کائنات اور ایک خدا

حضور انور ایدہ اللہ نے امریکہ کے شہرزائن (Zion) میں مسجد فتح عظیم کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا :
’’آج سے ایک سو بیس سال پہلے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر جس جھوٹے دعویدار اور دشمنِ اسلام کی ہلاکت کی پیش گوئی آپؑ نے فرمائی تھی آج اس کے شہر میں جس کے بارے میں اس کا اعلان تھا کہ کوئی مسلمان یہاں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ عیسائی نہیں ہو جاتا اللہ تعالیٰ نے جماعت کو مسجد بنانے کی توفیق دی۔
پس یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے کام۔ ایک ارب پتی اور دنیاوی جاہ و حشمت رکھنے والے کو اللہ تعالیٰ نے جھوٹا کر دیا، ختم کر دیا اور پنجاب کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والے اپنے فرستادے کا دعویٰ جو اسلام کی نشأة ثانیہ کے ساتھ کیا گیا تھا۔ دنیا کے دو سو بیس ممالک میں گونجنے کے سامان پیدا کر دیے۔‘‘
( خطبہ جمعہ فرمودہ 30ستمبر2022 ء)

مزید پڑھیں

تربیتِ اولاد

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
’’قرآن مجید نے جو لَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَکُمْ یعنی اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ،کے الفاظ فرمائے ہیں اِن میں بھی اِسی حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ اگر تم اپنے بچوں کی عمدہ تربیت اور اچھی تعلیم کا خیال نہیں رکھو گے تو گویا اِنہیں قتل کرنے والے ٹھہرو گے۔‘‘
(چالیس جواہرپارے صفحہ نمبر 65)

مزید پڑھیں

اسلامی مطمح نظر

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”ہر شخص کی کوئی نہ کوئی جہت ہوتی ہے۔ یا ہر شخص کا کوئی نہ کوئی نصب العین ہوتا ہے جس پر وہ اپنی تمام توجہات کو مرکوز کردیتا ہے اور جسے زندگی بھر اپنے سامنے رکھتا ہے اور پورے انہماک اور توجہ سے اُسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر لوگ تو اپنے مقاصد اپنے لئے خود تجویز کرتے ہیں ۔ لیکن ہم اُمّت محمدیہ پر رحم کرتے ہوئے خود ہی ایک بلند ترین مطمح نظر اُس کے سامنے رکھتے ہیں اور ہدایت دیتے ہیں کہ فَاسۡتَبِقُوا الۡخَیۡرٰتِ۔ تمہارا مطمح نظر یہ ہونا چاہئے کہ تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔ اس جگہ نیکیوں میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرنے کی تحریک فرما کر اللہ تعالیٰ نے قومی ترقی کاایک عجیب گُر بتایا ہے۔ “
(تفسیر کبیر جلد 2صفحہ 253)

مزید پڑھیں

”استغفار کلیدِ ترقیاتِ روحانی ہے“ ( مسیح موعودؑ)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”استغفار کے حقیقی اور اصلی معنے یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔ یہ لفظ غَفْر سے لیا گیا ہے جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں سو اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ شخص مُسْتَغْفِرکی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے۔ لیکن بعداس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنے اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد لیا گیا کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈھانک لے۔ لیکن اصل اور حقیقی معنی یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے علم عطا کرے اور اپنی روشنی سے روشنی دے۔“
(عصمتِ انبیاء علیھم السلام، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 671)

مزید پڑھیں

بد تر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں (تقریر نمبر3)

آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِی قَلْبِہٖ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ مِنْ کِبْرٍ
( مشکوٰۃ کتاب الادب)
یعنی جس شخص کے دل میں ذرہ بھر تکبّر ہے وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

مزید پڑھیں

بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں (تقریر نمبر 2)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لوگوں کے لیے آسانی مہیا کرو- ان کے لیے مشکل پیدا نہ کرو اور اچھی خبر ہی دیا کرو اور لوگوں کومایوس نہ کرو‘‘
(مسلم کتاب الجھاد(

مزید پڑھیں

اسلام کا ایک بنیادی وصف ۔ سچائی

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
”یقیناً یاد رکھو! جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں ۔ مگر مَیں کیوں کر اس کو باور کروں ۔ مجھ پر 7 مقدمے ہوئے ہیں اور خدا کے فضل سے کسی میں بھی ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی “
(ملفوظات جلد 4 صفحہ 238)

مزید پڑھیں

غصّہ پر قابو پانا

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو کہ عقل اور جوش میں خطرناک دشمنی ہے۔جب جوش اور غصّہ آتا ہے تو عقل قائم نہیں رہ سکتی۔ لیکن جو صبر کرتا ہے اور بردباری کا نمونہ دکھاتا ہے اس کو ایک نور دیا جاتا ہے جس سے اس کی عقل و فکر کی قوتوں میں ایک نئی روشنی پیدا ہو جاتی ہے اور پھر نور سے نور پیدا ہوتا ہے۔ غصّہ اور جوش کی حالت میں چونکہ دل و دماغ تاریک ہوتے ہیں اس لئے پھر تاریکی سے تاریکی پیدا ہوتی ہے۔‘‘
(ملفوظات جلد سوم صفحہ 180)

مزید پڑھیں

کھانے کے آداب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
” انسان کے کھانے پینے کے طریق بھی انسان کی اخلاقی اور روحانی حالتوں پر بھی اثر کرتے ہیں۔ اس واسطے قرآن شریف نے تمام عبادات اور اندرونی پاکیزگی کی اغراض اور خشوع و خضوع کے مقاصد میں جسمانی طہارتوں اور جسمانی آداب اور جسمانی تعدیل کو بہت ملحوظ رکھا ہے اور غور کرنے کے وقت یہی فلاسفی نہایت صحیح معلوم ہوتی ہےکہ جسمانی اوضاع کا روح پر بہت قوی اثر ہے۔ “
(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ 18-19)

مزید پڑھیں

آؤ بچو! لغویات سے کیسے بچیں؟

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
”مومن صرف وہی لوگ نہیں ہیں جو نماز میں خشوع اختیار کرتے ہیں اور سوزوگداز ظاہر کرتے ہیں بلکہ ان سے بڑھ کر وہ مومن ہیں کہ جو باوجود خشوع اورسوزو گداز کے تمام لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو تعلقوں سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں اور اپنی خشوع کی حالت کو بیہودہ کاموں اور لغو باتوں کے ساتھ ملا کر ضائع اور برباد ہونے نہیں دیتے اور طبعاً تمام لغویات سے علیحدگی اختیار کرتے ہیں اور بیہودہ باتوں اور بیہودہ کاموں سے ایک کراہت اُن کے دلوں میں پیدا ہوجاتی ہے … پس دنیا کی لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغو سیرو تماشا اور لغو صحبتوں سے واقعی طور پر اُسی وقت انسان کا دل ٹھنڈا ہوتا ہے جب دل کا خدائے رحیم سے تعلق ہو جائے اور دل پر اس کی عظمت اور ہیبت غالب آجائے۔ خدا پرایمان لا کر ہر ایک لغو بات اور لغو کام اور لغو مجلس اور لغو حرکت اور لغو تعلق اور لغو جوش سے کنارہ کشی کی جائے۔“
( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد21 صفحہ199۔200)

مزید پڑھیں