چھوٹی چیزیں،بڑے نتائج(احادیث کی روشنی میں)
(احادیث کی روشنی میں)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اَلُسَّعِیْدُ مَنْ وُعِظَ بِغَیْرِہٖ
( چہل احادیث )
کہ نیک بخت ،خوش نصیب اور سعادت مند وہ ہے جو غیروں کے حال سے نصیحت پکڑے ۔
(احادیث کی روشنی میں)
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اَلُسَّعِیْدُ مَنْ وُعِظَ بِغَیْرِہٖ
( چہل احادیث )
کہ نیک بخت ،خوش نصیب اور سعادت مند وہ ہے جو غیروں کے حال سے نصیحت پکڑے ۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’خُلق کو پیدا کرنے کے لئے، رفق کے حسن کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے قُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْنًا (البقرۃ :84) یہ بات ہے اس پر عمل کرنا چاہئے۔ یہ ہے اسلام کے اعلیٰ خُلق کا معیار کہ لوگوں کو نیک باتیں کہو۔ پیار سے، ملاطفت سے پیش آؤ۔ لوگوں کو نیک باتیں کہنے کے لئے پہلے اپنے اندر بھی تو وہ نیکیاں پیدا کرنی ہوں گی، وہ خُلق پیدا کرنے ہوں گے تبھی تو اثر ہو گا۔ دوہرے معیار تو نیک نتیجے پیدا نہیں کرتے۔ پھر تعلیم دی دوسروں کے جذبات کا خیال رکھنے کی اور اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ خود پسندی میں مبتلا نہ ہوجاؤ۔ عین ممکن ہے کہ جس کو تم اپنے سے کم تر سمجھ رہے ہو وہ تمہارے سے بہتر ہوں۔ جب یہ احساس ہو گا تو پھر اپنے اندر بھی بہتر تبدیلیاں پیدا کرنے کی طرف توجہ پیداہو گی۔‘‘
(خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 4اپریل 2008ء )
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
” ہر ایک مدرسہ کے لیے جُدا جُدا ہیڈماسٹر ہیں۔ پس تمہیں چھٹی مدرسہ احمدیہ یا تعلیم الاسلام ہائی سکول میں جو پڑھائی ہوتی ہے اُس سے ملتی ہے لیکن اسلام جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدرسہ ہے۔ اُس کے احکام سے چھٹی نہیں ملتی ۔ اِس مدرسہ کے بانی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ….یہ کالج جو ہے یہ کسی انجمن کے سپرد نہیں اس کے پہلے پرنسپل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن آپ کو بھی اِس کے قواعد بنانے میں کوئی اختیار نہیں کیونکہ یہ وہ یونیورسٹی ہے جس کے تمام اصول و قواعد و احکام، خدا کی طرف سے آئے ہیں ۔“
(الفضل 12 اگست 1919ء)
حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”قرآن کریم پڑھنے کے بعد سوچنے کی عادت ڈالو اور سوچنے کے بعد اس پر عمل کرو۔اگر تم ایسا کروگے تو ایک زندہ فعال قوم نظر آنے لگ جاؤ گے۔ “
(تفسیر کبیر جلد 7 صفحہ 640 )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’قرآن شریف کی تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرے۔‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 285ایڈیشن 1988ء)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ہر فرمائش پوری کرتے تھے۔آپؓ سلیقہ شعار اور خوب صورت خاتون تھیں اور اس کے ساتھ قبولِ اسلام کے بعد آپؓ نے خود کو اسلام کے سانچے میں مکمل طور پر ڈھال لیا تھا.
مزید پڑھیںحضرت مسیح موعود علیہ السلام فر ماتے ہیں:
’’بیعت کے وقت توبہ کے اقرار میں ایک بر کت پیدا ہوتی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 174)
حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام نے جلسہ سالانہ میں شریک ہونے والوں کے حق میں یہ دُعا کی ہے۔
’’ہر یک صاحب جو ا س للہی جلسے کے لئے سفر اختیار کریں خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجرعظیم بخشے اور ان پر رحم کرے۔ اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہم و غم دور فرمائے۔ اور ان کو ہریک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے۔ اور ان کی مرادات کی راہیں ان پرکھول دیوے۔ اور روزِآخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پراس کا فضل ورحم ہے۔ تااختتام سفر ان کے بعد ان کاخلیفہ ہو‘‘
(اشتہار 7دسمبر 1892ء۔ مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ342)
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال دنیا کی جماعتیں اپنے اپنے ملک کا جلسہ سالانہ منعقد کرتی ہیں۔ کیوں؟اس لئے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اللہ تعالیٰ سے اذن پاکر اس کا اجراء فرمایا تھا اور فرمایا کہ سال میں تین دن قادیان میں جمع ہوں ۔اس لئے نہ جمع ہوں کہ ہم نے کوئی میلہ کرنا ہے، کوئی لہوو لعب کرنا ہے، کھیل کود کرنا ہے، دنیاوی مقاصد کو حاصل کرنا ہے ۔نہیں !بلکہ اس لئے جمع ہوں کہ دینی علم میں اضافہ ہو اور معلومات وسیع ہوں۔اس لئے جمع ہوں کہ معرفت ترقی پذیر ہو۔“
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
جان و دلم فدائے جمال محمد است
خاکم نثار کوچہٴ آل محمد است