حضرت مسیح موعودؑ کا بچوں سے پیار و شفقت اور اُن کی تعلیم و تربیت

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” میرے نزدیک بچوں کو یوں مارنا شرک میں داخل ہے۔ گویا بدمزاج مارنے والا ہدایت اور ربوبیت میں اپنے تئیں حصہ دار بنانا چاہتا ہے۔ایک جوش والاآدمی جب کسی بات پر سزا دیتا ہے تو اشتعال میں بڑھتے بڑھتے دشمن کا رنگ اختیار کرلیتا ہے اور جرم کی حد سے سزا میں سے کوسوں تجاوز کرجاتا ہے۔ اگر کوئی شخص خوددار اور اپنے نفس کی باگ کو قابو سے نہ دینے والا اور پورا متحمل اور بردبار اورباسکون اورباوقار ہو تو اُسے البتہ حق پہنچتا ہے کہ کسی وقت مناسب پر کسی حد تک بچہ کوسزا دے یا چشم نمائی کرے۔ مگر مغلوب الغضب اور سبک سر اورطائش العقل ہرگز سزا وار نہیں کہ بچوں کی تربیت کا متکفل ہو۔“

مزید پڑھیں

9مارچ۔اسلام کی فتح عظیم کا دن-حضرت مسیح موعودؑ کی دعوت مباہلہ اور ڈوئی کی ہلاکت

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا:
”پس میں قسم کھا سکتا ہوں کہ یہ وہی خنزیر تھا جس کے قتل کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ مسیح موعود کے ہاتھ پر مارا جائے گا۔ اگر میں اُس کو مباہلہ کے لئے نہ بُلاتا اور اگر میں اُس پر بد دعا نہ کرتا اور اس کی ہلاکت کی پیشگوئی شائع نہ کرتا تو اس کا مرنا اسلام کی حقیّت کے لئے کوئی دلیل نہ ٹھہرتا لیکن چونکہ میں نے صدہا اخباروں میں پہلے سے شائع کرا دیا تھا کہ وہ میری زندگی میں ہی ہلاک ہوگا ۔ میں مسیح موعود ہوں اور ڈوئی کذّاب ہے اور بار بار لکھا کہ اس پر یہ دلیل ہے کہ وہ میری زندگی میں ذلت اور حسرت کے ساتھ ہلاک ہو جائے گا۔ چنانچہ وہ میری زندگی میں ہی ہلاک ہو گیا۔ ا س سے زیادہ کھلا کھلا معجزہ جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کو سچا کرتا ہے اور کیا ہوگا؟ اب وہی اس سے انکار کرے گا جو سچائی کا دشمن ہوگا۔ “
(حقیقۃ الوحی صفحہ نمبر515، 516 روحانی خزائن جلد22 ایڈیشن 2009ء)

مزید پڑھیں

ایک احمدی مسلم بچے کی ذمہ داریاں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
”لوگ منہ سے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم اطاعت گزار ہیں سلسلے کا ہر حکم سر آنکھوں پر لیکن جب موقع آئے ، جب اپنی ذات کے حقوق چھوڑنے پڑیں تب پتہ لگتا ہے کہ اطاعت ہے یا نہیں ہے۔ “
(خطبہ جمعہ 27 اگست 2004ء )

مزید پڑھیں

6مارچ ۔حق و باطل میں آسمانی فیصلہ کا تاریخی دن-پیشگوئی بابت پنڈت لیکھرام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
”یہ پیشگوئی ایک بڑے مقصد کے ظاہر کرنے کے لئے کی گئی تھی ۔ یعنی اس بات کا ثبوت دینے کے لئے کہ آریہ مذہب بالکل باطل اور وید خداتعالیٰ کی طرف سے نہیں اور ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفیٰ صلی۔اللہ علیہ وسلم خداتعالیٰ کے پاک رسول اور برگزیدہ نبی اور اسلام خداتعالیٰ کی طرف سے سچامذہب ہے ۔ سو اس پیشگوئی کو نری ایک پیشگوئی خیال نہیں کرنا چاہئے ۔ بلکہ یہ خداتعالیٰ کی طرف سے ہندوؤں اور مسلمانوں میں ایک آسمانی فیصلہ ہے۔“
( سراج منیر صفحہ 9-10)

