حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ ہمارے دوست اپنی زندگیاں وقف کریں اور مختلف پیشے سیکھیں۔ پھر ان کو جہاں جانے کے لیے حکم دیا جائے وہاں چلے جائیں اور وہ کام کریں جو انہوں نے سیکھا ہے۔ کچھ وقت اس کام میں لگے رہیں تاکہ اُن کے کھانے پینے کا انتظام ہوسکے اور باقی وقت دین کی خدمت میں صرف کریں۔ مثلاً کچھ لوگ ڈاکٹری سیکھیں کہ یہ بہت مفید علم ہے۔ بعض طب سیکھیں۔ اگرچہ طب جہاں ڈاکٹری پہنچ گئی ہے کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ مگر ابھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں طب کو لوگ پسند کرتے ہیں۔ اِسی طرح اور کئی کام ہیں۔ ان تمام کاموں کو سیکھنے سے ان کی غرض یہ ہو کہ جہاں وہ بھیجے جائیں وہاں خواہ ان کاکام چلے یا نہ چلے۔ لیکن کوئی خیال ان کو روک نہ سکے …میرے دل میں مدت سے یہ تحریک تھی لیکن اب تین چار دوستوں نے باہر سے بھی تحریک کی ہے کہ اِسی رنگ میں دین کی خدمت کی جائے پس مَیں اس خطبہ کے ذریعہ یہاں کے دوستوں اور باہر کے دوستوں کومتوجہ کرتا ہوں کہ دین کے لیے جوش رکھنے والے بڑھیں اور اپنی زندگیاں وقف کردیں۔ جو ابھی تعلیم میں ہیں اور زندگی وقف کرنا چاہتے ہیں۔ وہ مجھ سے مشورہ کریں کہ کس ہنر کوپسند کرتے ہیں۔ تا ان کے لیے اس کام میں آسانیاں پیدا کی جائیں۔ لیکن جو فارغ التحصیل تو نہیں لیکن تعلیم چھوڑ چکے ہیں۔ وہ بھی مشورہ کرسکتے ہیں‘‘
( خطبات محمود جلد5صفحہ611-610)
مزید پڑھیں