۔ اسی بہشت کا اصل ہے اوراسی لئے تو بہشتی لوگ نعماء جنّت کے حظّ اُٹھاتے وقت کہیں گے۔ ہٰذَا الَّذِیۡ رُزِقۡنَا مِنۡ قَبۡلُ۔ دُنیا میں انسان کو جو بہشت حاصل ہوتا ہے۔ قَدۡ اَفۡلَحَ مَنۡ زَکّٰہَا پر عمل کرنے سےمِلتا ہے۔ جب انسان عبادت کا اصل مفہُوم اورمغز حاصل کرلیتا ہے تو خداتعالیٰ کے انعام و اکرام کا پاک سِلسلہ جاری ہوجاتا ہے اور جو نعمتیں آئندہ بعد مُردن ظاہری، مرئی اور محسوس طور پر ملیں گی وہ اب رُوحانی طور پر پاتا ہے ۔ پس یاد رکھو کہ جب تک بہشتی زندگی اسی جہاں سے شروع نہ ہو اور اس عالَم میں اُس کا حظّ نہ اُٹھاؤ ۔ اس وقت تک سیر نہ ہو اور تسلّی نہ پکڑو۔ کیونکہ وُہ جو اِس دُنیا میں کچھ نہیں پاتا اور آئندہ جنّت کی امید کرتا ہے وہ طمع خام کرتا ہے۔ اصل میں وُہ مَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعۡمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ کا مصداق ہے۔ اس لئے جب تک ماسِوی اللہ کے کنکر اور سنگریزے زمینِ دل سے دُور نہ کرلو اور اُسے آئینہ کی طرح مُصفّا اور سُرمہ کی طرح باریک نہ بنا لو۔ صبر نہ کرو۔ “
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 66)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد  2  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر1)

ایک دفعہ ایک دوست کی شکایت ہوئی کہ وہ اپنی بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے۔ تو آپؑ نے فرمایا :
”ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 1-2)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا سے صلح کرو ۔ سچی پرہیزگاری سے کام لو۔ آسمان اپنے غیر معمولی حوادث سے ڈرا رہا ہے۔ زمین بیماریوں سے انذار کر رہی ہے۔ مبارک وہ جو سمجھے۔“
( ملفوظات جلد اول صفحہ263)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (از ملفوظات جلد اوّل ایڈیشن 1984ء ) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”یاد رکھو! فضائِل بھی امراض متعدّیہ کی طرح متعدّی ہونے ضروری ہیں۔ مومن کے لئے حکم ہے وہ اپنے اخلاق کو اس درجہ پر پہنچائے کہ وہ متعدّی ہوجائیں۔ کیونکہ کوئی عُمدہ بات قابل پذیرائی اورواجب التعمیل نہیں ہوسکتی ۔جب تک اُس کے اندر ایک چمک اور جذبہ نہ ہو۔ اُس کی درخشانی دُوسروں کو اپنی طرف متوجّہ کرتی ہے اور جذب ان کو کھینچ لاتا ہے اور پھر اس فیض کی اعلیٰ درجہ کی خوبیاں خودبخود دوسرے کے عمل کی طرف توجہ دلاتی ہیں۔ دیکھو! حاتم کا نیک نام ہونا سخاوت کے باعث مشہور ہے ۔ گو مَیں نہیں کہہ سکتا کہ وہ خُلوص سے تھی۔ ایسا ہی رستم و اسفند یار کی بہادری کے فسانے عام زبان زد ہیں۔ اگرچہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ خُلوص سے تھے۔ میرا ایمان اورمذہب یہ ہے کہ جب تک انسان سچا مومن نہیں بنتا ۔ اُس کے نیکی کے کام خواہ کیسے ہی عظیم الشان ہوں لیکن وُہ ریاکاری کے ملمّع سے خالی نہیں ہوتے ۔ لیکن چونکہ اُن میں نیکی کی اصل موجود ہوتی ہے اور یہ وُہ قابل قدر جوہر ہے جو ہر جگہ عزّت کی نِگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس لئے بایں ہمہ ملمّع سازی و ریاکاری وہ عزّت سے دیکھے جاتےہیں۔“
(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 212-213)

مزید پڑھیں