حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام فرماتے ہیں :
’’ہماری جماعت کو ایسا ہونا چاہیے کہ نِری لفاظی پر نہ رہے بلکہ بیعت کے سچے منشا کو پورا کرنے والی ہو۔ اندرونی تبدیلی کرنی چاہئے ۔ صرف مسائل سے تم خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے ۔ اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور تمہارے غیر میں کچھ فرق نہیں۔ اگر تم میں مکر، فریب ،کسل اور سستی پائی جائے تو تم دوسروں سے پہلے ہلاک کئے جاؤ گے۔ ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے بوجھ کو اُٹھائے اور اپنے وعدے کو پورا کرے۔ عمر کا اعتبار نہیں۔ دیکھو! مولوی عبد الکریم صاحب فوت ہو گئے۔ ہر جمعہ میں ہم کوئی نہ کوئی جنازہ پڑھتے ہیں، جو کچھ کرنا ہے اب کر لو جب موت کا وقت آتا ہے تو پھر تاخیر نہیں ہوتی۔ جو شخص قبل از وقت نیکی کرتا ہے امید ہے کہ وہ پاک ہو جائے۔ اپنے نفس کی تبدیلی کے واسطے سعی کرو۔ نماز میں دعائیں مانگو۔ صدقات خیرات سے اور دوسرے ہر طرح کے حیلہ سے وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا ( العنکبوت:70) میں شامل ہو جاؤ۔ جس طرح بیمار طبیب کے پاس جاتا ، دوائی کھاتا مسہل لیتا ، خون نکلواتا ، ٹکور کرواتا اور شفا حاصل کرنے کے واسطے ہر طرح کی تدبیر کرتا ہے۔ اِسی طرح اپنی روحانی بیماریوں کو دُور کرنے کے واسطے ہر طرح کی کوشش کرو۔ صرف زبان سے نہیں بلکہ مجاہدہ کے جس قدر طریق خدا تعالیٰ نے فرمائے ہیں وہ سب بجا لاؤ۔ صدقہ خیرات کرو جنگلوں میں جا کر دعائیں کرو۔ سفرکی ضرورت ہو تو وہ بھی کرو ۔ بعض آدمی پیسے لے کر بچوں کو دیتے پھرتے ہیں کہ شاید اِسی طرح کشوف باطن ہو جائے ۔ جب باطن پر قفل ہو جائے تو پھر کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا ۔ اللہ تعالیٰ حیلے کرنے والے کو پسند کرتا ہے ۔ جب انسان تمام حیلوں کو بجا لاتا ہے تو کوئی نہ کوئی نشانہ بھی ہو جاتا ہے ۔ ‘‘
( ملفوظات جلد 8صفحہ189-188)
مزید پڑھیں