ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں:
’’روزہ بمقابل نماز نہیں ہے بلکہ روزہ کا مقصد نماز ہے اور نمازوں کی حالت کو درست کرنا ہے۔ پس اگر روزہ میں نمازیں نہ سنوریں تو روزہ بے کار ہے۔ اگر روزہ میں نمازیں سنور جائیں تو روزہ نماز کا معراج اور نماز میں روزے کا معراج بن جاتی ہیں۔ پس اس میں تفریق نہ کریں ورنہ مضمون بالکل بگڑ جائے گا۔ حقیقت میں روزہ کے دوران جتنی نمازیں سنوریں گی اتنا ہی روزہ کا آپ پھل پائیں گے اور اس حد تک سنور جانی چاہئیں کہ گویا آپ کو خدا نظر آ گیا اور گویا اللہ آپ کو دیکھنے لگا ۔‘‘
(خطبہ جمعہ 16؍ جنوری 1998ء )

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الرابع  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتےہیں:
’’ کبھی کسی اور مہینے میں اس کثرت کے ساتھ خدا کی رحمت کے ایسے چھینٹے نہیں پھینکے جاتے جو دنیا کے ہر کونے میں ہر ملک میں برس رہے ہوں اور جس کسی پر بھی پڑیں اُسے خوش نصیب بنا دیں ۔ اس لیے رمضان کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ ‘‘
( خطبات طاہر جلد 7صفحہ258)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل  (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ  کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو وہ کسی اور وقت رمضان کے روزوں کی گنتی کو پورا کرے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرا ارادہ ہے کہ اس طرح مَیں اپنے بندوں کے لئے سہولت کے سامان پیدا کروں۔ مومن وہی ہوتا ہے جو اپنے ارادہ اور خواہش کو چھوڑ دیتا ہے اور خدا کے ارادہ کو قبول کرتا ہے۔ پس مومن کی علامت ہے کہ وہ سفر میں اور بیماری میں اپنی شدید خواہش کے باوجود اپنی اس تڑپ کے باوجود کہ کاش میں بیمار نہ ہوتا یا سفر میں نہ ہوتا روزہ نہیں رکھتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نیکی اس بات میں نہیں کہ میں بھوکا رہوں بلکہ نیکی یہ ہے کہ میں اپنے ارادہ کو خداتعالیٰ کے ارادہ کے لئے چھوڑ دوں ۔‘‘
( خطبہ جمعہ 24؍نومبر1967ء)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 4)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’آخری دنوں کے متعلق بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ اس عشرہ میں مسلمان کو اس رات کی تلاش کرنی چاہیےتقدیر کی جس رات میں دعائیں قبول ہوں اور اسلام کے حق میں دنیا کی تقدیریں بدل دی جائے۔“
(خطبات ناصر جلد اول صفحہ 1006)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں نے تمہارے لئے ہدایت کے سامان بھی مہیا فرمائے ہیں اور پھر تم ماہ رمضان میں قبولیت دعا کے نمونے بھی دیکھتے ہو لیکن اگر تم مستقل طور پر میری اطاعت کو اختیار نہیں کرو گے تو میرے فضل بھی تم پر مستقل طور پر نازل نہیں ہوں گے اور نہ ہی تمہارا انجام بخیر ہو گا۔ انجام بخیر اسی کا ہوتا ہے جو اپنی زندگی کے آخری سانس تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا جؤا اپنی گردن پررکھے۔‘‘
(خطبات ناصر جلد اول صفحہ61)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 2)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’ ماہ رمضان کا دوہرا تعلق قرآن کریم سے ہے۔ اِس لئے کہ قرآن کریم میں اس کے احکام ہیں ۔ ماہِ رمضان کی عبادات صَوم کی جو عبادات ہیں اس کے احکام جو ہیں وہ قرآن کریم میں نازل ہوئے اور دوسرے یہ کہ قرآن کریم ماہ رمضان میں نازل ہوا۔حدیث میں آتا ہے کہ ہر رمضان میں حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سےجتنا قرآن نازل ہوتا تھا اس کا دور کیا کرتے تھے۔ تو ماہِ رمضان کا ایک گہرا تعلق اور دوہرا تعلق قرآن عظیم سے ہے۔‘‘
( خطبات ناصر جلد 8صفحہ 300)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث  رحمہ اللہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 1)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتےہیں :
’’ وَلِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ ۔اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ ہم نے تم پر روزے فرض کئے تو یہ حکم بھی دیا کہ سارے رمضان کے روزے رکھو تا کہ تم اس کی گنتی کو پورا کرو۔ اگر صرف یہ حکم ہوتا کہ روزے رکھو تو کوئی بیس دن کے روزے رکھتا۔ کوئی دس دن کے، کوئی رمضان کے مہینے میں رکھتا کوئی دوسرے مہینوں میں۔ پس ہم نے رمضان میں روزے رکھنے کا اس لئے حکم دیا تاکہ اُمّتِ مسلمہ ساری کی ساری اس سارے مہینے میں روزے رکھے اور ان اجتماعی برکات سے فائدہ اٹھائے جو اجتماعی عبادات سے تعلق رکھتی ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ24دسمبر1965ء)

