مساجد کے آداب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر فرمایا کہ
” سب سے اہم عمارات مساجد ہیں۔ مسجد کے ماحول کو پھولوں ،کیاریوں اورسبزے سے خوبصورت رکھنا چاہیے… اِس کے ساتھ ہی مسجد کے اندر کی صفائی کا بھی خاص اہتمام ہونا چاہیے۔“
( خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 272)

مزید پڑھیں

نازک ترین معاملہ زبان سے ہے (مسیح موعودؑ)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
” نرمی کی عادت ڈالنا تا کہ خدا تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔ ورنہ اگر تم خدا تعالیٰ کی مخلوق پر درشتی کرتے ہو تو تم بھی اپنے آپ کو اس بات کا حق دار بناتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم پر بھی درشتی کرے “
(انوار العلوم جلد 5 صفحہ 436 )

مزید پڑھیں

قُوْلُوْا قَوْلاً سَدِیْداً (خلاصہ خطبہ جمعہ حضورِ انورایدہ اللہ فرمودہ 21؍ جون 2013ء ) ( تقریر نمبر2)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:
’’انسان کو دقائق تقویٰ کی رعایت رکھنی چاہئے۔ سلامتی اسی میں ہے کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں کی پروا نہ کرے تو پھر ایک دن وہی چھوٹی چھوٹی باتیں کبائر کا مرتکب بنادیں.گی اور طبیعت میں کسل اور لاپروائی پیدا ہوکرہلاک ہو جائے گا ۔ تم اپنے زیرِ نظر تقویٰ کے اعلیٰ مدارج کو حاصل کرنا رکھو اور اس کے لئے دقائقِ تقویٰ کی رعایت ضروری ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 442 ایڈیشن 2003ء)

مزید پڑھیں

قُوۡلُوۡا قَوۡلًا سَدِیۡدًا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام قولِ سدید کی تشریح میں فرماتے ہیںکہ
’’وہ بات منہ پر لاؤ جو بالکل راست اور نہایت معقولیت میں ہو اور لغو اور فضول اور جھوٹ کا اس میں سرِمُو دخل نہ ہو۔‘‘
(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1صفحہ209-210حاشیہ نمبر11)

مزید پڑھیں

معاشرتی اور اخلاقی زوال کے اسباب

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
’’آج کل دنیا میں یہی حالات ہیں۔ کاروباروں میں بدعہدی ہے۔ روزمرہ کے معاملات میں بدعہدی ہے۔ قومی سطح پر اتنی بدعہدی ہے کہ اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ایک تجارت کا معاہدہ کرتے ہیں اور اس میں اتنی خیانت اور بدعہدی ہے کہ تصور سے باہر ہے۔ کسی نے مجھے بتایا بلکہ ایک کاروبار کرنے والے نے ہی بتایا کہ پاکستان سے ہم جواچھا باسمتی چاول دنیا کو بھیجتے ہیں اُس کے درمیان میں ہم نے ایک ایسا طریقہ رکھا ہوا ہے جس میں اِری جو باسمتی چاول نہیں ہوتا، موٹے چاول کی ایک قسم ہے لیکن اتنا موٹا بھی نہیں ہوتا‘ وہ اس طریقے سے ڈالتے ہیں کہ کسی کو پتہ بھی نہ چلے اور یہ کوئی پرواہ نہیں کہ اگر پتہ لگ جاتا ہے تو اس سے ان کی تجارت پر بھی اثر پڑے گا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک کی بدنامی ہو گی۔ پھر اسی طرح اور بہت سے کام ہیں جو کئے جاتے ہیں۔ یعنی یہ صرف بدعہدی نہیں ہے بلکہ خیانت بھی ہے، جھوٹ بھی ہے۔ صرف چار پیسے کمانے کے لئے یہ بد عہدی کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘
(خطبہ جمعہ 4 فروری 2011ء)

مزید پڑھیں

اسلامی تہوار اور تقریبات

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’یہ گوشت اور خون جو تم نے جانور کو ذبح کر کے حاصل کیا ہے اور بہایا ہے اگر یہ تقویٰ سے خالی ہے اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے مقصد سے خالی ہے تو اللہ تعالیٰ کو اِن مادی چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ تو یہ ظاہری قربانی کی روح تم میں پیدا کرنا چاہتا ہے ۔ جب تم جانوروں کو ذبح کرو تو تمہیں یہ احساس ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک حکم پورا کروانے کے لیے اس جانور کو میرے قبضہ میں کیا ہے اور مَیں نے اس کی گردن پر چُھری پھیری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت ابراہیم ؑ کی سنت پر عمل کرنے کی توفیق دی ہے ۔ اللہ تعالٰی نے مجھے توفیق دی ہے کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی کی ……تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب اس نیت سے قربانی کر رہے ہو تقویٰ کی راہوں پر چلتے ہوئے قربانی کرو گے تو یہ قربانی مجھ تک پہنچے گی تو جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ روح ہے جس کے ساتھ اللہ کے حضور قربانیاں پیش ہونی چاہئیں ۔ ‘‘
( خطبہ عید الاضحہ 21جنوری 2005ء)

مزید پڑھیں

اولاد دین کی پہلوان ہو (سیرت حضرت مسیح موعودؑ کے تناظر میں )

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں:
مَیں بچپن میں اکثر دیکھتا کہ حضورؑ تہجد میں لمبی لمبی دعائیں کرتے اور اپنے بچوں کے لیے بھی بہت دعا کیا کرتے۔ کئی دفعہ مَیں نے سنا کہ حضور دعا میں روتے ہوئے یہ الفاظ دہرا رہے ہیں کہ
”اے اللہ! میری اولاد کو اپنا صالح بندہ بنا دے۔“

مزید پڑھیں

اِسۡتِیۡنَاس کیا ہے اور اس کے آداب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ :
” دوسرے گھروں میں وحشیوں کی طرح خود بخود بے اجازت نہ چلے جاؤ۔ اجازت لینا شرط ہے اور جب تم دوسروں کے گھروں میں جاؤ تو داخل ہوتے ہی السلام علیکم کہو اور اگر ان گھروں میں کوئی نہ ہو تو جب تک کوئی مالک خانہ تمہیں اجازت نہ دے اُن گھروں میں مت جاؤ اور اگر مالک خانہ یہ کہے کہ واپس چلے جاؤ توتم واپس چلےجاؤ۔“
( اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 336)

مزید پڑھیں