آدابِ دعا (بزبانِ مبارک حضرت مسیح موعودؑ )
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”بہت سی دعاؤں کے ردّ ہونے کا یہ بھی سِرّ ہے کہ دعا کرنے والا اپنی ضعیف الایمانی سے دعا کو مسترد کرالیتا ہے۔“
(ملفوظات جلد2صفحہ702)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”بہت سی دعاؤں کے ردّ ہونے کا یہ بھی سِرّ ہے کہ دعا کرنے والا اپنی ضعیف الایمانی سے دعا کو مسترد کرالیتا ہے۔“
(ملفوظات جلد2صفحہ702)
قبولیت دعا کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بڑھ کر ہے۔ بلکہ اسبابِ طبیعہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم التاثیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔“
(برکات الدعا ،روحانی خزائن جلد6صفحہ11)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نےحضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کے بارے میں فرمایا:
’’نہایت یکرنگ اور صاف باطن اور خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول کی اتباع کو سب چیز سے مقدم سمجھتےہیں‘‘
ایک جنگ میں مسلمانوں کو سخت پیاس کا سامنا کرنا پڑا، پانی میسر نہ تھا۔حضرت عمر ؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست کی۔ آپؐ نے دعا کی، ’’اچانک ایک بادل اٹھا اور اتنا برسا کہ مسلمانوں کی ضرورت پوری ہو گئی اور پھر وہ بادل چھٹ گئے۔“
(الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ للقاضی عیاض جلد 1 صفحہ457)
حضرت جابرؓ کے والد حضرت عبداللہ ؓ شہید ہو گئے تھے جن کے ذمہ یہودی ساہوکاروں کا کچھ قرض تھا،جس کا وہ حضرت جابرؓ سے سختی کے ساتھ مطالبہ کر رہے تھے۔پتہ چلنے پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باغ میں تشریف لا کر دعا کی۔ اس دعا کی برکت سے کھجور کا اتنا پھل ہوا کہ قرض ادا کر کے بھی نصف کے قریب کھجور بچ رہی۔
(بخاری کتاب المغازی باب غزوہ احد و کتاب الاستقراض)
حضرت عائشہؓ کی ایک اور روایت ہے کہ
’’ایک رات میری باری میں آپؐ باہر تشریف لے گئے، مَیں پیچھے گئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ ایک کپڑے کی طرح آپؐ زمین پر پڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں:
سَجَدَکَ لَکَ سَوَادِیْ وَ خِیَالِی وَ آمَنَ لَکَ فُؤَادِیْ رَبّ ھٰذِہ یَدَایٰ وَ مَا جَنَیْتَ بِھَا عَلیٰ نَفْسِی یَا عَظِیْماً یُرجیٰ لِکُلِّ عَظِیمْ اِغْفِرْ لِذَنْبِّ الْعَظِیْم
(مجمع الزورائدا ھیشمی جلد2 صفحہ128)
کہ اے اللہ! تیرے لئے میرے جسم و جاں سجدے میں ہیں۔ میرا دل تجھ پر ایمان لاتا ہے۔ اے میرے رب! یہ میرے دونوں ہاتھ تیرے سامنے پھیلے ہیں اور جو کچھ مَیں نے ان کے ساتھ اپنی جان پر ظلم کیا وہ بھی تیرے سامنے ہے۔ اے عظیم! جس سے ہر عظیم بات کی امید کی جاتی ہے، عظیم گناہوں کو تو بخش دے۔“
پھر فرمایا:
’’اے عائشہ! جبریلؑ نے مجھے یہ الفاظ پڑھنے کے لیے کہا، تم بھی اپنے سجدوں میں یہ پڑھا کرو، جو شخص یہ کلمات پڑھے، سجدے سے سراٹھانے سے پہلے بخشا جاتا ہے۔“
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب رضی اللہ عنہ کی مشہور نعت عَلَیْکَ الصّٰلٰوۃُ عَلَیْکَ السَّلَامکے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جب سے مَیں نے ہوش سنبھالی ہے کبھی ایسی نعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نعتوں کے بعد نہ سنی، نہ دیکھی اور میرا خیال ہے کہ ہمیشہ کے لیے یہ نعت حضرت میر صاحبؓ .کو خراج تحسین پیش کرتی رہے گی۔‘‘
حضرت خلیفۃُ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”حسد ہمیشہ بُرانہیں ہوتا۔ بلکہ اگر نیکیوں کے حصول کے واسطے حسد کیا جائے تو وہ حسدِ محمود ہے۔“
(حقائق الفرقان جلد4 صفحہ 576)
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:
” آپؐ …تنہا غارِ حرا میں جاکر اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتے تھے…اللہ تعالیٰ کی محبت میں آپ اس قدر فنا ہو چکے تھے کہ آپ اس تنہائی میں ہی پوری لذّت اور ذوق پاتے تھے۔ایسی جگہ میں جہا ں کوئی آرام کا اور راحت کا سامان نہ تھا اور جہاں جاتے ہوئے بھی ڈرلگتا ہو آپ وہاں کئی کئی راتیں تنہاگزارتے تھے۔اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ کیسے بہادر اور شجاع تھے۔ “
(ملفوظات)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا جبکہ آدمی یہ پرواہ نہیں کرے گا کہ وہ جو کچھ حاصل کررہا ہے آیا کہ وہ حلال ہے یا حرام ہے۔
( صحیح بخاری ،سنن نسائی )