مزید پڑھیں

ماہ ِ رمضان اور سورج و چاند گرہن (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’سورج گرہن کو دیکھ کر یہ فائدہ اٹھانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو سورج بھی کہا ہے اور قمر بھی کہا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہر سے باطن کی طرف جائے۔ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دیکھا کہ سورج کی روشنی جو دنیا کو پہنچتی ہے وہ رک گئی تو آپ گھبرا اٹھے کہ کہیں ہماری روشنی اور ہمارا فیضان اِس طرح کم نہ ہوجائے اور رک نہ جائے۔ گھبراہٹ کے وقت دعا اور تضرّع اور خیرات و صدقہ سے کام لینا چاہیے۔ لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا، تضرّع، خیرات اور صدقہ سب سے کام لیا اور دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو قبول فرمایا اور آپ کی روشنی بلا انقطاع قیامت تک دنیا میں رہنے والی ہے۔ اور آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے اس کی تجدید ہمیشہ ہوتی رہتی ہے۔
فرمایا۔ کسوف خسوف خدا تعالیٰ کے نشانات میں سے ہے جو بندوں کو دکھایا جاتا ہے اور سمجھایا جاتا ہے کہ بڑی بڑی روشن چیزیں جو ہیں ان کو بھی خدا تعالیٰ تاریک کرسکتاہے۔‘‘
( ارشاداتِ نور جلد دوم صفحہ 499)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کے متعلق فتاویٰ اور مسائل (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’مریض اور مسافر کے لئے قضاء رمضان علٰی الاتصال ضروری نہیں جب چاہے بتدریج عدّت کو پوری کرے۔ جولائی کے روزے دسمبر میں رکھ سکتا ہے یہی شرع اسلام کا حکم ہے۔ یہی معمول امام کا تھا۔‘‘
(ارشاداتِ نور جلد دوم صفحہ47)

مزید پڑھیں

ماہِ رمضان اور روزہ کی اہمیت، فرضیت، فضیلت  اوربرکات (حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کے فرمودات و إرشادات  کی روشنی میں) (تقریر نمبر 3)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”غرض روزہ جو رکھا جاتا ہے تو اس لئے کہ انسان متقی بننا سیکھے۔ ہمارے امام فرمایا کرتے ہیں کہ بڑا ہی بد قسمت ہے وہ انسان جس نے رمضان تو پایا مگر اپنے اندر کوئی تغیر نہ پایا۔ پانچ سات روزے باقی رہ گئے ہیں۔ ان میں بہت کوشش کرو اور بڑی دعائیں مانگو۔ بہت توجہ الی اللہ کرو اور استغفار اور لاحول کثرت سے پڑھو۔ قرآن مجید سن لو، سمجھ لو، سمجھا لو۔ جتنا ہو سکے صدقہ اور خیرات دے لو اور اپنے بچوں کو بھی تحریک کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ مجھے اور تمہیں توفیق دے۔ آمین“
(خطبات نور صفحہ265)

مزید پڑھیں