امثالُ القرآن
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ قرآن شریف پر تدبر کرو اس میں سب کچھ ہے ۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہےاور آئندہ زمانہ کی خبریں ہیں ۔‘‘
( ملفوظات جلد 5صفحہ102)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’ قرآن شریف پر تدبر کرو اس میں سب کچھ ہے ۔ نیکیوں اور بدیوں کی تفصیل ہےاور آئندہ زمانہ کی خبریں ہیں ۔‘‘
( ملفوظات جلد 5صفحہ102)
ہمارے آقاحضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
”انسان کے لیے ہر ایک جوڑ پر صدقہ دینا لازم ہے۔ اسی طرح ہر روز جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان صلح کرانا بھی صدقہ ہے۔ کسی کو سواری پر سوارکرانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھنے میں مدد دینا بھی صدقہ ہے۔ طیب بات( پاک صاف کلمہ) کہنا بھی صدقہ ہے ۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے ۔ اسی طرح تکلیف دہ چیز کو راستہ سے ہٹا دینابھی صدقہ ہے ۔“
(صحیح البخاری کِتابُ الۡجَہاد وَالسّیۡر بَابُ مَنۡ اَخَذَ بِالرِّکَابِ وَنَحۡوِ)
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں انفاق فی سبیل اللہ کے متعلق فرماتا ہے :
قُلۡ لِّعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا یُقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّعَلَانِیَۃً مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَلَا خِلٰلٌ
( ابراہیم:32)
ترجمہ: تو میرے اُن بندوں سے کہہ دے جو ایمان لائے ہیں کہ وہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے مخفی طور پر بھی اور علانیہ طور پر بھی خرچ کریں پیشتر اس کے کہ وہ دن آجائے جس میں کوئی خریدوفروخت نہیں ہوگی اور نہ کوئی دوستی (کام آئے گی)۔
حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ جب تم سبزہ والی زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حصہ دو۔‘‘
(مسلم: باب مراعاۃ مصلحۃ الدروس)
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’ایک مومن کے لئے روحانیت اور تقویٰ انتہائی اہم چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مکڑی کے گھر کی مثال دے کر یہ بھی واضح فرما دیا کہ منہ سے مذہب کا اقرار کر لینا کافی نہیں ہے۔ مذہب کا لیبل لگا لینا اور اس کا لبادہ اوڑھ لینا کافی نہیں ہے۔ اس سے انسان اپنی نجات کے سامان نہیں کر لیتا۔ بلکہ نجات اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی تعلیم پر عمل کرنے سے ہے۔ ‘‘
( خطبہ جمعہ 20نومبر2009ء )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’آسمانی تہذیب تو اور ہے جس میں ایمان، تقویٰ، دیانت، صلاحیت اور نیک کرداری شامل ہے۔ مگر اُن کے نزدیک دنیا کے جوڑ توڑ، ہر قسم کے مکروفریب کا نام تہذیب ہے۔ یہ تہذیب اُن کے ہی نصیب رہے ہم اس کو لینا نہیں چاہتے چند بے ہودہ رسوم و عادات کا نام جو اخلاق سے گری ہوئی ہیں تہذیب نام رکھتے ہیں اور خدائی رسُوم و آداب کی توہین اور استخفاف کرتے ہیں حالانکہ ان رسوم و عادات کے نتائج اعلیٰ درجہ کے ہوتے ہیں جن سے سوسائٹی میں امن، اخلاق اور نیک اعمالی پیدا ہوتی ہے۔ اپنی رسُوم و عادات کو جن کے نتائج بد ہیں، پسندیدہ سمجھتے ہیں۔‘‘
(الحکم جلد9 نمبر 29 صفحہ 3 مؤرخہ 17 اگست 1905ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ فرماتے ہیں۔
’’قرآن کریم میں یہ تاثیر ہے کہ اس کی کوئی سورة بھی آدمی پڑھے۔ اس کے دل میں اعلیٰ سے اعلیٰ روحانی تاثیرات پیدا ہونے لگیں گی‘‘
(تفسیر کبیر جلد3 صفحہ 161)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’ کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو قرآن کریم کے ماتحت چلتے ہیں۔ قرآن کو چھوڑ کر کامیابی ایک ناممکن اور محال امر ہے‘‘
(الحکم 31؍ اکتوبر 1901ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
’’یہ کتاب شِفَآءٌ لِّمَا فِي الصُّدُوْرِ ہے جو بیماریاں سینہ و دل سے تعلق رکھتی ہیں اس کتاب میں ان تمام بیماریوں کا علاج پایا جاتا ہے اور جو نسخے یہ کتاب تجویز کرتی ہے ان کے استعمال سے دل اور سینہ کی ہر روحانی بیماری دُور ہوجاتی ہے۔‘‘
۔۔(انوارالقرآن جلد2 صفحہ272)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
’’ یہ فخر قرآن مجید ہی کو ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں ہر مرض کا علاج بتا یا ہے۔ اور تمام قویٰ کی تربیت فرمائی ہے۔ اور جو بدی ظاہر کی ہے اس کے دور کرنے کا طریق بھی بتایا ہے۔ اس لئے قرآن مجید کی تلاوت کرتے رہو اور دعا کرتے رہو اور اپنے چال چلن کو اس کی تعلیم کے ماتحت رکھنے کی کوشش کرو‘‘
(ملفوطات جلد5صفحہ102)