حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”نئے سرے سے قرآن شریف کو پڑھو اور اس کے معانی پر خوب غور کرو۔ نماز کو دل لگا کر پڑھو اور احکامِ شریعت پر عمل کرو۔ انسان کا کام یہی ہے۔ آگے پھر خدا کے کام شروع ہو جاتے ہیں۔ جو شخص عاجزی سے خدا تعالیٰ کی رضا کو طلب کرتا ہے خدا تعالیٰ اس پر راضی ہوتا ہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 323)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ اصل رازق خدا تعالیٰ ہے۔ وہ شخص جو اُس پر بھروسہ کرتا ہے کبھی رزق سے محروم نہیں رہ سکتا۔ وہ ہر طرح سے اور ہر جگہ سے اپنے پر توکّل کرنے والے شخص کے لئے رزق پہنچاتا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو مجھ پر بھروسہ کرے اور توکّل کرے مَیں اُس کے لئے آسمان سے برساتا اور قدموں میں سے نکالتا ہوں ۔ پس چاہئے کہ ہر ایک شخص خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرے۔‘‘
( ملفوظات جلد9صفحہ360)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”یہ بھی یاد رکھو کہ معصیت اور فسق کو نہ واعظ دُور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی اَور حیلہ ۔اس کے لیے ایک ہی راہ ہے اور وہ دعا ہے۔ خدا تعالیٰ نے یہی ہمیں فرمایا ہے اس زمانہ میں نیکی کی طرف خیال آنا اور بدی کو چھوڑنا چھوٹی سی بات نہیں ہے یہ انقلاب چاہتی ہے اور یہ انقلاب خدا تعالی کے ہاتھ میں ہے اور یہ دعاؤں سے ہوگا۔ ہماری جماعت کو چاہیے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں اس کا وعدہ ہے۔ ادۡعُوۡنِیۡۤ اَسۡتَجِبۡ لَکُمۡ ( المومن: 61) ۔ عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دعا ہے وہ دنیا کے کیڑے ہیں اس لیے اس سے پَرے نہیں جا سکتے۔ اصل دعا دین ہی کی دعا ہے لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گنہگار ہیں یہ دعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی یہ غلطی ہے۔ بعض اوقات انسانی خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آ سکتا ہے اس لیے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے ۔ دیکھو! پانی کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہرحال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لیے کہ فطرتاً برودت اس میں ہے۔ ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔ وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی ۔ اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالی دُور کر دے گا ۔“
(ملفوظات جلد9 صفحہ 167۔168 )

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر4)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
”نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے مگر افسوس ہے کہ لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے ہیں نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلا خدا تعالی کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے۔ اس کی غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دعا اور تسبیح اور تہلیل میں مصروف ہو بلکہ اس میں انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق سے اپنے مطلب کو پہنچ جاتاہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 3)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ یاد رکھو! اللہ تعالیٰ رحیم کریم ہے۔ اُس پر بدظنی نہیں کرنی چاہیے۔ جو اُس کی سنت کو نگاہ میں رکھے گا اور اُس کے لئے دُکھ اور تکالیف کو برداشت کرنے کے لئے تیار ہوجاوے گا وہ ضرور کامیاب ہو گا۔ اگر اُس کے بتائے ہوئے راستہ پر نہیں چلے گا اور بخل سے کام لے گا تو رہ جاوے گا۔ دیکھو! فوجوں میں جو لوگ بھرتی ہوتے ہیں اور دنیا کی خاطر لڑنے مرنے اور جان دینے کے لئے نوکر ہوتے ہیں، وہ کوئی ہزاروں روپیہ تو تنخواہ نہیں پاتے۔ یہی دس بارہ روپیہ کی خاطر جان دینا قبول کر لیتے ہیں مگر کتنے افسوس کی بات ہےکہ خدا تعالے کی خاطر اور اُس دائمی بہشت اور دائمی خوشنودی کے لئے کوئی فکر نہیں کرتے ۔‘‘
( ملفوظات جلد 9صفحہ447)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد9  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
” ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ نرمی اور رفق سے معاملہ کرو۔ اپنی ساری مصیبتیں اور بلائیں خدا تعالیٰ پر چھوڑ دو۔ یقیناً سمجھو اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ ہر شخص کی شرارت پر صبر کرتا ہے اورخدا پر اُسے چھوڑتا ہے تو خدا اُسے ضائع نہیں کرے گا۔ اگرچہ دنیا میں ایسے آدمی موجود ہیں جو ہنسی کریں گے اور ان باتوں کو سن کر ٹھٹھا کریں گے مگر تم اس کی پروا نہ کرو۔ خدا تعالیٰ خود اس کے لیے موجود ہے۔ وہ خدا پُرانا نہیں ہو گیا جیسے انسان بُڈھا ہو کر پیرِ فرتوت ہو جاتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام اور عیسی علیہ السلام کے وقت تھا اور وہی خدا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا۔ اس کی وہی طاقتیں اب بھی ہیں جو پہلے تھیں ۔ لیکن جو کچھ مَیں کہتا ہوں تم اس پر عمل نہ کرو تو میری جماعت میں نہ رہے۔“
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 165۔166 )

