حضرت مسیح موعودؑ کی احباب جماعت کو نصائح (ملفوظات جلد2 ایڈیشن 1984ء) (تقریر نمبر3)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ تم وُہ ایمان پیدا کروجو ابو بکر رضی اللہ عنہ اور صحابہ کا ایمان تھا۔ رضی اللہ عنہم۔ کیونکہ اس میں حُسنِ ظنّ اور صبر ہے اور وہ بہت سے برکات اور ثمرات کا منتج ہے اور نِشان دیکھ کر ماننا اور ایمان لانا اپنے ایمان کو مشرُوط بنانا ہے ۔ یہ کمزور ہوتا ہے اور عموماً باروَر نہیں ہوتا۔ ہاں جب انسان حُسنِ ظنّ کے ساتھ ایمان لاتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایسے مومن کو وُہ نِشان دکھاتا ہے جو اُس کے ازدیادِ ایمان کا مُوجب اور انشراح صدر کا باعِث ہوتے ہیں خود اُن کو نشان اور آیتُ اللہ بنادیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اقتراحی نشان کسی نبی نے نہیں دکھلائے ۔مومن صادق کو چاہئے کہ کبھی اپنے ایمان کونشان بینی پر مبنی نہ کرے ۔“
(ملفوظات جلد دوم صفحہ 94 -95 )
