حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔
”نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمدِ الٰہی ہے ،استغفار ہے اور درود شریف۔ تمام وظائف … کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اِس سے ہر ایک قسم کے غم وہم دور ہوتے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپؐ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے اور اسی لئے فرمایا ہے اَ لَا بِذِکرِ اللّٰہِ تَطمَئِنُّ القُلُوبُ (الرعد:29)۔ اطمینان، سکینتِ قلب کے لئے نماز سے بڑھ کر اَور کوئی ذریعہ نہیں…میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہئے اور سمجھ سمجھ کر پڑھو اور مسنون دعاؤں کے بعد اپنے لئے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو ۔ اس سے تمہیں اطمینانِ قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا تعالیٰ چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یادِ الٰہی کا ذریعہ ہے اسی لئے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکرِی۔“
(الحکم 31 مئی 1903ء صفحہ9)
مزید پڑھیں