مزید پڑھیں

خدمتِ دین، انسانی صحت کے لیے  انشورنس کا کام کرتی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
” دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کا یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور بار برداری اور سچی غم خواری میں اپنی زندگی وقف کر دی جائے۔ دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دُکھ اُٹھاویں اور دوسروں کو راحت کے لیے اپنے پر رنج گوارا کر لیں“
(آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 60)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر7)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’دہلی کی جامع مسجد کو دیکھ کر فرمایا کہ مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں بلکہ اُن نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا ۔ مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیاداروں نے ایک مسجد بنوائی تھی وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے گرادی گئی۔ اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا یعنی ضرر رساں۔ اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔ مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ170)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر6)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ہماری جماعت کو ایسا ہونا چاہیے کہ نِری لفاظی پر نہ رہے بلکہ بیعت کے سچے منشا کو پورا کرنے والی ہو۔ اندرونی تبدیلی کرنی چاہئے ۔ صرف مسائل سے تم خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے ۔ اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور تمہارے غیر میں کچھ فرق نہیں۔ اگر تم میں مکر، فریب ،کسل اور سستی پائی جائے تو تم دوسروں سے پہلے ہلاک کئے جاؤ گے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے بوجھ کو اُٹھائے اور اپنے وعدے کو پورا کرے۔ عمر کا اعتبار نہیں۔ دیکھو! مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہو گئے۔ ہر جمعہ میں ہم کوئی نہ کوئی جنازہ پڑھتے ہیں، جو کچھ کرنا ہے اب کر لو جب موت کا وقت آتا ہے تو پھر تاخیر نہیں ہوتی۔ جو شخص قبل از وقت نیکی کرتا ہے امید ہے کہ وہ پاک ہو جائے۔ اپنے نفس کی تبدیلی کے واسطے سعی کرو۔ نماز میں دعائیں مانگو۔ صدقات خیرات سے اور دوسرے ہر طرح کے حیلہ سے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا ( العنکبوت:70) میں شامل ہو جاؤ۔ جس طرح بیمار طبیب کے پاس جاتا ، دوائی کھاتا مسہل لیتا ، خون نکلواتا ، ٹکور کرواتا اور شفا حاصل کرنے کے واسطے ہر طرح کی تدبیر کرتا ہے۔ اِسی طرح اپنی روحانی بیماریوں کو دُور کرنے کے واسطے ہر طرح کی کوشش کرو۔ صرف زبان سے نہیں بلکہ مجاہدہ کے جس قدر طریق خدا تعالیٰ نے فرمائے ہیں وہ سب بجا لاؤ۔ صدقہ خیرات کرو جنگلوں میں جا کر دعائیں کرو۔ سفرکی ضرورت ہو تو وہ بھی کرو ۔ بعض آدمی پیسے لے کر بچوں کو دیتے پھرتے ہیں کہ شاید اِسی طرح کشوف باطن ہو جائے ۔ جب باطن پر قفل ہو جائے تو پھر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ حیلے کرنے والے کو پسند کرتا ہے ۔ جب انسان تمام حیلوں کو بجا لاتا ہے تو کوئی نہ کوئی نشانہ بھی ہو جاتا ہے ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ189-188)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو پندو نصائح (ملفوظات جلد8  ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر5)

حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’قرآن شریف میں آیا ہے وَالصُّلۡحُ خَیۡرٌ ( النساء: 129) اس لئے اگر آپس میں کوئی لڑائی جھگڑا ہو بھی جائے تو صلح کر لینی چاہیے کیونکہ اس میں خیر اور برکت ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ غیر مذاہب کے ساتھ بھی یہ بات رکھی جائے بلکہ اُن کے ساتھ سخت مذہبی عداوت رکھنا چا ہئے ۔ جب تک مذہب کی غیرت نہ ہو انسان کا مذہب ٹھیک نہیں ہوتا۔ اب یہ جو ہندو عیسائی ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالتے ہیں تو کیا ہم اُن کے ساتھ صلح رکھ سکتے ہیں بلکہ ان کی محفلوں میں بیٹھنا اور ان کے ساتھ دوستی کرنا اور ان کے گھروں میں جانا تو معصیت میں داخل ہے۔ ہاں! آپس میں جو ایک فرقہ میں ہوں تو لڑائی جھگڑا کی زیادہ تر بنیاد بدظنی ہوتی ہے۔
حدیث میں ہے کہ دوزخ میں دو تہائی آدمی بدظنّی کی وجہ سے داخل ہوں گے۔ خدا تعالٰی قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ قیامت کے دن میں لوگوں سے پوچھوں گا کہ اگر تم مجھ پر بد ظنّی نہ کرتے تو یہ کیوں ہوتا ۔ حقیقت میں اگر لوگ خدا تعالیٰ پر بدظنّی نہ کرتے۔ تو اس کے احکام پر کیوں نہ چلتے۔ انہوں نے خدا تعالیٰ پر بدظنّی کی اور کفر اختیار کیا اور بعض تو خدا تعالیٰ کے وجود تک کے منکر ہو گئے۔ تمام فسادوں اور لڑائیوں کی وجہ یہی بدظنّی ہے۔‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ446)

مزید پڑھیں