مزید پڑھیں

جماعتی پروگرامز،میٹنگز اور اجلاسات میں شمولیت کی اہمیت و برکات

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
’’جو حالت میری توجہ کوجذب کرتی ہے۔اورجسے دیکھ کرمیں دعاکےلئے اپنے اندر تحریک پاتاہوں وہ ایک ہی بات ہے کہ میں کسی شخص کومعلوم کرلوں کہ یہ خدمت دین کے سزاوار ہے ۔اور اس کاوجود خداکے لئے،خدا کے رسول ؐکے لئے ،خداکی کتاب کے لئے اورخداکے بندوں کے لئے نافع ہے۔ایسے شخص کوجودردوالم پہنچے وہ درحقیقت مجھے پہنچتاہے۔‘‘

مزید پڑھیں

احمدیت نے دنیا کو کیا دیا؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”خدا نے مجھے بھیجا ہے کہ تا مَیں اس بات کا ثبوت دوں کہ زندہ کتاب قرآن ہے اور زندہ دین اسلام ہے اور زندہ رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔“
(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 267، ایڈیشن1984ء)

مزید پڑھیں

اِلٰہی صحیفوں، صلحائے اُمت کی پیشگوئیوں کے تناظر میں بعثتِ حضرت مسیح موعودؑ

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’دنیا میں کوئی نبی نہیں گزرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا ۔سو جیساکہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے۔ میں آدمؑ ہوں، میں ابراہیمؑ ہوں، میں اسحاقؑ ہوں، میں یعقوبؑ ہوں، میں اسمٰعیلؑ ہوں، میں موسیٰؑ ہوں، میں داؤدؑ ہوں، میں عیسیٰ ابن مریم ؑ ہوں، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ یعنی بروزی طور پر جیسا کہ خدا نے اسی کتاب میں یہ سب نام مجھے دئیے اور میری نسبت جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء فرمایا یعنی خدا کا رسول نبیوں کے پیرایوں میں۔ سو ضرور ہے کہ ہر ایک نبی کی شان مجھ میں پائی جاوے اور ہر ایک نبی کی ایک صفت کا میرے ذریعہ سے ظہور ہو۔‘‘
)حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ521(

مزید پڑھیں

نظام وصیت۔روحانی،اخلاقی اور مادی ترقیات کا ذریعہ

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’جب وصیت کا نظام مکمل ہوگا تو صرف تبلیغ ہی اس سے نہ ہوگی بلکہ اسلام کے منشا کے ماتحت ہر فرد بشر کی ضرورت کو اس سے پورا کیا جائے گا اور دکھ اور تنگی کو دنیا سے مٹا دیا جائے گا انشاءاللہ۔ یتیم بھیک نہ مانگے گا ۔ بیوہ لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلائے گی۔ بے سامان پریشان نہ پھرے گا کیونکہ وصیت بچوں کی ماں ہوگی ، جوانوں کی باپ ہوگی ،عورتوں کا سہاگ ہوگی اور جبر کے بغیر محبت اور دلی خوشی کے ساتھ بھائی بھائی کو اس کے ذریعے سے مدد کرے گا اور اس کا دینا بے بدلہ نہ ہوگا بلکہ ہر دینے والا خداتعالی ٰسے بہتر بدلہ پائے گا ۔ نہ امیر گھاٹے میں رہے گا نہ غریب، نہ قوم قوم سے لڑے گی بلکہ اس کا احسان سب دنیا پر وسیع ہوگا۔‘‘
( نظامِ نو صفحہ130)

مزید پڑھیں

حضرت مسیح موعودؑ کی دعویٰ سے پہلے کی پاکیزہ اور مطہّر زندگی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’تم غور کرو کہ وہ شخص جو تمہیں اس سلسلہ کی طرف بلاتا ہے وہ کس درجہ کی معرفت کا آدمی ہے اور کس قدر دلائل پیش کرتا ہے اور تم کوئی عیب، افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہوگا۔ کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔ پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اُس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اور سوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے۔‘‘
(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 64)

مزید پڑھیں

نظام وصیت اور صحابہ و تابعین مسیح موعودؑ کی قربانیاں

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”عرصہ ہوا کہ خداتعالیٰ نے مجھ پر ظاہر کیا تھا کہ ایک بہشتی مقبرہ ہو گا گویا اس مَیں وہ لوگ داخل ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے علم اور ارادہ میں جنتی ہوں گے۔ پھر اس کے متعلق الہام ہوا۔ اُنْزِلَ فِیْھَا کُلَّ رَحْمَۃٍ ۔ اس سے کوئی نعمت اور رحمت باہر نہیں رہتی۔ اب جو شخص چاہتا ہے کہ وہ ایسی رحمت کے نزول کی جگہ میں دفن ہو کیا عمدہ موقع ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم کرے ۔ “
(ملفوظات جلد 5صفحہ 216)

مزید پڑھیں